روس نے پاکستان کو ایسا جدید ترین ہتھیار دینے کا آغاز کردیا کہ دیکھ کر دشمنوں میں شدید خوف کی لہر دوڑ جائے گی

ماسکو( آن لائن)روس نے پاکستان آرمی ایوی ایشن کور کو ایم آئی 35 لڑاکا ہیلی کاپٹر دینے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔”دا ڈپلومیٹ “میگزین کی رپورٹ کے مطابق پاکستان اور روس کے مابین ایم آئی 35 لڑاکا طیاروں کی خریداری کے لئے یہ معاہدہ 2015میں کیا گیا تھا۔

قواہ ڈیفنس نیوز اور اینالسز گروپ پر شائع ہونے والے ایک آرٹیکل کے مطابق ایک ویڈیو سماجی رابطوں کی ویب سائیٹ پر منظر عام پر آئی تھی اس میں ایم آئی 35 ہیلی کاپٹرپاکستانی آرمی کے رنگوں میں آراستہ پاکستان میں اڑتا ہوا دیکھا گیا۔

دا ڈپلومیٹ کی رپورٹ میں کہا ہے کہ ایک درآمد-برآمد لاگ میں ہیلی کاپٹر کے سازوسامان اور گولہ بارود سمیت روسی دفاعی برآمد کنندہ ”روسوبورون ایکسپورٹ“کی جانب سے پاکستان آرمی کوفراہمی کا ریکارڈ شائع ہوا ہے۔

پچھلے سال یہ رپورٹ کیا گیا تھا کہ روس نے پاکستا ن آرمی ایویشن کور کو چار ایم آئی 35لڑاکا ہیلی کاپٹروں کی ترسیل کی تھی ۔تاہم، جاپانی تازہ ترین اشاعت کے مطابق روس میں اب پاکستان کو جدید ہیلی کاپٹروں کی ترسیل جلد ہی جلد ہی کی جائے گی جبکہ توپوں سے مسلح ہیلی کاپٹروں کی منتقلی بعد میں کی جائے گی۔2014 میں دفاعی شعبے کے حوالے سے پاکستان اور روس کے مابین دفاعی معاہدے پر دستخط کیے گئے تھے ۔

پاکستان دفاعی ایکسپورٹ پروموشن آرگنائزیشن کے بریگیڈیر جنرل وحید ممتاز نے اس وقت ماسکو میں کہا تھا کہ معاہدے پر دستخط ہو چکے ہیں ،ہم نے چار ایم آئی ہیلی کاپٹر وصول بھی کر لیے ہیں اور اب روس سے جدید قسم کے ہتھیار حاصل کریں گے۔
اسلام آباد اور ماسکو کے مابین جون 2016 میں جنرل (ریٹائرڈ) راحیل شریف کے روسی دورے کے دوران $ 153 ملین ہیلی کاپٹر کے معاہدے پر دستخط ہوئے تھے۔اسی حوالے سے ایک ابتدائی معاہدہ پاکستان آرمی جنرل ہیڈکوارٹر راولپنڈی میں اگست 2015 کو دستخط کیا گیاتھا.

واضح رہے کہ اس سے قبل ازیں وزیردفاع نے کہاتھا کہ پاکستان اور روس کے مابین ایس یو 35 لڑاکا طیاروں کی خریداری کے لئے مذاکرات ابھی ابتدائی مرحلے میں ہیں، فوجی مشقوں، جدید آلات اور خفیہ معلومات کے تبادلے سمیت وسیع تر دفاعی تعاون کے لئے پرامید ہیں، پاکستان طویل مدتی معاہدے کے تحت ٹی 90 ٹینک، لڑاکا جیٹ طیارے اور دفاعی نظام کی خریداری میں دلچپسی رکھتا ہے، اس حوالے سے روس سے بات چیت جاری ہے۔

خرم دستگیر کا کہنا تھا کہ پاکستان اور روس خطے بالخصوص افغانستان میں امن و امان کے قیام اور مستحکم افغانستان کے لئے کوشاں ہیں، پاکستان افغانستان میں استحکام کیلئے روس کے اقدامات کا متعرف ہے اور دیگر عالمی طاقتوں کو بھی دعوت دیتا ہے کہ وہ روس کی طرح دہشت گردی کے خاتمے کے لئے اپنی حکمت عملی وضع کریں۔