نواز شریف کی تاحیات نااہلی کا فیصلہ درست نہیں ،جلد کیا ہونے والا ہے ؟ حامد میر نے پیش گوئی کر دی

کراچی (ویب ڈیسک) سینئر تجزیہ نگاروں حامد میر، طلعت حسین، ایاز میر، پروفیسر حسن عسکری اور سیاستدانوں شیری رحمان، شیخ رشید، جہانگیر ترین، فواد چوہدری و دیگر نے سپریم کورٹ کی جانب سے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نوازشریف اور جہانگیر ترین کی تاحیات نااہلی سے متعلق فیصلے پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ

فیصلے سے نواز شریف صاحب کا جو بیانیہ ہے اس میں سختی آئیگی،شہباز شریف صاحب کی ٹون میں بھی غالباً سختی آئے گی، مسلم لیگ (ن) کے اندر بحران اور بڑھے گا،یہ بھی ہوسکتا ہے ن لیگ اگلے انتخابات کا بائیکاٹ کردے،نوازشریف نے ماضی میں آرٹیکل 63,62 ختم کرنے کا موقع خود ضائع کیا، فیصلہ قانون کے مطابق فیصلہ ہوا،مسلم لیگ پہلے ہی ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھی اب پتوں کی طرح بکھر جائیگی، عدالتی فیصلے کے باوجود میاں صاحب کی سیاست پس منظر میں چل سکتی ہے، فیصلہ سب کیلئے قابل قبول ہے، جہانگیر ترین نے کہا کہ میرے کیس میں تاحیات نااہلی نہیں بنتی۔ تفصیلات کے مطابق نواز شریف صاحب کا جو بیانیہ ہے اس میں سختی آئے گی،شہباز شریف صاحب کی ٹون میں بھی غالباً سختی آئے گی اور اگر نہیں آئی تو مسلم لیگ ن کے اندر بحران اور بڑھے گا،یہ بھی ہوسکتا ہے ن لیگ اگلے انتخابات کا بائیکاٹ کردے،ن لیگ کیلئے بہت مشکل فیصلہ ہوگا الیکشن کا بائیکاٹ کرے،فیصلے کا اثر جماعت پر بھی پڑے گا،شہباز شریف کیلئے مشکل صورتحال پیدا ہو گئی،نواز شریف نے خود تمام موقع ضائع کیے،پیپلز پارٹی نے ان سے اصرار کیا تھا، کی باسٹھ تریسٹھ کی شقیں ختم کردیں مگرنوازشریف نہ مانے۔ان خیالات کااظہار معروف تجزیہ کار مظہر عباس،طلعت حسین اورکامران خان نے عدالتی فیصلے کے بعد اسپیشل ٹرانسمشن میں اپنے تجزیے میں کیا ۔معروف تجزیہ کار مظہر عباس نے عدالتی فیصلے پراپنے تجزیے میں کہا ہے کہ نااہلی بہت اہم فیصلہ ہے اور اس کے سیاسی مضمرات بالکل ہونگے ،نواز شریف صاحب کا جو بیانیہ ہے اس میں سختی آئے گی اس میں تیزی آئے گی اور شہباز شریف کیلئے یہ بڑا مشکل ہوگا کہ

اس بیانیے سے ہٹ کے کوئی بیانیہ بنائیں،اگلا انتخاب ہے وہ اسی کے گرد گھومے گا اور نواز شریف کے اس وقت جو ٹون ہے اس میں اور زیادہ سختی ہمیں نظر آئے گی مسلم لیگ ن کے ان رہنماؤں کیلئے بڑی مشکل صورتحال ہو جائے گی کہ جو رہنما اب تک یہ بات کرتے رہے کہ ہمیں کوئی درمیانہ راستہ اختیار کرنا چاہئے شہباز شریف صاحب کی ٹون میں بھی غالباً سختی آئے گی اور اگر نہیں آئی تو مسلم لیگ ن کے اندر بحران اور بڑھے گا ،ہماری جو جماعتیں اپوزیشن میں ہوتی ہیں وہ گورنمنٹ کو ٹارگٹ بناتے وقت یہ بھول جاتی ہیں کہ کل وہ بھی گورنمنٹ میں ہونگی ان کے ساتھ بھی یہ ہوگا،مظہر عباس نے کہا کہ یہ بھی ہوسکتا ہے ن لیگ اگلے انتخابات کا بائیکاٹ کردے۔سینئر تجزیہ کار طلعت حسین نے کہا کہ اس فیصلے کا اثر جماعت پر بھی پڑے گا،مسلم لیگ کے ورکرز ایم پی اے، ایم این اے، ٹکٹ کے خواہش مند دیکھ رہے ہوں گے آیا نواز شریف کا مستقبل تابناک یا تاریک ہے، ایک طرح سے نواز شریف کے بیانیے کو بالکل تقویت پہنچے گی ،اگر انہوں نے بائیکاٹ کرنا ہے تو پھر ہم اپنا سیاسی مستقبل تاریکی کیوں کریں بہت ہی مشکل فیصلہ ہوگا الیکشن کے بائیکاٹ کا میرے خیال میں ابھی تو اس فیصلے کو وہ اپنے الیکشن مہم کا حصہ بنانا چاہیں گے، ن لیگ کیلئے بہت مشکل فیصلہ ہوگا الیکشن کا بائیکاٹ کرے۔معروف تجزیہ کارکامران خان نے کہا کہ نواز شریف کو اپنے گریبان میں جھانکنا ہوگا انہوں نے کیوں یہ معاملہ سپریم کورٹ پر چھوڑا ان کے پاس موقع تھا کہ اس 62/1F اور 62 اور 63 یہ جتنی بھی شقیں ہیں

ان کی تصحیح کردیتے، ترمیم کردیتے، اس کو ختم کردیتے مگر انہوں نے وہ تمام موقع خود ضائع کیے، پیپلز پارٹی نے ان سے اصرار کیا تھا، ان سے درخواست کی تھی کہ اس کو ختم کردیں مگر انہوں نے ختم نہیں کیا،فیصلہ خود نواز شریف کو کرنا ہے کہ انہیں پاکستان مسلم لیگ ن کو اب کس ڈگر پر ڈالنا ہے، وہ قوتیں یا وہ معاملات جن کے خلاف نواز شریف کہتے ہیں کہ وہ کھڑے ہونے والے ہیں میں نہیں سمجھتا کہ ان کیلئے پاکستانی کھڑے ہوجائیں اور وہ انقلاب کے راستے پر نکل پڑیں اور سڑکوں پر نکل آئیں اور کوئی بڑا چیلنج بنیں۔معروف صحافی و تجزیہ نگارمجیب الرحمان شامی نے کہا کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ جو آج کا فیصلہ آیا ہے وہ نواز شریف سے متعلق نہیں ہے نواز شریف اس میں فریق بھی نہیں تھے نہ ہی انہوں نے کوئی درخواست کی تھی اور سپریم کورٹ میں طلبی کے باوجود اور خواہش کے باوجود کہ نواز شریف اس میں شریک بن جائیں یا ان کا کوئی وکیل بھی مقرر ہوجائے انہوں نے ایسا کوئی فیصلہ نہیں کیا اس لئے کہ یہ معاملہ نواز شریف مقدمہ سے متعلق نہیں ہے جو فیصلہ ہوا ہے فیصلہ یہ ہے کہ اگر 62-1f کے تحت کسی شخص کو نا اہل قرار دیا جائے تو اس کی نااہلی کی مدت کیا ہوتی ہے،سپریم کورٹ اس سے پہلے بھی یہ فیصلہ کرچکی ہے کہ وہ نا اہلی کی مدت وہ تاحیات ہے اور نواز شریف کیخلاف چونکہ یہ فیصلہ آچکا ہے کہ وہ نا اہل ہوگئے ہیں، پاکستان کے بہت سے قانون دان کی یہ رائے تھی کہ عمربھر کیلئے اس شخص کو نااہل قرار دینا اسلامی اصولوں کیخلاف ہے ایک بات

، دوسری بات یہ کہ 62-1f کے تحت کہیں نہیں لکھا دستور میں کہ سپریم کورٹ براہ راست مقدمات کی سماعت کرے گی اور براہ راست فیصلہ کرے گی اور جو ملزم ہوگا اس کو اس کیخلاف اپیل کا کوئی حق بھی حاصل نہیں ہوگا تو جس طریقے سے سپریم کورٹ نے62-1f کو interpretکیا ہے اور جس طرح سے فیصلہ کرنے کا حق اپنے آپ کو دیا ہے اس پر ایک سوالیہ نشان بنے گا اور یہ موجود ہےماضی میں بھی عدالتوں نے ایسے متعدد فیصلے کئے ہیں، ججز نے ایسے فیصلے کئے ہیں جس کو آپ کہہ سکتے ہیں کہ قانون سازی ہوگئی ہے لیکن قانون کی تشریح کا دائر کا فی وسیع ہوتا ہے ۔تجزیہ نگار ایاز امیر نے کہا کہ چور چوری میں پکڑا گیاپر پھر بھی آ پ اس کے ساتھ نر می کرتے ہیں یا کہہ دیں کہ کوئی اور جرم ہے لیکن قانونی کاتقاضہ تو یہ ہے کہ آ پ ایک مرتبہ جھوٹے یا اور کوئی اس قسم کی چیز ثابت ہو گئے تو پھر اس کا یہ تو نہیں ہوتا کہ آ پ جھوٹے چھ مہینے تک رہیںگے اور وہ ثابت ہو گیا آ پ جو ہیں اس معیار پر نہیں اترے آ پ میں یہ یہ ہے پھر اس کا اطلاق تو ہمیشہ کے لیے ہوتا ہے بعد میں تو باالکل جو judgmentآ ئی ہے با الکل logicialہے ہم نے تو اپنا وہ دیہاتی قسم کا تبصرہ کیا تھا کہ نہیں بھی شاید وہ حق ہو جائے جیسے ہم اپنے وہ پنچائتوں میں کرتے ہیں کہ جی لڑ کا اگر برا کیتا ہے چل چھوڑا جائو یار معاف کردو تو میں تو اس حوالے سے کہہ رہا تھا کہ جی نہ ہو ان کے ساتھ اور ان کے ساتھ اتنی مصیبتیں ہیں جواب نہیں آ رہے

نیب عدالت کا فیصلہ ابھی آ نا ہے جناب محمد بشیر صاحب کی عدالت ہے اس میں پتہ نہیں کیا ہوتا ہے پہلے سی ہی جماعت اکھڑ گئی ہے قیادت اکھڑ گئی ہے حالات خراب ہیں میں نے تو اس تناظر میں کہا تھا کہ آ ج یہ پکڑے گئے ہیں سب کچھ ہے قصوروار ہیں لیکن قانون تو قانون ہوتا ہے یہاںکوئی پنچائیت نہیں ہوتی یا وہ گائوں کا جرگہ نہیں ہوتا تو با الکل جو spritہے 62-1fکی با الکل logicalyیہ فیصلہ آ یا ہے کہ اس کا اطلاق اس جیسا ہوتا ہے وہ for lifeہی بنتا ہے یہ کیسی باتیں ہیں وہ نہ مانیں مجھے سزا ہو جائے چوری میں ،نقب زنی میں میرے کہنے سے کیا ہوتا ہے مجھے سزا تو بھگتنی پڑے گی سیاست جو ہے ان کے ہاتھ سے نکل گئی ہےقصور وار آ پ ٹھہرتے ہیںتو آ پ کیسے کہہ سکتے ہیں ہمیں عوام نے منتخب کیا تھا اگر یہ چیز ہوتی تو پھر امریکی صدر نکسن کا کبھی مواخذہ نہ ہوتا۔ رہنما تحریک انصاف فواد چوہدری نے کہا کہ پہلی بات یہ ہے کہ دوبارہ جو پارلیمان ہیں اگر اس میں آرٹیکل 62 کے نیچے قانون سازی کی ہوتی اور بتایا ہوتا کہ مدت کیا ہوگی تو پھر سپریم کورٹ کو آج کا فیصلہ نہ ہوتا unfortunately پاکستان میں جو executive ہے اور پارلیمنٹ ہے اس نے اپنے تمام کام دوسروں کے اوپر چھوڑ دیے ہیں اور پھر ظاہر ہے کہ فیصلے وہاں سے آتے ہیں اب آج کا جو فیصلہ ہے یہ quit lightlyتھا کیونکہ اگر سپریم کورٹ اس میں پانچ سال یا دس سال کی مدت رکھتی تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ سپریم کورٹ نئی legislation کر رہی تو اس کو جو ہے

سپریم کورٹ نے یہی فیصلہ دینا تھا کہ جو declaration ہے وہ لائف ہے اور یہی فیصلہ آیا ہے اور ظاہر ہے اس کے دورس سیاسی اثرات ہیں مسلم لیگ ن جو پہلے ہی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے وہ اس فیصلے سے مزید کمزور ہوئی ہے نواز شریف مزید کمزور ہوئے ہیں اور آئندہ الیکشنز میں جو پی ایم ایل این ہے وہ تاش کے پتوں کی طرح بکھر جائے گی صرف پی ایم ایل این کمزور ہو ئی ہے یہ پی ٹی آئی بہت مضبوط پارٹی ہے قانون کے مطابق فیصلہ ہوا ہے اور میرا نہیں خیال کہ لوگوں کو آپ اتنا underestimate کریں ان کی عقل کو کہ اگر ایک آدمی جو ہے وہ چور کی چوری میں پکڑا جائے international schemeمیں تو پورے لوگوں کی sympathian اس کے ساتھ ہوں۔سینئر تجزیہ کار حامد میر نے کہا کہ میں تو62-1F کے تحت جو نا اہلی ہے اس کی ہمیشہ میں نے مخالفت کی ہے اور اس کو درست نہیں سمجھتا کیونکہ کوئی انسان بھی صادق اور امین کے معیار پر پورا نہیں اتر سکتادیکھیں میں تو بالکل جو ٹیکنیکل قانونی نقطہ نظر سے بات کروں گا کیونکہ یہ کوئی پہلی دفع تو سپریم کورٹ نے 62 ون ایف کے تحت کسی سیاستدان کو نااہل قرار نہیں دیا یہ جو سلسلہ ہے اس کو ذرا آپ پڑھیں یہ پہلے بھی short orderآیا تھا ذرا آپ اس کو بھی پڑھیں تو اس میں کچھ پچھلے فیصلوں کا ذکر ہے تو جب سپریم کورٹ آف پاکستان جو ہے وہ کوئی ایک فیصلہ دیتی ہے تو اس میں ہمیشہ وہ کچھ پچھلے فیصلوں کا حوالہ بھی دیتے ہیں اور جب وہ پچھلے فیصلوں کا حوالہ دیتے ہیں تو پھر پتہ چل جاتا ہے کہ جو کورٹ ہے

وہ آئین کے کس آرٹیکل کو کس انداز سے دیکھ رہی ہے اور جو پچھلے فیصلے ہیں ان میں کیا کیا ہوا تھا اب جو پچھلے فیصلے ہیں ان میں کچھ فیصلے ایسے تھے جس میں صرف one time disqualification ہوئی تھی کچھ فیصلے ایسے تھے جس میں لائف ٹائم disqualification ہوئی تھی لیکن ہر فیصلہ جو ہے اس میں جو ملزم تھا اس کے الزام کی نوعیت مختلف تھی تو یہ جو short order پہلے آیا تھا نواز شریف صاحب کیخلاف اس میں سپریم کورٹ کے جن فیصلوں کا حوالہ تھا اس میں سے یہ بالکل صاف نظر آ رہا تھا کہ نواز شریف اور جہانگیر ترین دونوں کو لائف ٹائم disqualification ملے گی پانچ سال یا one time صرف ایک الیکشن پے disqualification نہیں ملے گی ، اب اس میں سیدھا سا راستہ ہے جو چیف جسٹس ثاقب نثار صاحب کل بھی ایک مقدمے کی سماعت کے دوران کورٹ میں کہ جو سپریم کورٹ ہے وہ صرف آئین کی تشریح کر سکتی ہے … فیصلے کر سکتی ہے وہ آئین سازی نہیں کر سکتی قانون بنانا جو ہے وہ پارلیمنٹ کا کام ہے تو جب اٹھارہویں ترمیم ہو رہی تھی تو اس وقت بڑی چیخ و پکار تھی پی پی نے اے این پی نے نیشنل پارٹی نے اور پارٹیوں نے نواز شریف صاحب کو جاکر کہا تھا یہ 62 ون ایف کو بھی ہم ختم کر دیتے ہیں اس کو بدل دیتے ہیں یہ اچھی چیز نہیں ہے تو نواز شریف صاحب اس پے نہیں مانے تو اب آپ کے سامنے ہے کہ پارلیمنٹ جب 62 ون ایف کوختم نہیں کرے گی تو پھر سپریم کورٹ نے تو اسی کے تحت فیصلہ کرنا ہے تو جو فیصلہ آیا ہے وہ آئین کے عین مطابق آیا ہے

اس لئے آپ predictionبھی کر سکتے ہیں اس کے بارے میں آپ اندازہ بھی لگا سکتے ہیں عام انتخابات سے چند ماہ پہلے صرف نواز شریف کو تو نااہل نہیں کیا گیا نہ جہانگیر ترین کو بھی کیا گیا ہے تو ظاہری بات ہے اس کا زیادہ نقصان نواز شریف کو ہے کیونکہ وہ ایک پارٹی جو ہے وہ اس کے پہلے سربراہ تھے پھر وہ اب اس کے تاحیات قائد بن چکے ہیں تو یقینا ان کو اس کا نقصان ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ آپ یہ دیکھیں نہ کہ صرف یہ فیصلہ نواز شریف کیخلاف تو نہیں آیا یہ جہانگیر ترین کیخلاف بھی آیا ہے اور میں بار بار ایک ہی بات کہتا ہوں کہ ہماری جو سیاست ہے اس میں جو سیاست کے اہم کردار ہیں وہ کردار وقت کے بدلنے کے ساتھ اپنے آپ کو تبدیل کرتے رہتے ہیں لیکن جو آئین کے آرٹیکل ہیں وہ کبھی تبدیل نہیں ہوتے ، اب جس طرح آج نواز شریف صاحب جو ہیں وہ میڈیا کے سامنے predictions کرتے ہیں اپنے بارے میں عدالتی فیصلوں کے بارے میں وہ predictions کرتے ہیں اپنے بارے میں ، ایک زمانے میں صرف چار پانچ سال پہلے یہ دوسروں کے بارے میں عدالتی فیصلوں پے predictions کرتے تھے جس طرح آجکل عمران خان prediction کرتے ہیں کہ وہ دیکھیں اڈیالہ جیل میں صفائی ہو رہی ہے اس طرح پانچ سال پہلے نواز شریف صاحب

یوسف رضا گیلانی کے بارے میں کہتے تھے کہ بھائی تمہارا تو وقت ختم ہو چکا ہے تمہارے دن گنے جا چکے ہیں تم نااہل ہوجاؤ گے اور پھر عمران خان اور نواز شریف سپریم کورٹ میں چلے جاتے تھے درخواست گزار بن کے اور اس کو disqualify بھی کرواتے تھے اور اس کے فیصلے کی پہلے یہ prediction بھی کرتے تھے تو اگر یہ پہلے خود predictions نہ کرتے تو آج ان کے بارے میں میری predictions نہ ہوتیں لیکن اصل بات یہ ہے کہ جب 62 ون ایف جو ہے اس کو پاکستان کی پارلیمنٹ تبدیل نہیں کرے گی سیاستدان مل کر اس کو تبدیل نہیں کریں گے تو یہ اس طرح کے فیصلے آئندہ بھی آتے رہیں گے اور آئندہ بھی ہم اور آپ آئندہ بھی بہت سے دوسرے لوگ predictions کرتے رہیں گے اور اسی لئے جب اٹھارویں ترمیم آئی تو اس وقت بھی بہت سے لوگ وہ خود یہ مطالبہ کر رہے تھے کہ ہماری پارلیمنٹ 62-1F کو ختم اور جب اس وقت بھی میں نے بہت کالمز لکھے اور ٹی وی شوز میں بھی اس کی بہت مخالفت کی کہ اس کو ختم ہونا چاہئے تو آج رضا ربانی بہت پسندیدہ ہیں ن لیگ کے تو رضا ربانی نے اس وقت درخواست کی تھی کہ آپ جاکر نواز شریف سے ملاقات کریں تو پہلے تو ہم نے resist کیا کہ ہمار ا یہ کام نہیں ہے کہ ہم جاکر convinceکریں پھر انہوں نے کہا کہ نہیں یہ بہت ضروری ہے وہ مان نہیں رہے آپ جائیں ان کے پاس اور پھر ہم جب ان کے پاس گئے تو ان کو سمجھا یا کہ یہ ایک تلوار ہے جو کل کو آپ کیخلاف بھی چل سکتی ہے

ان کی اس چیز کی بالکل کوئیunderstandingنہیں تھی وہ صرف یہ چاہ رہے تھے ان کا یہ خیال تھا کہ جنرل ضیا ء الحق کی بنائی ہوئی ترمیم جو ہے اس کو ہم نے آئین سے نکال دیا تو فوج ہم سے ناراض ہوجائے گی اور انہوں نے یہ بات قبول نہیں کی اور آخر میں انہوں نے یہargumentدیا کہ اعجاز الحق ناراض ہوجائیںگے تو یہ اس وقت حاصل بزنجو نے اور میں کریڈٹ دوں گا اسحاق ڈار کو کہ وہ بھی اٹھارویں ترمیم کے زمانے میں62-1F ختم کرنے کے حامی تھے اور نواز شریف نے اسحاق ڈار کی بات بھی نہیں مانی، میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ آج تک ترامیم کے ذریعے اس طرح کے قوانین کے ذریعے سیاستدان کو پارلیمنٹ سے نکال سکتے ہیں آپ اس کی سیاست ختم نہیں کرسکے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے بہت سے سیاستدانوں کو یہ بات سمجھ نہیں آتی ہماری آپ تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں ایوب خان کے زمانے سے لے کر ضیاء الحق کے زمانے تک خود نواز شریف نے جب یہ احتساب بیورو بنایا تھا تو انہوں نے جس کسی کے بھی خلاف نا اہلی کا قانون کیا ہے اور نا اہل قرار دیا ہے آپ اس کو پارلیمنٹ سے نکال سکتے ہیں اس کی سیاست ختم نہیں کرسکتے اور مظہر عباس بالکل درست کہہ رہے تھے یہ جو احتساب کا قانون ہے نواز شریف لائیں مشرف نہیں لائے،مشرف صاحب نے لیکن نواز شریف نے اپنے دوسرے دور حکومت میں سینیٹر الرحمان کو احتساب بیورو کا چیئر مین بنایا تھا جو خود ان کی پارٹی ٹکٹ پر سینیٹر بنے تھے اس کو چیئر مین بنا کر انہوں نے اپنے سیاسی مخالفین کو ٹارگٹ کیا اور ان کو نا اہل کرنا شروع کیا یہ سارا کام انہوں نے ہی شروع کیا جنرل ضیاء کے یہ اتحادی تھے62-1F لے کر آئے ان کو موقع ملا 62-1F ختم کرنے کا اور انہوں نے وہ ختم نہیں کیا۔