جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر پر فائرنگ۔۔۔ تحقیقاتی ماہرین کی ابتدائی رپورٹ میں تہلکہ خیز انکشاف

اسلام آباد (ویب ڈیسک) تحقیقاتی ماہرین نے سپریم کورٹ کے جسٹس اعجاز الحسن کے گھر پر ہونیوالی فائرنگ کے واقعہ کو ریڈ کالر کرائم قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ایسا کرائم اس وقت ہوتا ہے،

جب خطرناک مافیا بری طرح پھنس جاتا ہے اور اپنی جان بچانے کیلئے وہ تفتیشی افسران اور ججوں کیجان تک لینے کا ارادہ کر بیٹھتے ہیں۔ گزشتہ نیب کے سابق پراسیکیورٹر عامر عباس نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جسٹس اعجاز الحسن کے گھر پر فائرنگ کرائم کی آخری شکل ہے اور اسے ریڈ کالر کرائم کہا جاتا ہے ۔جرم کی یہ قسم اس وقت مافیا سرور ہوتی ہے جب وائٹ کالر کرائم کرنے والا مافیا بری طرح پھنس جاتا ہے اور اپنی جان بچانے کیلئے مافیا ریڈ کالر کرائم سے بھی گریز نہیں کرتا۔ اس میں تفتیشی افسران‘ پراسیکیوٹرز اور ججوں پر قاتلانہ حملے بھی کئے جاتے ہیں۔جبکہ دوسری جانب پنجاب حکومت نے سپریم کورٹ کے جسٹس اعجازالحسن کے گھر پرفائرنگ کے واقعہ کی نکوائری کیلئے سینئرافسران پرتحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ ترجمان پنجاپ حکومت کے مطابق ڈی آئی جی انوسٹی گیشن سلطان چوہدری کی سربراہی میں4رکنی تحقیقاتی کمیٹی میں ایس ایس پی انوسٹی گیشن غلام مبشر میکن ،ایس پی سی آئی اے اور ایس پی انوسٹی گیشن ماڈل ٹاو¿ن کوشامل کیا گیا ہے۔

مزید برآں جسٹس اعجازالحسن کے گھر پرفائرنگ کا مقدمہ تھانہ ماڈل ٹاو¿ن میں درج کرلیا گیا ہے۔مقدمہ پولیس کانسٹیبل آصف کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔ مقدمے میں دہشتگردی اور اقدام قتل کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔ واضح رہے سپریم کورٹ کے جج جسٹس اعجاز الحسن کی رہائش گاہ ماڈل ٹاؤن پر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے۔ عدالتی اعلامیے کے مطابق فائرنگ کا واقعہ گزشتہ شب اور آج صبح پیش آیا ۔ (س)