جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر پر فائرنگ کا واقعہ قابل مذمت ہے: آئی ایس پی آر

پاک فوج کے ترجمان نے جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر پر فائرنگ کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ متعلقہ فریقین کو ریاستی اداروں کے تحفظ کو یقینی بنانا چاہیے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری بیان کہا گیا ہے کہ جسٹس اعجاز الاحسن کی رہائش گاہ پر فائرنگ قابل مذمت ہے، بہترین امن و استحکام کے لیے کوششیں جاری رکھی جائیں۔
آئی ایس پی آر کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ تمام اسٹیک ہولڈرزکو ریاستی اداروں کے لیے محفوظ ماحول کو یقینی بنانا چاہیے۔
واضح رہے سپریم کورٹ کے جج جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر پر گذشتہ رات اور آج صبح فائرنگ کے واقعات پیش آئے تھے، رات کو نامعلوم افراد نے اُن کے گھر کے مرکزی دروازے پر فائرنگ کی تھی جبکہ صبح باورچی خانے کی کھڑکی پر گولی فائر کی گئی تھی۔
واقعے کے بعد چیف جسٹس آف پاکستان سپریم کورٹ کے جج کے گھر پہنچے اور تمام تر تفصیلات حاصل کر کے آئی جی پنجاب کو رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی جبکہ تمام سیاسی جماعتوں کی جانب سے فائرنگ کے واقعے کی مذمت کی گئی۔
علاوہ ازیں قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق نے جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر پر فائرنگ کے واقعے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس حرکت کے ذریعےخوفزدہ کرنے کی کوشش کی گئی، فائرنگ میں جو بھی لوگ ملوث ہیں انہیں کیفرکردار تک پہنچانا چاہیے۔
دوسری جانب پیپلزپارٹی کے سینئر صوبائی وزیر نثار کھوڑو نے دعویٰ کیا ہے کہ شہباز شریف جج پر حملہ کرواکے بڑے بھائی نواز شریف کو نااہلی کے بعدعمر قید کی سزا بھی دلانا چاہتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ جج کے گھر پر پولیس محافظوں کے تعینات ہوتے ہوئے اگر حملہ ہو تو اس کی ذمہ داری وزیراعلیٰ پنجاب پر عائد ہوتی ہے۔
دفاعی تجزیہ نگار حارث نواز کا کہنا تھا کہ جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر پر فائرنگ میں وہ لوگ ملوث ہوسکتے ہیں جنہیں آنے والے فیصلوں کا خوف ہے۔