پورن فلمیں انسان کو درجہ بدرجہ کس طرح تباہی اور اذیت ناک موت کی طرف لے جاتی ہیں ۔۔۔۔؟ نامور پاکستانی کالم نگار کی یہ تحریر ہر نوجوان ضرور پڑھے

لاہور (ویب ڈیسک) انیسویں صدی کے آغاز میں کیمرہ ٹیکنالوجی میں مزید بہتری آئی۔ مناظر پہلے سے زیادہ صاف اور معیاری ریکارڈ ہونے لگے۔ اس کے ساتھ ہی فرانس اور دیگر یورپی ممالک نے سرکاری سطح پر پورن تھیٹر کھول دیئے، جہاں پورن اداکاروں کی پیداوار کا سلسلہ شروع ہوا۔۔۔!1920ء تک یورپی تہذیب پورنو گرافی کے اس زہر میں ڈوب چکی تھی۔

نامور کالم نگار میاں اشفاق انجم اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔عوام سر عام سڑکوں کو بیڈ روم بنائے اپنا شوق پورا کرنے لگے۔ ساحل سمندر عیاشی کے اڈے بن گئے۔میاں بیوی ایک دوسرے کی ذمہ داریوں سے بھاگنے لگے ۔۔۔!1970ء میں پورنو گرافی کا زہر برصغیر میں داخل کرنے کی کوشش کی گئی۔ پہلے پہل یہ صرف تصاویر پر مشتمل تھا۔ اسے ویڈیو دکھانے کے لئے یورپی کمپنیز نے پاکستان و بھارت میں پورن سینما کی اجازت چاہی۔ اس کے جواب میں صرف انکار ہی نہیں کیا گیا،بلکہ پورنو گرافی کو باقاعدہ ایک جرم قرار دیا گیا۔۔۔ دوسری طرف یورپی ممالک میں سیکس ویڈیوز کی ڈیمانڈ کم ہونا شروع ہو گئی، کیونکہ ایک ہی سین ہر فلم میں دیکھ کر عوام بور ہونے لگے تھے۔ دوسرا بذات خود ان کا معاشرہ اتنا آزاد ہوچکا تھا کہ ویڈیو دیکھنے کی ضرورت روز بروز کم ہونے لگی۔اس صورتِ حال سے پریشان ہوکر پورن انڈسٹری نے پورنو گرافی کے نئے انداز پر کام کرنے کے بارے میں سوچا۔ یوں پورن کیٹیگری پراجیکٹ کا آغاز ہوا۔ اس میں سیکس کو کئی اقسام میں تقسیم کر دیا گیا۔ ہر قسم کا اپنا ایک منفرد انداز ہوتا تھا۔۔۔اگر آج ہم کسی پورن ویب سائٹ کو اوپن کریں تو ہمارے سامنے ایک لسٹ اوپن ہو جاتی ہے، جس میں سیکس کی مختلف کیٹگریز نظر آتی ہیں۔

جب کیٹیگری پراجیکٹ یورپی عوام کے سامنے لایا گیا تو دیکھنے والوں کا اژدھام لگ گیا، کیونکہ اس دفعہ فحاشی کے مناظر روایتی طریقوں سے ہٹ کر ریکارڈ کئے گئے تھے، یہ پراجیکٹ پورن انڈسٹری کے لئے آب حیات کی صورت اختیار کر گیا، کیونکہ اسی کی بدولت ہر شخص کی جنسی نفسیات ابھر کر سامنے آئیں۔ مثلا ایک شخص دھواں دار جنسی مناظر کے بجائے ریلیکس پورن دیکھنا پسند کرتا ہے، تو اس کے لئے الگ کیٹیگر ی موجود ہوگی۔اور یقیناًًپانچ سال بعد بھی وہ ریلیکس پورن دیکھنا ہی پسند کرے گا۔ یوں ہر شخص کی جنسی خواہش کے مطابق اسے پورن گرافی کا نشہ ملنے لگا۔۔۔1980 ء میں وی سی آر ٹیکنالوجی برصغیر میں عام ہوئی۔ اگرچہ ستر کی دہائی میں کمپیوٹر بھی پاکستان میں اکا دکا جلوہ گر ہوچکے تھے، لیکن عام لوگ اس سے نا آشنا تھے۔ لہٰذا لوگ پردہ سکرین سے ہٹ کر وی سی آر کی طرف متوجہ ہوئے۔ اسی دوران پاکستان فلم انڈسٹری بھی پوری شان سے ابھر کر سامنے آئی۔ یورپی کمپنیز نے جب ایشیائی لوگوں کا وی سی آر کی طرف رجحان دیکھا تو ان کی آنکھوں میں لالچ کی چمک پیدا ہوئی۔ یوں فحش فلمیں پاکستان، بھارت اور دیگر ایشیائی ممالک میں بلیک ہو کر بکنے لگیں۔۔۔

1998 ء میں یورپی پورن انڈسٹری نامعلوم ہاتھوں میں چلی گئی۔پہلے یہ صرف جنسی کاروبار کے طور پر استعمال ہوتی تھی، لیکن پھر اسے پوری دنیا کو جنسی دہشت گردی کے لئے چنا گیا۔ پورن انڈسٹری میں ایک ایسا جنسی طریقہ متعارف کروایا گیا، جو براہِ راست کینسر ، گلوریا اور دیگر تباہ کن بیماریوں کا موجب ہے۔ اس طریقہ کار کو اورل سیکس کہتے ہیں۔ آپ نے ایک چیز اکثر نوٹ کی ہو گی۔ پورن فلم کی چاہے کوئی بھی کیٹیگری ویڈیو دیکھ لیں۔ فلم کے سٹارٹ میں اورل سیکس کا مظاہرہ ضرور کیا جاتا ہے۔ ایسے لگتا ہے جیسے یہ بھی ایک باقاعدہ جنسی عمل کا حصہ ہے۔۔۔ سائنسی میڈیکل رپورٹ کے مطابق ہمارے جسم میں ایک مادہ منی کے ساتھ خارج ہوتا ہے، جو ڈی این اے میں اکثر خرابی کا باعث بنتا ہے۔ اگر وہ منہ کے ذریعے معدے میں چلا جائے یا دانتوں میں اس کی کوئی باقیات رہ جائیں۔ تو وہ منہ کے خلیات میں p16 پروٹین نامی مادہ پیدا کر دیتا ہے، جو منہ کے کینسر اور بلڈ پرابلمز کو جنم دیتا ہے اور یہ وہ بیماریاں ہیں جن کا علاج یہودی لیبارٹریوں کے علاوہ کہیں نہیں ملتا۔ ان بیماریوں کی تمام دوائیاں اسرائیلی کمپنیز نہایت مہنگے داموں فروخت کرتی ہیں۔

ان بیماریوں سے متاثرہ مریضوں کے چہرے بدل جاتے ہیں اور موت سسک سسک کر آتی ہے، لہٰذا اورل سیکس کے شوقین اپنا شوق پورا کرنے سے پہلے چشم تصور میں انجام بھی سوچ لیں۔۔۔اورل سیکس دراصل خفیہ یہودی ایجنسیوں کا ذریعہ آمدنی ہے۔ اسی کے ذریعے لوگ ان کا شکار بنتے ہیں اور لاکھوں ڈالر لٹاتے ہیں۔ اورل سیکس کے ساتھ سکیٹ ایٹنگ اور پس ڈرنکنگ سیکس کی ویڈیوز بھی منظر عام پر آرہی ہیں، جویہودی ایجنسیوں کی سازش کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ان پورن ویڈیوز میں کام کرنے والے اداکاروں کو شوٹنگ کے فوری بعد،ان کے منہ میں مخصوص سپرے کیے جاتے ہیں جو منہ میں گری غلاظت کے تمام جراثیم ختم کر دیتے ہیں۔ ہمارے عام علماء کا خیال ہے کہ پورن ویڈیوز صرف مسلمانوں کے خلاف بطور ہتھیار استعمال ہوتی ہیں۔ حقیقتاً ایسا نہیں ہے۔ یہودی ایجنسیوں کا ٹارگٹ پوری دُنیا کے مذاہب ہیں، کیونکہ تمام مذاہب ان کے انتہا پسند نظریات کو ہر صورت رد کرتے ہیں۔۔۔یہودی نہایت مہارت سے شاطرانہ چال چلتے ہوئے ایک ایسے منصوبے پر کام کر رہے ہیں، جسے ون ورلڈ آرڈر کہتے ہیں، یعنی ایک ایسی دنیا جہاں کسی خدا کا تصور نہ ہو، جہاں کوئی تہذیب نہ ہو، جہاں کوئی قانون نہ ہو۔ بس ایک ہی اصول ہو اور وہ ہے

یہودی غلامی، اس مشن کی تفصیلات بہت چشم کشا ہیں ۔۔۔ بس اتنا کہوں گا کہ پوری دُنیا پر یہودی راج کے لئے ہر وہ ہتھکنڈہ آزمایا جا رہا ہے جو آج کی تاریخ میں ممکن ہے۔ لوگوں کو ہر طرف سے جنسی، نفسیاتی، سیاسی، سماجی اور مذہبی غرض ہر طرف سے پھنسایا جا رہا ہے اور ہم لوگ بے خبری میں پھنس رہے ہیں۔ یہودی ایجنسیوں کے خفیہ ہتھکنڈوں پر حقیقت کا چاقو چلانے کے لئے یوٹیوب پر الماس یعقوب نام سے ایک چینل موجود ہے۔ اس کا مطالعہ ضرور کیجئے اور اسے سبس کرائب کیجئے۔ اس کے ساتھ اس بھائی کا شکریہ بھی ادا کیجئے۔ جو نہایت محنت سے یہودی ہتھکنڈوں سے پردہ اٹھا رہے ہیں ۔۔۔ دوستو۔۔۔!بیسویں صدی کا سورج طلوع ہوا۔ ایشیا میں ابھی دھندلے معیار کی ویڈیو ٹیکنالوجی کا دور ختم نہیں ہوا تھا،جبکہ یورپی ممالک میں HD ٹیکنالوجی منظر عام پر آچکی تھی۔ ہالی وڈ فلم انڈسٹری بے مثال فلمیں پروڈیوس کر رہی تھی۔ اس کے علاوہ یورپی ممالک انٹرنیٹ کی ٹیکنالوجی سے بھی بھر پور فائدہ اٹھا رہے تھے،جبکہ پاکستان میں پہلی بار انٹرنیٹ سروس 1992ء میں آئی۔ اسے ایک یورپی کمپنی برین نیٹ نے پاکستان میں پرائیویٹ طور پر لانچ کیا تھا۔ اس کے پہلے انجینئر منیر احمد خان تھے، جنہوں نے پاکستان میں انٹرنیٹ سرور کو کنٹرول کیا۔ اس کی ابتدائی سپیڈ 128 کے بی تھی۔۔