امریکی صدر نے شام پر دوبارہ حملے کی دھمکی دے دی

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر شامی حکومت نے اپنے عوام پر دوبارہ کیمیائی حملہ کیا تو جواب میں امریکا پھر سے شام کو نشانہ بنائے گا۔
بین الاقوامی نشریاتی ادارے کے مطابق امریکی صدر نے ایک بار پھر شامی حکومت کو کیمیائی گیس کے استعمال سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر شہریوں پر مزید کیمیائی حملے ہوئے تو امریکا اپنے اتحادیوں کی مدد سے شام پر دوبارہ میزائل حملہ کرنے میں ذرا بھی دیر نہیں لگائے گا جس کے لیے امریکا کی تیاریاں مکمل ہیں۔ قبل ازیں اپنی ایک ٹویٹ میں امریکی صدر نے شام پر میزائل حملے کو ’کامیاب مشن‘ قرار دیتے ہوئے اپنے اتحادیوں برطانیہ اور فرانس کا شکریہ ادا کیا۔
امریکا، برطانیہ اور فرانس کی جانب سے شام پر میزائل حملے کو جہاں حلیف ممالک کیمیائی ہتھیاروں کے خاتمے کے لیے ’ضروری اقدام‘ قرار دے رہے تھے وہیں روس نے میزائل حملے کو جارحیت سے تعبیر کیا ہے۔ روس کے سفیر وسیلی نبینزیا نے اتحادی ممالک پر الزام لگایا کہ انھوں نے کیمیائی ہتھیاروں کا معائنہ کرنے والی ٹیم کی دوما میں کیمیائی گیس کے استعمال ہونے کی تحقیقات مکمل ہونے سے پہلے ہی شام پر حملہ کر دیا۔

A perfectly executed strike last night. Thank you to France and the United Kingdom for their wisdom and the power of their fine Military. Could not have had a better result. Mission Accomplished!
— Donald J. Trump (@realDonaldTrump) April 14, 2018
 دوسری جانب کیمیائی ہتھیاروں کی روک تھام کی عالمی تنظیم او پی سی ڈبلیو کے نمائندے اس وقت شام کے دارالحکومت دمشق میں موجود ہیں جہاں سے انہیں کیمیائی گیس کے مبینہ استعمال سے متعلق تفتیش کرنے کے لیے دوما جانا ہے تاہم اس سے قبل ہی امریکا نے اپنے حلیفوں برطانیہ اور فرانس کی مدد سے گزشتہ روز شام میں واقع کیمیائی ہتھیار کی تنصیبات اور فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
واضح رہے کہ امریکا اور اتحادیوں کی فضائی کارروائی شام کی جانب سے مبینہ طور پر اپنے مخالفین پر کیمیائی گیس کے استعمال کے بعد کی گئی۔ شام کے شہر دوما میں کیمیائی گیس سے 100 سے زائد افراد کی ہلاک ہونے کی اطلاع تھیں جس پر امریکا نے اقوام متحدہ سے شام کے خلاف کارروائی کرنے کی استدعا کی تھی تاہم روس کی جانب سے امریکی قرارداد کو ویٹو کردیا گیا تھا۔ دوسری جانب شام اور روس نے کیمیائی گیس کے استعمال کو بے بنیاد اور لغو الزامات قرار دیا ہے۔