مدعی کی خواہش کا احترام ،،،،،تہرے قتل کے ملزم کا فیصلہ سیاسی شخصیات کرینگی؟

ٰلاہور(سپیشل رپورٹ) عسکری الیون میں 3معصوم بچوں کے قتل کے مدعی قیصر امین کی خواہش پر بے گناہ ثابت ہونے والے حسنین مصطفی کو پھنسانے کے لئے پنجاب کی اہم شخصیات نے لاہور پولیس پر دباؤ بڑھا دیا ۔ذرائع کا کہناہے کہ اس مقدمہ کے مدعی قیصر امین کا پنجاب کی سیاسی شخصیات سے ذاتی مراسم ہیں اسی نے سیاسی شخصیات سے ملاقات میں خواہش کا اظہار کیا کہ اس کا گھر خراب کرنے میں حسنین مصطفی کا کردار ہے اس لئے اس کو بھی بچوں کے تہرے قتل میں چالان کیا جائے ۔پولیس ذرائع کا کہناہے کہ پنجاب کی دو اہم سیاسی شخصیات نے لاہور پولیس کے افسران پر دباؤ ڈالا کہ حسنین مصطفی کو بھی اس مقدمے میں چالان کیا جائے ۔انیقہ کے قریبی رشتے داروں کا کہنا ہے کہ بہاولپورسے تعلق رکھنے والے قیصر امین نے لو کل گورنمنٹ کے ڈپٹی سیکرٹری کی بیٹی انیقہ سے تعلقات بڑھا کر اس سے شادی کی خواہش کا اظہار کیا انیقہ کے والدین کے انکار کے بعد اسے بھگا کر بہاولپور لے گیا جہاں نکاح پڑھوایا ۔تب والدین نے عزت بچانے کے لئے بیٹی کو گھر لا کر رخصت کیا اس دوران علم ہوا کہ قیصر امین کا باپ قتل کے دو مقدمات میں سز ا کاٹ رہا ہے ۔ انیقہ کے 3 بچوں کی پیدائش کے بعد شوہر سے تعلقات ٹھیک نہ تھے تب اس نے شوہر سے خلع لیکر حسنین سے میل جول بڑھا لیا ۔ملزمہ انیقہ کے باپ رشید احمد نے پولیس کو بیان دیا کہ انیقہ نے اسے فون کر کے اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ اس نے بچوں کو مار دیا ہے ۔پولیس کی تفتیش کے مطابق نشہ کی عادی انیقہ نے اپنے بچوں کی قاتل ہے اس نے تفتیش میں کئی بار اعتراف کیا کہ حسنین نے بچے قتل نہیں کئے لیکن اس سے ذیادتی تو کرتا رہا ہے انیقہ نے ہی اپنے بچوں 8سالہ زین العابدین ،6سالہ کنزہ فاطمہ اور 4سالہ ا براھیم کا گلہ دبا کر ہلاک کیا ۔تاہم اس نے حسنین مصطفی کے شادی کے انکار پر اسے تہرے قتل کی واردات میں ملوث کرنے کی کوشش کی لیکن پولیس کی تفتیش اور شواہد کی روشنی نے حسنین مصطفی کو بے گناہ قرار دیا گیا تو ملزمہ کے سابق شوہر قیصر امین نے پولیس پر سیاسی دباؤ ڈلوا کر اسے گرفتار کر وادیا لیکن اسے گنہگار نہ لکھنے پر تفتیش تبدیل کرانے کے لئے پولیس افسران پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے ۔ تفتیشی افسر کا کہنا ہے کہ اب تک کے شواہد سے حسنین مصطفی بے گناہ ہے اس اسکا17اپریل کو پولی گرافک ٹیسٹ کروانا ہے جس کی رپورٹ کو بنیاد بنا کر اسے گنہگار یا بے گناہ ہونے کا فیصلہ کیا جائیگا۔