جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر پر فائرنگ کے واقعے کی تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی تشکیل

پنجاب پولیس نے جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر پر فائرنگ کے واقعے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ جاری کر دی جبکہ واقعے کی تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بھی تشکیل دے دی گئی ہے۔
ایس پی آپریشنزماڈل ٹاؤن کی جانب سے جاری کی گئی ابتدائی رپورٹ کے مطابق وی آئی پی وینیو پر پاکستان رینجرز کے شفٹ انچارج نائیک عبدالرزاق نے بتایا کہ 14 اپریل کو رات تقریباً 10 بج کر 45 منٹ پر ایک اندھی گولی ماڈل ٹاؤن بلاک ایچ میں واقع گھر کے گیٹ کے بالائی حصے میں لگی۔
واقعے کی فرانزک جانچ کے لیے پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کے کرائم سین یونٹ کو طلب کیا گیا جس نے موقع سے شواہد (ڈیٹا، تصاویر اور گولی) اکھٹے کیے۔
پولیس رپورٹ کے مطابق فرانزک کرائم سین یونٹ کے تفتیش کار مخدوم سعد کے مطابق واقعے کی فرانزک رپورٹ پیر تک سامنے آجائے گی۔
پولیس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کرائم سین یونٹ کے ابتدائی مشاہدات کے مطابق یہ ایک اندھی گولی ہوسکتی ہے جسے کچھ فاصلے سے فائر کیا گیا اور جو اپنے مُکافی خطِ حرکت (Parabolic Trajectory) کے آخری مرحلے میں تھی۔
پولیس رپورٹ کے مطابق گولی کے خط حرکت کی ممکنہ سمت پر سرچ آپریشن بھی کیا گیا جبکہ تفصیلی فرانزک رپورٹ جمع شدہ شواہد کے تجزیے کے بعد پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کا محکمہ فائر آرمز اینڈ ٹول مارکس جاری کرے گا۔
سپریم کورٹ کے جج جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر پر فائرنگ کے واقعے کی تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم قائم کردی گئی ہے۔
پنجاب حکومت کے ترجمان کے مطابق ایڈیشنل آئی جی پنجاب محمد طاہر جے آئی ٹی کے سربراہ ہوں گے جس میں ڈی آئی جی انویسٹی گیشن سلطان چوہدری کے علاوہ ملٹری انٹیلی جنس (ایم آئی)، انٹرسروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی)، انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کے نمائندے بھی شامل ہوں گے۔
جے آئی ٹی میں اسپیشل برانچ اور فرانزک ایجنسی کے افسران بھی شامل ہوں گے۔