امپائرز نے زرداری کو گرین سگنل دے دیا ،خالی ہاتھ رہ جانے پر عمران خان مایوس ۔۔۔ایک انکشاف نے پورے ملک میں تہلکہ مچا دیا

کراچی(ویب ڈیسک )سینئر تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ عدالت کے ریمارکس اور بیانات نہیں فیصلہ اہم ہوتا ہے، چیف جسٹس پی آئی اے تباہ کرنے والوں کو دشمن اور غدار کہہ رہے ہیں تو اس پر فیصلہ بھی ہونا چاہئے،پی آئی اے برباد کرنے والے نااہل ہوسکتے ہیں مگر ملک دشمن یا غدار نہیں ، سپریم کورٹ پی آئی اے

کی نجکاری کروا کر ملک کے اوپر احسان کرسکتی ہے،امپائروں کے آصف زرداری کو فرنٹ سیٹ سونپنے کے بعد سے عمران خان مایوس ہیں، عمران خان نے جب خود اپنے ایم پی ایز کو دودو کروڑ رشوت دی تو اب کیا بات کرتے ہیں،عمران خان سینیٹ الیکشن میں ووٹ بیچنے والوں کو نہیں نکال سکیں گے لوگ خود انہیں چھوڑ کر جاتے رہیں گے، عمران خان کی سیاست اس وقت کسمپرسی کا شکار ہے۔ان خیالات کا اظہار مظہر عباس، حفیظ اللہ نیازی، شہزاد چوہدری، بابر ستار، افتخار احمد اور ارشاد بھٹی نے نجی ٹی وی کے پروگرام ”رپورٹ کارڈ“ میں میزبان عائشہ بخش سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ میزبان کے پہلے سوال ظالم ہیں، دشمن ہیں، غدار ہیں، جنہوں نے پی آئی اے کو برباد کیا، چیف جسٹس، کیا چیف جسٹس کا بیان درست ہے؟ کا جواب دیتے ہوئے بابر ستار نے کہا کہ پی آئی اے خسارے میں جانے کی بہت سی وجوہات ہیں، عدالت کسی ادارے کا مالی خسارہ ختم نہیں کرسکتی البتہ اس کے ذمہ داروں کی نشاندہی کرسکتی ہے۔شہزاد چوہدری نے کہا کہ پی آئی اے کارپوریشن ہے جسے کارپوریٹ انداز میں چلنا چاہئے مگر نہیں چلتی ہے، پی آئی اے میں بہت زیادہ لوگ بھرتی ہیں فی جہاز

ساڑھے چار سو لوگ ملازمین ہیں، کوئی سیاسی جماعت پی آئی اے کی نجکاری کرنے کیلئے تیار نہیں ہے، پی آئی اے کی نجکاری کر کے کارپوریٹ بزنس ماڈل دیا جائے، چیف جسٹس کو پی آئی اے اور دیگر اداروں کے بارے میں کافی کچھ سمجھنے کی ضرورت ہے۔افتخار احمد کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سیاسی بنیادوں پر ادارے تباہ کردیئے گئے ہیں، سول بیوروکریسی کا حال بہت برا ہے، حکومتی اداروں میں لوگوں کو تنخواہ لاکھوں میں دی جارہی ہے لیکن وہ کام ہزاروں کا بھی نہیں کررہے ہیں، عدالتیں اس قسم کے معاملات پر ذمہ داران کو شاباش تو نہیں دیں گی۔ارشاد بھٹی نے کہا کہ چیف جسٹس نے بالکل درست کہا ہے ملکی معیشت اور اداروں کو تباہ کرنے والے ملک کے دشمن اور غدارہیں۔حفیظ اللہ نیازی نے کہا کہ پی آئی اے برباد کرنے والے نااہل اور نالائق ہوسکتے ہیں مگر ملک کے دشمن یا غدار نہیں ہیں، سپریم کورٹ پی آئی اے کی نجکاری کروا کر ملک کے اوپر احسان کرسکتی ہے۔مظہر عباس کا کہنا تھا کہ عدالت کے ریمارکس اور بیانات نہیں فیصلہ اہم ہوتا ہے، اداروں کی تباہی کی بڑی وجہ خراب مینجمنٹ ہے، پاکستان ریلوے اس وقت تباہ ہوئی جب اس سے لاجسٹکس لے لی گئیں،

تمام سیاسی جماعتوں کی نظریں اسٹیل مل کی 19ہزار ایکڑ زمین پر ہیں، چیف جسٹس ادارے تباہ کرنے والوں کو دشمن اور غدار کہہ رہے ہیں تو اس پر فیصلہ بھی ہونا چاہئے۔دوسرے سوال پارٹی میں اتفاق رائے پیدا کیا جائے کہ بیانیہ ہے کیا، اس کے بعد پارٹی بیانیے کو لے کر آگے چلا جائے۔چوہدری نثار، کیا شہباز شریف کے صدر بننے کے بعد یہ بحث پارٹی میں ممکن ہے؟ کا جواب دیتے ہوئے ارشاد بھٹی نے کہا کہ شہباز شریف کی ن لیگ میں وہی حیثیت ہے جو پاکستان میں صدر ممنون حسین کی ہے، شہباز شریف کے اختیارات کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ وہ اپنی بات نواز شریف کو پہنچانے کیلئے گھر کے افراد کا سہارا لے رہے ہیں اور مولانا فضل الرحمن کو باربار ان کے پاس بھیج رہے ہیں کہ بھائی جان کو یہ سمجھائیں، مریم نواز نے بھی شاہد خاقان عباسی کو گرین سگنل دیدیا ہے کہ اگر ہم جیتے تو اگلے وزیراعظم آپ ہوں گے، ن لیگ میں نہ اتفاق رائے پیدا ہوسکتا ہے نہ کوئی بیانیہ چل سکتا ہے، نواز شریف غم و غصے میں سارے بیانیے بھول چکے ہیں، چوہدری نثار اور ان کا بیانیہ ن لیگ سے بہت دور جاچکا ہے۔