آج سے میں ان لوگوں کو پارٹی سے نکالنے کا اعلان کرتا ہوں،، اور اڈیالہ جیل کی صفائی نہیں ہونی چاہیے کیونکہ۔۔کپتان کا چونکا دینے والابیان

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک )تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے سینیٹ الیکشن میں بکنے والے ارکان کو پارٹی سے نکالنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ وفاقی حکومت کو اگلے سال کا بجٹ پیش نہیں کرنے دینگے،کے پی میں ہماری حکومت بھی نیا بجٹ نہیں دے گی،جس حکومت کے45دن رہ جائیں وہ پورے سال کا بجٹ کیسے پیش کر

سکتی ،کے پی میں ہماری حکومت بھی اگلے سال کا بجٹ پیش نہیں کرے گی،نواز شریف نظریہ نہیں مافیا کا نام ہے، قوم سپریم کورٹ کے فیصلوں پر خوش ہے ۔اسلام آباد میں پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ سینیٹ الیکشن کے دوران بے قاعدگیوں سے متعلق وکلا سے مشاورت کررہے ہیں۔ ہم سینیٹ الیکشن کے دوران ووٹ بیچنے والے ارکان کو نکال دیں گے، ہمیں ایسے لوگوں کی کوئی ضرورت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جسے انتخابی ٹکٹ نہیں ملتا وہ الزام لگاتا ہے کہ پارٹی نظریاتی نہیں رہی، الیکشن لڑنا بھی ایک سائنس ہے، ہم کرکٹ کا میچ ہاکی کی ٹیم سے نہیں کھیلیں گے۔ وفادار، نظریاتی اور الیکشن لڑنا جاننے والے کو ہی الیکشن میں آگے کروں گا۔چیئر مین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ فاٹا میں بہت بڑا خلا ہے، قبائلی عوام کو قومی دھارے میں لانا بہت ضروری ہے، دشمن اس خلا کو اپنے لیے استعمال کرسکتا ہے، ہم فاٹا کے حقوق کے لیے جدوجہد کررہے ہیں، قبائلی علاقے کے لوگوں کی شکایات جائز ہیں، محمود اچکزئی اور فضل الرحمان کی وجہ سے فاٹا کا انصمام نہیں ہوسکا، فیڈریشن کو مضبوط کرنا بہت ضروری ہے، بلوچستان سے چیئرمین سینیٹ آنے پر فخر ہے، فاٹا کو مین اسٹریم کرنا بہت ضروری ہے، ہم چاہتے تھے وہاں سے چیئرمین آئے۔انھوں نے کہا کہ نواز شریف نظریہ

نہیں بلکہ مافیا کا نام ہے، خواجہ آصف کی ہائی کورٹ میں 16 لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ وصولی ثابت ہوئی ہے، خواجہ آصف کے وہ بینک اکاؤنٹس ثابت ہوئے جس میں کئی پیسے منتقل ہوئے۔عمران خان نے کہا کہ اوورسیز پاکستانی ملک کا سب سے قیمتی اثاثہ ہیں، اگر وہ زر مبادلہ پاکستان نہ بھیجیں تو حکومتیں بحران کا شکار ہوجائیں، ہم سمندر پار مقیم پاکستانیوں سے متعلق فضل الرحمان کے

بیان کی مذمت کرتے ہیں، چیف جسٹس اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹنگ کا حق دینے والے ہیں۔چیئرمین تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ ماضی میں غیرجماعتی الیکشن کروا کر نظریاتی سیاست دفن کی گئی لیکن اب پاکستان میں نظریاتی سیاست ہونی چاہیے، اچھا بلدیاتی نظام آجاتا تو نئے صوبے کی آوازیں نہ اٹھتیں، جنوبی پنجاب کے پسماندہ عوام کو حقوق ملنے چاہییں، جنوبی پنجاب میں علیحدہ صوبہ ضرور بننا

چاہیے۔آئندہ نگراں حکومت کے حوالے سے عمران خان نے کہا کہ نگراں حکومت کا کام صاف اورشفاف الیکشن کرانا ہے، پچھلی نگراں حکومت صاف اور شفاف الیکشن کرانے میں ناکام رہی، چارٹر آف ڈیموکریسی کے تحت مک مکا کرکے اپنے اپنے امپائر کھڑے کیے گئے، 22 جماعتوں نے 2013 کے الیکشن کو متنازع قرار دیا، یورپ اوربرطانیہ میں نگراں حکومت نہیں لائی جاتی۔ یہاں دھاندلی اور بے ای

مانی کے خطرے کے باعث نگراں حکومت لانی پڑتی ہے۔ سابق تجربات کی روشنی میں نگراں حکومت کے لیے مشاورت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت جانے میں 45 دن رہے گئے ہیں اور اگلے سال کا بجٹ پیش کیا جارہا

ہے، خیبرپختونخوا میں پرویز خٹک بجٹ پیش نہیں کریں گے۔اڈیالہ جیل کی صفائی سے متعلق خبروں پر عمران خان نے کہا کہ اڈیالہ جیل کی صفائی ہورہی ہے، جلد ملک کے مجرم وہاں جائیں گے، ہمارا المیہ یہ ہے کہ طاقتور کے لیے الگ اور کمزور کے لیے الگ قانون ہے، اڈیالہ جیل کی صفائی کیوں ہورہی ہے، کیا سائیک

ل چوری کے مجرم کو گندی جگہ اور 300 ارب روپے چوری کرنے والے کو صاف جگہ ملے گی۔یہی المیہ ہے طاقتور اور غریب کے لیے الگ قانون ہے۔قبل ازیں چیئرمین تحریک انصاف نے مرکزی مجلس عاملہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا نواز شریف نے جو بویا وہ کاٹ رہے ہیں ، اگر تحریک انصاف نہ ہوتی ت

و پاناما کیس دب چکا ہوتا، نوازشریف 300 ارب روپے ملک سے باہر لے کر گئے۔ انہوں نے کہا ان شااللہ آنے والا دور تحریک انصاف کا ہے ، پی ٹی آئی میں آنے والے خواہشمندوں کی لمبی فہرست ہے۔ ان کا کہنا تھا ہم نے گزشتہ الیکشن کی غلطیوں سے سبق سیکھا ہے، الیکشن میں ٹکٹ میرٹ پر دیں گے، سب امیدوار پارلیمانی بورڈ کے فیصلوں کو تسلیم کریں۔عمران خان نے کہا آپس کے اختلافات ختم کر

کے پارٹی کو مضبوط بنائیں، پارٹی نظم و ضبط کی خلاف ورزی برداشت نہیں کی جائے گی، کامیابی کے لئے آپس کے اختلافات کو ختم کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا 29 اپریل سے انتخابی مہم کا باضابطہ آغاز کریں گے، لاہور میں 2011 کے جلسے کی یاد تازہ کریں گے، عوام تحریک انصاف کی رابطہ عوامی مہم پر زبردست ردِعمل دے رہے ہیں۔