امریکا اور اتحادیوں کو شام پر حملے کے ‘نتائج’ بھگتنا ہوں گے: روس

روس نے امریکا اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے شام پر حملے پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں اس کے ‘نتائج’ بھگتنا ہوں گے۔
امریکا میں تعینات روس کے سفیر اناطولی انٹونوو نے اپنے سوشل میڈیا پیغام میں کہا کہ یہ حملہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب شام میں پر امن مستقبل کا موقع نظر آرہا تھا، امریکا اور اس کے اتحادیوں کو حملے کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔
روسی سفیر کا مزید کہنا تھا کہ شام پر امریکی اتحاد کا حملہ کھلی جارحیت ہے، امریکی حملوں کا جواب ہرحال میں دیا جائے گا۔
اپنے بیان میں روسی سفیر نے کہا کہ روسی صدر ولادی میر پیوٹن کی توہین ناقابل قبول ہے اور کیمیائی ہتھیاروں کا سب سے بڑا ذخیرہ رکھنے والے ملک امریکا کو دیگر ممالک کو اخلاقیات کا درس دینے کا کوئی حق نہیں ہے۔
روس کی وزارت خارجہ کی ترجمان نے بھی ایک بیان میں کہا کہ شامی حکومت کو اخلاقیات کا سبق سکھانے والے خود کو اس سے ماورا سمجھتے ہیں۔
واضح رہے کہ امریکا نے نہتے شہریوں پر شامی فوج کے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کو جواز بناکر برطانیہ اور فرانس کی مدد سے شام پر حملہ کردیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رات گئے اپنے خطاب میں شام کے خلاف فوجی کارروائی کا اعلان کیا، جس کے ساتھ ہی شامی دارالحکومت دمشق میں کئی دھماکے سنے گئے اور امریکا کے ٹام کروز اور برطانیہ کے اسٹروم شیڈو میزائلز نے دمشق اور حمص کے قریب مختلف فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔
امریکا اور اس کے اتحادیوں کا موقف ہے کہ شام میں کیمیائی حملوں پر بشار الاسد حکومت کو روس کی حمایت حاصل ہے۔
گذشتہ دنوں امریکی صدر کی جانب سے ماسکو کو خبردار بھی کیا گیا کہ وہ جلد یا تاخیر سے حملے کے لیے تیار رہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروو نے کہا تھا کہ شام میں غیر ملکی ایجنٹس کی مدد سے کیمیائی حملے کا ڈرامہ رچایا گیا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکا میزائل حملے کی بات کرکے جنگ کو دعوت دے رہا ہے اور جس جگہ سے شام پر حملہ ہوگا، روس اسی جگہ کو نشانہ بنائے گا۔