امریکہ اور اتحادیوں کا شام پر حملہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم کے بعد امریکا اور اس کے اتحادیوں نے شام پر حملہ کر دیا ہے۔
امریکی محکمۂ دفاع کے حکام نے تین اہداف کا ذکر کیا ہے جنھیں نشانہ بنایا گیا ہے
1۔ دمشق کا سائنسی تحقیقی ادارہ جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہاں کیمیائی ہتھیار تیار کیے جاتے ہیں۔
2۔ حمص شہر کے مغرب میں واقع کیمیائی ہتھیار رکھنے کا مرکز
3۔ حمص کے نزدیک ہی کیمیائي ہتھیاروں کے ساز و سامان رکھنے کی جگہ اور اہم کمانڈ پوسٹ
شامی ٹی وی نے بتایا ہے کہ شام کی حکومتی افواج نے کئی درجن میزائلوں کو تباہ کر دیا ہے۔
 
‘کم از کم چھ زور دار دھماکے سنے گئے ہیں’
روئٹرز نے ایک عینی شاہد کے حوالے سے بتایا کہ دارالحکومت دمشق میں ‘کم از کم چھ زور دار دھماکے سنے گئے ہیں۔’
شام کے سرکاری ٹی وی نے بھی حملے کی تصدیق کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ملک کے فضائی دفاعی نظام کو سرگرم عمل کر دیا گيا ہے۔
’ہم یہ جوابی کارروائی اس وقت تک جاری رکھنے کے لیے تیار ہیں۔۔۔‘
اس حملہ کا اعلان کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ’ہم یہ جوابی کارروائی اس وقت تک جاری رکھنے کے لیے تیار ہیں جب تک شامی حکومت ممنوعہ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال نہیں روکتی۔‘
انھوں شام کے صدر بشار الاسد کے بارے میں کہا کہ ‘یہ کسی انسان کا کام نہیں ہے بلکہ اس کے برعکس یہ ایک عفریت کے جرائم ہیں۔’
ایک امریکی اہلکار نے خبررساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ شام میں مختلف مقامات کو نشانہ بنانے کے لیے ٹوماہاک کروز میزائل کا استعمال کیا جا رہا ہے۔
شام کی ’کیمیائی ہتھیاروں کی فیکٹریوں‘ پر حملہ
امریکہ نے شام میں کیمیائی ہتھیاروں کی سائٹوں پر برطانیہ اور فرانس کے اشتراک میں میزائل حملے کر دیے ہیں۔
امریکہ نے بظاہر یہ اقدام شام کی جانب سے دوما پر مبینہ کیمیائی حملے کے جواب میں اٹھایا ہے۔ اس وقت اطلاعات کے مطابق شامی دارالحکومت دمشق کے اردگرد شدید دھماکوں کی گونج سنی جا سکتی ہے۔
برطانیہ کی جانب سے چار ٹورنیڈو جیٹ طیارے بھیجے گئے
برطانوی وزارت دفاع نے بتایا ہے کہ چار ٹورنیڈو جیٹ طیاروں سے کیے جانے والے برطانوی حملے میں حمص شہر کے پاس ایک فوجی ٹھکانے کو نشانہ بنایا گيا ہے۔ اس فوجی ٹھکانے کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہاں کیمیائی ہتھیار بنانے کے سامان رکھے ہوئے ہیں۔
امریکہ، فرانس اور برطانیہ کا حملہ: ’ون ٹائم ہٹ‘ تھی
امریکی وزیرِ دفاع جیمز میتھس نے واشنگٹن میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ فلحال یہ ایک ’ون ٹائم ہٹ‘ تھی۔
’کیمیائی حملے کا ڈراما غیر ملکی خفیہ ایجنسی کی مدد سے رچایا گیا‘
گذشتہ روز روسی وزیرِ خارجہ سرگے لاوروف کا کہنا تھا کہ اس کے پاس ناقابل تردید شواہد موجود ہیں کہ دوما میں ہونے والے مبینہ کیمیائی حملے کا ڈراما غیر ملکی خفیہ ایجنسی کی مدد سے رچایا گیا۔ اس سے قبل روس نے متنبہ کیا تھا کہ اگر امریکہ نے شام میں مبینہ کیمیائی حملے کے جواب میں فضائی حملے کیے تو دونوں ممالک کے درمیان جنگ ہو سکتی ہے۔
’سرد جنگ کا آغاز‘
اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گرتیرس نے کہا ہے کہ ’سرد جنگ کا آغاز‘ پھر ہو گیا ہے۔
انتونیو گرتیرس نے شام کے حوالے سے بڑھتے ہوئے خطرات کے بارے میں بھی خبردار کیا۔
واضح رہے کہ انتونیو گرتیرس کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب شام کے شہر دوما میں ہونے والے مبینہ کیمیائی حملے کے حوالے سے امریکہ اور روس کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے۔