مسلم لیگ (ن) کے ایک اور اہم رہنما کا پی ٹی آئی میں شمولیت کا اعلان

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے شیخوپورہ سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی بلال ورک نے حکمراں جماعت کو چھوڑ کر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) میں شامل ہوگئے ہیں۔
یہ اعلان انہوں نے پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان سے ان کی رہائش گاہ بنی گالہ میں ملاقات کے بعد کیا۔
انہوں نے تحریک انصاف کی قیادت اور منشور پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کرپشن سے نجات کیلئے پنجاب کے عوام کی امیدوں کا محور ہیں۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک خاندان نے اپنے اثاثے بنانے کیلئے پنجاب اور ملک کے وسائل بیدردی سے لوٹ رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اپنی چوری بچانے کیلئے پارلیمان کو بے توقیر اور ریاستی اداروں پر یلغار کی گئی تھی اور پارلیمان کو عملی طور پر غیر متعلق بنا کر رکھ دیا گیا۔
انہوں نے شریف برادران کی جانب سے عدلیہ پر کی جانے والی تنقید کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اداروں کو دھمکانے اور آئین کاحلیہ بگاڑنے کیلئے پارلیمان کو استعمال کرنے کی شریف خاندان نے رسم کی بنیاد رکھی ہے۔
انہوں نے تحریک انصاف کے منشور کی کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو انتشار کی نہیں چوروں کے احتساب کی ضرورت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ عمران خان ملک بھر خصوصاً پنجاب کے عوام کی آواز بن چکے ہیں اور مستقبل انشاءاللہ تحریک انصاف اور پاکستان کا ہے۔
عمران خان نے بلال ورک کی ساتھیوں سمیت پارٹی میں شمولیت کے فیصلے کا خیر مقدم کیا۔
انہوں نے تحریک انصاف کے 29 اپریل کو مینار پاکستان پر ہونے والے جلسے کے حوالے سے کہا کہ یہ دن نئے پاکستان کی بنیادیں اٹھانے کا دن ہے اور قوم اپنی عدلیہ اور اداروں کیساتھ یکجہتی کے اظہار کیلئے تیار ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ طاقتور مافیا کے احتساب پر چیف جسٹس اور انکے ساتھی ججز تحسین کے مستحق ہیں۔
حکمراں جماعت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اپنے بچوں کی جائیدادیں بنانے کیلئے قوم کی آئندہ نسلوں پر غلامی، غربت اور جہالت مسلط کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ نظریاتی سیاست کا دور لوٹ رہا ہے۔
خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے 7 اپریل کو مسلم لیگ (ن) کے دو سابق اقلیتی رہنماؤں نے بھی اپنی حکمراں جماعت کو خیر باد کہہ دیا تھا۔
عمران خان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاکستان ہندو کونسل کے سربراہ ڈاکٹر رمیش کمار نے پی ٹی آئی میں شمولیت کا اعلان کیا تھا۔
یاد رہے کہ چند روز قبل ہی جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے مسلم لیگ (ن) کے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی نے پارٹی سے علیحدگی کا اعلان کرتے ہوئے صوبہ جنوبی پنجاب محاذ کی بنیاد رکھی تھی۔
خسرو بختیار کی سربراہی میں قائم ہونے والے اس محاذ میں حکمران جماعت سے الگ ہونے والے 7 اراکین اسمبلی شامل تھے جبکہ سابق نگراں وزیراعظم بلخ شیر مزاری نے بھی شمولیت کی تھی۔
مستعفی ہونے والے ارکان قومی اسمبلی میں خسرو بختیار، طاہر اقبال چوہدری، طاہر بشیر چیمہ، رانا قاسم نون، باسط بخاری جبکہ صوبائی اسمبلی سے سمیرا خان اور نصراللہ دریشک شامل ہیں۔
خسرو بختیار پریس کانفرنس کے دوران بہاولنگر سے منتخب رکن قومی اسمبلی سید محمد اصغر کے استعفے کا بھی اعلان کیا تھا بعد ازاں سید محمد اصغر نے اپنے استعفے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ میں مسلم لیگی ہوں اور مسلم لیگ میں رہوں گا تاہم صوبے کے لیے قائم محاذ کی حمایت کرتا ہوں۔