تمام اداروں کی عزت ہونی چاہیے لیکن ہماری بھی عزت ہے: سعد رفیق

وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کا کہنا ہےکہ تمام اداروں کی عزت ہونی چاہیے لیکن ہماری بھی عزت ہے۔
سپریم کورٹ میں ریلوے میں مبینہ کرپشن کے کیس کے سلسلے میں وزیر ریلوے سعد رفیق عدالت میں پیش ہوئے تھے۔
سپریم کورٹ لاہور رجسٹری کےباہر میڈیا سے گفتگو میں خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ ’ملک میں جتنی آمریتیں آئیں میرے خاندان نے ان کا سامنا کیا، میں ضیاء کے ساتھیوں میں شامل نہیں‘۔
انہوں نے کہا کہ ’ریلوے کےلیے بہت کوشش کی ہے لیکن آج بہت بددل ہوں اور اس کا اعتراف کرتا ہوں، میرے ساتھ افسران کی ٹیم نے بہت دل و جان سےکام کیا، زیادہ بات نہیں کرنا چاہتا پھر کسی بات کو پکڑا جائے گا‘۔
وزیر ریلوے کا کہنا تھا کہ ’عدالت میں نیک نیتی سے آئے، ریلوے پر بات کرنے آئے تھے اور اسی پر بات کرنا چاہتے ہیں، جب ہمیں ریلوے ملا تو 18 ارب کماتا تھا اور ساڑھے 30 ارب کا خسارہ تھا، آج ریلوے 50 ارب کما رہا ہے اور 35 ارب کا خسارہ ہوگا، کیسےکوئی سوچ سکتا ہے بہتری نہیں آئی‘۔
سعد رفیق نے کہا کہ ’جتنی برانچ ٹرین چلتی ہے اس میں غریب آدمی بیٹھتا ہے، اگر برانچ لائن ختم کردیں تو خسارہ ختم ہوجائے گا، ریلوےمیں بعض ایسے لوگ بھی سفر کرتے ہیں جن کی جیب میں پیسے نہیں ہوتے‘۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارےکئی شعبوں میں لوگ زیادہ تعداد میں موجود ہیں لیکن ہم نے کوئی چھانٹی نہیں کی اور کوئی ٹرین بھی بند نہیں کی، مال گاڑیاں بڑھائیں اور ٹرینوں کی حالت بہتر کی، ٹرین ٹائم پر نہیں چلتی تھی لیکن اب 75 فیصد ٹائم پر لے آئے ہیں‘۔
انہوں نےبتایا کہ ’ریلوے کے مسافروں میں ایک کروڑ 40 لاکھ کا اضافہ ہوا، اب موبائل فون سے بھی ٹکٹ لے سکتے ہیں، ریلوے کی زمینیں لاوارث تھیں ہم نے انہیں ڈیجیٹائز کیا، ریلوے کے کارخانے بند تھے اب وہ چل رہے ہیں، کیریج میں جہاں چار بوگیاں نہیں بنتی تھیں وہاں ایک ہزار کےقریب بوگیاں بنائیں‘۔
وزیر ریلوے نے کہا کہ ’یہ سارا کریڈٹ میرا نہیں مزدوروں کا ہے، دیانتدار افسران کا ہے، ریلوے کے افسر بتاتے نہیں تھے ہم ریلوے میں ہیں لیکن اب وہ فخر سے بتاتے ہیں‘۔
وزیر ریلوے کا کہنا تھاکہ ’عدالت میں کھلے ذہن کےساتھ آئے، کسی محاذ آرائی کے حامی نہیں لیکن یہ نہیں کہ ہمیں تکلیف نہیں ہوتی، ہم نے بہت خلوص سے کام کیا، اب انتظار کروں گا کوئی میرے بعد آکر اتنےعرصےمیں اتنا کام کرے، میں تنخواہ نہیں لیتا اور ٹی اے ڈی اے نہیں لیتا، کھانا گھر سےآتا ہے، جو کرسکتا تھا کیا ہے‘۔
سعد رفیق نے مزید کہا کہ ’سفارش نہ مان کر آدھی اسمبلی ناراض کردی، اپنے حلقے سےکوئی بھرتی نہیں کی، صرف وہی بھرتی کی جس کے بغیر ٹرین آپریشن نہیں چل سکتا، ہم نےریلوے کو نجکاری سے بچایا، عدالت میں عرض کیا اور میڈیا میں بھی کہہ چکا ہوں کہ اگر اسی طرح کام ہوتا رہا تو ریلوے کو بالکل ٹھیک ہونے میں 10سے 12 سال لگیں گے، اتنے بڑے ادارے ایک مدت میں ٹھیک نہیں ہوتے، جتنا کرسکتے تھے کردیا، اب ریلوے بہتر ہوگئی ہے‘۔
وزیر ریلوے کا کہنا تھاکہ ’تمام اداروں کی عزت ہونی چاہیے لیکن ہماری بھی عزت ہے، عدلیہ کی بحالی کے لیے جیلیں کاٹیں، جمہوری سیاسی کارکن ہوں، توقع کرتا ہوں ہم ایک دوسرے کا احترم کریں گے‘۔