امریکہ کا کھیل آدھے گھنٹے میں ختم: روس کا حیران کن دعویٰ

دسمبر 2011 میں اس وقت کےروسی وزیر اعظم ولادیمر پوٹن نے مارچ 2012 کے الیکشن میں اپنی پوزیشن کے بارے میں بتایا۔ ماسکو کے امیر ترین شہسواروں کےکلب نیو سنچری میں پیوٹن نے والدائی کلب کے ممبران کے لیے ایک انتہائی شاہانہ ضیافت کا اہتمام کیا۔اس ضیافت کا احوال ڈگلس ای سچوین اور میلک کیلان نے اپنی کتاب دی رشیا…
پوٹن نے اپنے مہمانوں سے بہت سے موضوعات پر بات کی۔
ان میں روسی حکومت پر عوام کا عدم اعتماد سے لے کر اُن کی اپنی لیڈرشپ جیسے موضوعات شامل تھے۔
اس کے بعد انہوں نے اپنی گفتگو کا رخ امریکا کی طرف موڑ دیا۔انہوں نے حاضرین میں موجود امریکیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے مجھ سے پوچھا ہے ، کیا ہم تبدیل ہورہے ہیں۔
بال اب آپ کے کورٹ میں ہے، کیا آپ تبدیل ہوگے؟ اس کے بعد انہوں نے ایک میزائل سسٹم کی نامنظوری کے حوالے سے بات کی، جو امریکا اپنےدفاع کے لیے بنا رہا تھا۔
پوٹن نے اسے روس کے لیے خطرہ قرار دیا۔ پوٹن نے حاضرین سے کہا کہ امریکا صرف ایک وجہ سے ہی روس سے تعلقات بڑھانا چاہتا ہے، صرف روس ہی وہ ملک ہے جو امریکا کو آدھے گھنٹے یا اس سے بھی کم وقت میں تباہ کر سکتا ہے۔
کتاب کے مصنفوں کا کہنا ہے کہ امریکا کے حوالے سے پوٹن کے اصل خیالات کا پتہ لگانا کافی مشکل کام ہے۔