جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر پر فائرنگ کی ابتدائی رپورٹ چیف جسٹس کو ارسال

سپریم کورٹ کے سینیئر جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر پر فائرنگ کی ابتدائی رپورٹ چیف جسٹس آف پاکستان کو ارسال کردی گئی۔ ابتدائی رپورٹ کے مطابق گولی مخالف سمت سے کئی فاصلے سے چلائی گئی۔حتمی رپورٹ آج پی ایف ایس کی جانب سے رپورٹ آنے کے بعد تیار کی جائے گی۔
گزشتہ روز رات گئے سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر پر فائرنگ کے معاملے نے ہلچل مچادی۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار جہاں اپنے ساتھی جج کی خیریت دریافت کرنے فوراً پہنچے وہیں آئی پنجاب کو واقعے کی فوری تحقیقات کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔ چیف جسٹس اور وزیر اعلی پنجاب کے نوٹس نے پنجاب پولیس کے سر سے پاوں تک کھلبلی مچا دی اور صرف چند گھنٹوں میں تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ چیف جسٹس اور وزیراعلی کو بھجوا دی۔
 پولیس کی جانب سے ابتدائی رپورٹ کے مطابق فائرنگ کا واقعے سے متعلق صبح 10 بج کر 45 منٹ پر سکیورٹی پر تعینات شفٹ انچارج پاکستان رینجرز نائیک عبدالرزاق نے رپورٹ کیا۔ جسٹس اعجاز الحسن کے گھر کے مین گیٹ کے اوپر والے حصے پر گولی لگتے ہوئے اندر گری۔ پنجاب فرانزک ایجنسی تمام شواہد،ریکارڈ کو محفوظ کرلیا ہے اور وہ اپنی رپورٹ آج پیش کردی گی۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق گولی کافی فاصلے سے کی گئی ہے اور جس سمت سے گولی آئی تھی اس پر انویسٹی گیشن کا آغاز کردیا گیا ہے۔
ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سکیورٹی اداروں کیجانب سے قریبی علاقوں میں سرچ آپریشنز کیے گیے ہیں اور پی ایف ایس اے نے موقع سے ملنے والی گوئی فائر آرمز اینڈ ٹول مارکس میں مشاہدے کےلیے بھجوا دی ہے جس کے موصول ہونے کے بعد حتمی رپورٹ تیار کی جائے گی۔