کیا آپ کو معلوم ہے دفاتر میں ایک شفٹ 8 گھنٹے کی کیوں ہوتی ہے؟ پہلی مرتبہ اصل وجہ جانئے جو آپ کو کبھی کسی نے نہ بتائی

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) دفاتر میں آٹھ گھنٹے کی شفٹ آج کے دور میں کم و بیش ساری دنیا میں مروجہ اصول سمجھا جاتا ہے لیکن ملازمین کو یہ حق حاصل کرنے کے لئے بہت طویل جدوجہد کرنا پڑی جس کی ایک لمبی تاریخ ہے۔ اس مقصد کے لئے ”آٹھ گھنٹے کا دن“ کے نام سے ایک تحریک چلائی گئی جسے ”40 گھنٹے کا ہفتہ“ یا ”مختصر مدت تحریک“ بھی کہا جاتا ہے۔ ایک سماجی تحریک تھی جس کا مقصد کام کے اوقات کو کسی ضابطے میں لانا تھا تاکہ ملازمین کی حق تلفی اور استحصال کو روکا جاسکے۔

ویب سائٹ وکی پیڈیا کے مطابق اس تحریک کا آغاز جیمز ڈیب نامی شخص نے کیا اور اس کی جڑیں برطانیہ کے صنعتی انقلاب میں تھیں، جہاں بڑے پیمانے پر صنعتی پیداوار نے ملازمین کی زندگی بدل کر رکھ دی تھی۔ اس دور کے برطانیہ میں بچوں سے مشقت لینا معمول کی بات تھی۔ مزدوروں کے کام کے اوقات روزانہ 10 سے 16 گھنٹوں پر مشتمل ہوتے تھے اور انہیں ہفتے میں بمشکل ایک چھٹی مل پاتی تھی۔

اس ضمن میں 1810ءمیں رابرٹ اوون نے 10 گھنٹے یومیہ کی تاریخ شروع کی۔ سات سال کی تحریک کے بعد یہ مطالبہ 8 گھنٹے یومیہ تک پہنچ چکا تھا جس کا نعرہ تھا ”آٹھ گھنٹے کام، آٹھ گھنٹے تفریح اور آٹھ گھنٹے آرام۔“ سب سے پہلے انگلینڈ میں خواتین اور بچوں کو 10 گھنٹے یومیہ کا حق 1847ءمیں ملا۔ اس کے بعد فرانسیسی مزدوروں کی زندگی میں آسانی اس وقت آئی جب ان کے کام کا دورانیہ 12 گھنٹے یومیہ مقرر کیا گیا۔

مزدوروں کے حقوق کے لئے عظیم فلسفی کارل مارکس کے نظریات نے بنیادی کردار ادا کیا۔ انہوں نے سرمایہ دارانہ معاشرے میں مزدوروں کے استحصال کو اپنی تحریروں او رنظریات کا موضوع بنایا اور پورے یورپ کے مزدوروں کو جگایا۔ متعدد ممالک میں مزدوروں کے اوقات کار طے کرنے کے لئے تحریک چلائی گئی جس کے نتیجے میں پہلے 12 گھنٹے، پھر 10 گھنٹے اور بالآخر یوراگوائے میں پہلی بار 8 گھنٹے یومیہ کے اوقات مقرر کئے گئے۔ تاریخی اہمیت کا یہ قانون 17 نومبر 1915ءکے روز نافذ العمل ہوا، جس کے اثرات رفتہ رفتہ باقی دنیا تک بھی پہنچ گئے اور 8 گھنٹے کی شفٹ ہر جگہ رواج پا گئی۔