آئین و قانون کے باہر کسی تحریک کی حمایت نہیں کرتے، مولانا فضل الرحمان

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ ہمیں طعنے دیے گئے کہ ہم طالبان کے ساتھ ہیں لیکن ہم آئین و قانون کے باہر کسی تحریک کی حمایت نہیں کرتے۔
سوات میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ہم قرآن وسنت کے نظام اور فحاشی کے خاتمے کی بات کرتے ہیں لیکن ہمیں انتہا پسند اور تنگ نظر کہا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جدیدیت اور روشن خیالی کے نام پر مغرب کا فلسفہ حیات ہمارے لیے قابل قبول نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ سوات کی سرزمین نے بہت تلخ حالات دیکھے ہیں اور سوات کے عوام نے اپنے گھروں کو چھوڑ کر دیکھا ہے۔
جے یو آئی امیر نے مزید کہا کہ ہمیں طعنے دیے گئے کہ ہم طالبان کے ساتھ ہیں لیکن ہم آئین و قانون کے باہر کسی تحریک کی حمایت نہیں کرتے اور مسلح جنگ سے ہماری کوئی وابستگی نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کے آئین و قانون کے ساتھ کھڑے ہیں اور پاکستان کے نظام کو قرآن و سنت کے مطابق تشکیل دینے کی تحریک زندہ ہے، یہ ہماری سرزمین ہے اور ہم نے اس ملک کو آگے لے جانا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ فوج نے قیام امن کےلیے بڑا کردار ادا کیا ہے، قوم پرستوں نے پشتونوں کے قتل عام پر پہلے روس اور پھر امریکا کا ساتھ دیا۔