35 سال کی شادی اور9 بچے، لیکن پھر ایک دن ڈاکٹر نے ٹیسٹ کیا تو عرب شہری بانجھ نکلا، یہ تمام بچے جنہیں اپنا سمجھتا تھا دراصل کس کے نکلے؟ ایسا انکشاف کہ واقعی زندگی کا سب سے زوردار جھٹکا لگ گیا، وہ تو۔۔۔

دبئی سٹی(مانیٹرنگ ڈیسک) شریک حیات سے بے وفائی کے بہت قصے آپ نے سن رکھے ہوں گے لیکن متحدہ عرب امارات میں ایک خاتون نے شریک حیات کو دھوکہ دینے کا ایسا ریکارڈ بنا ڈالا ہے کہ جس کا تصور کر کے ہی انسان کا دماغ چکر اجائے۔ اس جوڑے کی شادی کو 35 سال گزر چکے ہیں اور ان کے 9 بچے ہیں، لیکن اب پتا چلا ہے کہ سارے کے سارے شوہر کی بجائے کسی اور مرد کے ہیں۔

خلیج ٹائمز کے مطابق بدقسمت شوہر پر یہ اندوہناک انکشاف اس وقت ہوا جب حال ہی میں اس نے ہسپتال سے اپنے کچھ ٹیسٹ کروائے۔ ڈاکٹر نے اسے بتایا کہ نظام تولید کی رسولی کی وجہ سے وہ سپرم پیدا کرنے کے قابل نہیں،اور یہ رسولی 50 سال پرانی تھی۔ یہ سن کر اس شخص کو سخت جھٹکا لگا۔ ڈاکٹر بتا رہا تھا کہ وہ پچھلے 50 سال سے بانچھ ہے لیکن اس کے تو 9 بچے تھے۔ اگر وہ بانچھ تھا تو پھر بچے کس کے تھے؟

اس سوال نے بیچارے کے دماغ کو ایسا پریشان کیا کہ اس نے اپنے اور بچوں کے ڈی این اے ٹیسٹ کروانے کا فیصلہ کیا، اور نتیجہ وہی آیا جسے سننے کی اس میں ہمت نہیں تھی۔ ڈی این ٹیسٹ نے ثابت کر دیا کہ 9 بچوں میں سے ایک بھی اس کا نہیں تھا۔ اس کی اہلیہ نے 35 سال سے اسے دھوکہ دے رکھا تھا اور ایک کے بعد ایک ناجائز بچہ پیدا کر کے اسے باپ بننے کی مبارکباد دیتی چلی آ رہی تھی۔

نو بچوں کی پرورش کوئی آسان کام نہیں، اور جب آپ کو پتا چلے کہ جن نو بچوں کی آپ دن رات مشقت کر کے پرورش کرتے رہے وہ کسی اور کے ہیں تو اس سے بڑھ کر المیہ کیا ہو سکتا ہے۔ بس اسی دردناک المیے نے اس بدقسمت شخص کی زندگی تاریک کر دی ہے۔ اس نے اپنی اہلیہ کو طلاق دینے کے لئے عدالت کا رخ کر لیا ہے جبکہ سرکاری دستاویزات میں تمام بچوں کی ولدیت کے خانے سے اپنا نام خارج کروانے کے لئے بھی قانونی کاروائی شروع کر دی ہے۔