‘فواد عالم کے انتخاب کا واحد راستہ چیف جسٹس کا ازخود نوٹس’

دورہ آئرلینڈ اور انگلینڈ کے لیے پاکستان کے 16 رکنی اسکواڈ کا اعلان کردیا گیا ہے اور ایک مرتبہ فواد عالم کے قومی ٹیم سے اخراج پر ٹوئٹر پر صارفین نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

پاکستان کی ڈومیسٹک کرکٹ کی تاریخ میں سب سے زیادہ اوسط اور بہترین فٹنس کے حامل فواد عالم کو ایک مرتبہ پھر قومی ٹیم میں انتخاب کے لیے نظر انداز کردیا گیا ہے۔

مصباح الحق اور یونس خان کی ریٹائرمنٹ کے بعد قومی ٹیم کو مڈل آرڈر میں تجربہ کار بلے بازوں کی ضرورت تھی جس کے پیش نظر دورہ آئرلینڈ اور انگلینڈ کے لیے 32 سالہ فواد عالم ایک مضبوط امیدوار نظر آتے تھے لیکن ٹیم میں تجربہ کار بلے بازوں کی عدم موجودگی کے باوجود بائیں ہاتھ کے بلے باز کو ٹیم کا حصہ نہیں بنایا گیا۔

فواد عالم کو ایک مرتبہ پھر قومی ٹیم میں شامل نہ کیے جانے پر ٹوئٹر پر صارفین نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے چیف جسٹس ثاقب نثار سے سوموٹو ایکشن لینے کا بھی مطالبہ کردیا۔

اسد ہاشم نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا کہ فواد عالم کی ٹیم میں واپسی کا واحد راستہ صرف ایک ہے کہ اگر چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار اس معاملے کا نوٹس لیں۔

اس معاملے پر لوگ چیف سلیکٹر انضمام الحق کے بھتیجے امام الحق کی ٹیم میں شمولیت پر بھی نالاں نظر آئے اور کچھ لوگوں نے فواد عالم کے ڈومیسٹک ایوریج کا امام کی اوسط سے موازنہ بھی کیا۔

کرکٹ کے مشہور تجزیہ کار مرزا اقبال بیگ نے تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ اگر قومی ٹیم کا انتخاب پسند اور ناپسند کی بنیاد پر ہوتا ہے تو ڈومیسٹک کرکٹ کے انعقاد کا کیا فائدہ؟۔

کرکٹ کے غیرملکی تجزیہ نگار ڈینس فریڈ مین بھی اس معاملے پر تبصرہ کیے بنا نہ رہ سکے اور انہوں نے فواد عالم کے قومی ٹیم سے اخراج پاکستان کرکٹ کا سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا۔

تو کچھ لوگوں نے فواد عالم کے اعدادوشمار کا احوال لکھ کر انضمام الحق کو آئینہ دیکھنے کی کوشش کی۔

تجربہ کار بلے باز کو ٹیم کا حصہ نہ بنائے جانے پر بعض لوگوں نے اسے اثرورسوخ نہ ہونے یا کسی بڑے آدمی کا بیٹا نہ ہونے کا نتیجہ قرار دیا۔