تاحیات نااہلی کے بعد نواز شریف کو ایک اور بڑا جھٹکا ، 21 اپریل کو میاں صاحب کے خلاف کونسی بڑی کارروائی ہونے والی ہے؟تازہ ترین خبر آگئی

لاہور(ویب ڈیسک)نیب نے میاں نواز شریف کو بطور وزیراعظم اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزام میں تفتیش کے لیے طلب کرلیا۔تفصیلات کے مطابق کےمطابق قومی احتساب بیورو (نیب) لاہور نے سابق وزیراعظم نوازشریف کو اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزام میں 21 اپریل کو طلب کیا ہے۔نیب کے مطابق نوازشریف نے بطور وزیراعظم اختیارات

کا ناجائز استعمال کرکے جاتی امرا تک سڑک تعمیر کرائی اور ان کے حکم پر سڑک کی چوڑائی 20 فٹ سے 24 فٹ کی گئی جس سے لاگت بڑھی۔نیب کا کہناہےکہ نواز شریف کےحکم سے ضلع کونسل کےعوامی منصوبے بند کرنے پڑےجس سے عوام کا نقصان ہوا۔نیب کی جانب سے میاں نوازشریف کو 21 اپریل کی صبح 11 بجے طلب کرتے ہوئے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہونے کا کہا گیا ہے۔واضح رہے کہ نوازشریف سمیت مریم نواز اور ان کے شوہر کیپٹن (ر) صفدر کے خلاف نیب ریفرنسز بھی اسلام آباد کی احتساب عدالت میں زیر سماعت ہیں۔ واضح رہے کہ اس سےقبل سپریم کورٹ آف پاکستان نے آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت ارکان پارلیمنٹ کی نااہلی کی مدت کی تشریح سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا، جس کے تحت یہ نااہلی تاحیات ہوگی۔چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس عظمت سعید شیخ، جسٹس عمر عطاء بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس سجاد علی شاہ پر مشتمل 5 رکنی لارجر بنچ نے مذکورہ کیس کی 10 سماعتوں کے بعد 14 فروری 2018 کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔آج جسٹس عمر عطا بندیال نے محفوظ کیا گیا فیصلہ پڑھ کر سنایا، فیصلے کے وقت لارجر بینچ میں شامل 4 ججز عدالت کے

کمرہ نمبر 1 میں موجود تھے۔جسٹس سجاد علی شاہ اسلام آباد میں نہ ہونے کے باعث شریک نہ ہوسکے۔60 صفحات پر مشتمل عدالتی فیصلے میں کہا گہا کہ ‘جو شخص صادق اور امین نہ ہو اسے آئین تاحیات نااہل قرار دیتا ہے اور جب تک عدالتی ڈیکلریشن موجود ہے، نااہلی رہے گی’۔عدالت کا اپنے فیصلے میں کہنا تھا کہ ‘آئین کے تحت تاحیات پابندی امتیازی، کسی سے زیادتی یا غیر معقول نہیں بلکہ امیدوار کی اہلیت پر آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت پابندی عوامی ضرورت اور مفاد میں ہے’۔عدالتی فیصلے میں مزید کہا گیا کہ ‘آرٹیکل 62 ون ایف اس لیے ہےکہ دیانتدار، سچے، قابل اعتبار اور دانا افراد عوامی نمائندے بنیں’۔عدالت کے تحریری فیصلے کے مطابق ‘آرٹیکل 62 ون ایف کا اطلاق مسلم اور غیر مسلم دونوں پر ہوگا’۔ فیصلے کے مطابق ‘اخلاقی جرائم بھی 62 ون ایف کے زمرے میں آتے ہیں جبکہ اخلاقی جرائم میں دھوکہ دہی، اعتماد توڑنا اور بے ایمانی شامل ہیں’۔عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ ‘آرٹیکل 62 ون ایف میں پارلیمنٹ نے مدت کا تعین نہیں کیا اور آئین میں جہاں نااہلی کی مدت کاتعین نا ہو، وہاں نااہلی تاحیات سمجھی جاتی ہے’۔فیصلے میں کہا گیا کہ ‘نظرثانی درخواستوں کو دیگر بینچز میں سماعت کے لیے مقرر کیا جائے اور بینچز طے شدہ اصول کے مطابق فیصلہ کریں’۔