مثبت خیالات کی قوت

اگرمنفی سوچوں سے انسان بیمار ہو جاتا ہے تو کیا مثبت اورتعمیری خیالات اس کی صحت بہتر کر سکتے ہیں؟ یہ سوال ایسا ہی ہے جیسے کوئی پوچھے کہ جی میں سگریٹ چھوڑ تو دیتا ہوں لیکن کیا اگلے دو مہینوں میںاگرمنفی سوچوں سے انسان بیمار ہو جاتا ہے تو کیا مثبت اورتعمیری خیالات اس کی صحت بہتر کر سکتے…
تاہم دیکھا گیا ہے کہ منفی خیالا ت جہاں صحت کو متاثر کرتے ہیں ، وہاں مثبت خیالات اس کی بیماریوں میں کمی کر سکتے ہیں۔ ماہرین اس سلسلے میں طے شدہ تصور (Gidedimmagenry) کے طریقے کو استعمال کرتے ہیں۔ تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ یہ طریقہ ایسے مریضوں کی حالت بہتر بنانے میں زبردست کامیابی سے ہمکنار ہوا ہے۔
جو اپنی صحت یابی سے تقریبا مایوس ہو چکے تھے۔ اس طریقے میں مریض کو پرسکون ماحول میں چت لٹا کر گہری گہری سانسیں لینے کا حکم دیا جاتا ہے۔ جب وہ مکمل طور پر اپنے آپ کو پرسکون محسوس کرنے لگتا ہے تو اسے اپنے جسم کے اندر ایک ایسا منظر دیکھنے کی ہدایت کی جاتی ہے۔
جس میں اس کے جسم میں موجود دفاعی خلیوں کی تعداد خودبخو ددگنی ہوتی جارہی ہو ایک سے دو دو سے چار چار سے آٹھ سولہ بتیس، یہاں تک کہ ان کی تعداد سیکڑوں تک پہنچ جائے۔
اس کا سارا جسم بیماری کے خلاف لڑنے والے خلیوں سے بھر جائے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ اس تصور نے تقریبالاعلاج مریضوں کو مل شفابخشی ہے اور متواتر تصور کے ذریعے بہت سی بیماریوں کو جڑ سے اکھاڑابھی جاسکتا ہے۔
طے شدہ تصور کی مثالیں آپ آئے دن اخبارات میں پڑھتے رہتے ہیں۔ اس کے کرشموں یامعجزوں کو قوت ارادی سے تعبیر کیا جاتا ہے اور ایک بیمار فردکی صحت یابی پر اس کی اہمیت کو پہاڑوں سے بھی بلند قرار دیا جاتا ہے۔ ابھی چند دنوں پہلے اس کی ایک مثال ہمارے ملک کے ایک ٹی بی سینی ٹوریم میں بھی پیش آ چکی ہے۔ یہاں ایک اٹھائیس سالہ نوجوان ٹی بی کے آخری مراحل میں تھا۔
ڈاکٹر اس کی موت کے بارے میں پر یقین تھے اور اس کی زور بروز گرتی ہوئی صحت کا گراف تمام شکوک وشبہات کو قوی تر کرتا جارہا تھا۔مگروہ تو جوان مرنا نہیں چاہتا تھا۔
اسے زندگی سے محبت تھی اور وہ اس کا بھر پور لطف حاصل کرنا چاہتا تھا۔ اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا کرے۔ خوف وحراس کے عالم میں ایک رات اس نے طے شدہ تصور، کا طریقہ آزمایا۔ اس رات سکون سے بستر پر لیٹ کر اس نے اپنے ذہن سے نہ تمام خدشا ت جھٹک دیئے اور صرف ایک ہی بات کو زمین میں دہرانا شروع کیا۔مجھے زندہ رہنا ہے۔ میری بیماری کم ہورہی ہے۔ میں زندہ رہوں گا۔
مجھے کوئی بیماری نہیں ہے۔ ڈاکٹر بکواس کرتے ہیں۔ میں نہیں مرسکتا۔ساری رات وہ یہی باتیں دہراتا رہا، مگر کچھ نہ ہوا۔
اگلی صبح ڈاکٹر نے جو رپورٹ لکھی، اس میں نوجوان کی حالت نہ بہتر ہوئی تھی اور نہ مزیدخراب۔ نوجوان نے دوسری رات پھر یہ عمل دہرایا۔ امید افزاخیالات اس کے ذہن میں گردش کرتے رہے۔
وہ زندگی کے متعلق سوچتارہا۔ موت سے جنگ اس کے دماغ کی اسکرین پر چلتی رتی۔ حتیٰ کہ صبح اس نے موت کومیدان خیال میں شکست دے دی۔صبح ڈاکٹر نے رپورٹ میں حیرت سے لکھا۔
حالت تسلی بخش “ تیسری رات بھی یہی کچھ ہوا۔ پھر چوتھی، پانچویں دس راتیں گزر گئیں۔ گیارہویں صبح ڈاکٹروں کا ایک پینل نوجوان کے بستر کو گھیرے میں لیے کھڑا تھا۔ ان سب کی آنکھوں میں بے یقینی تھی۔
وہ سب خوشی اور استعجاب سے بستر پر لیٹے ہوئے نوجوان کو دیکھ رہے تھے جس کی رپورٹ دن بدن بہتر ہوتی چلی جارہی تھی۔ ان سب کے لئے یہ نا قابل یقین تھا میڈیکل سائنس کی تعلیم نے انہیں معجزوں پر یقین نہیں سکھایا تھا۔ مگر یہاں معجز خودان کے سامنے ظہور پذیر ہورہا تھا۔ دھیرے دھیرے وہ نوجوان حیرت انگیز طور پر صحت یاب ہورہا تھا۔ اس نے اپنی صحت یابی کے راز سے کی آگاہ نہیں کیا۔
بس مسکراتے ہوئے سب کو دیکھتا رہا۔ تا ہم اس کاعمل خاموشی سے جاری تھا۔ یہاں تک کہ ایک دن اس نے اپنی خاموشی کی مہر توڑ دی اس نے صبح اٹھ کر قلابازیاں لگائیں۔
دو مریضوں کو کھینچ کر بستر سے نیچے گرادیا اورمالی پرپانی کی بالٹی الٹ دی۔بعدازاں اس نے ایک نازک اندام نرس کوگلاب کا پھول بھی مسکرا کر پیش کیا۔
آج کی صبحس وہ بہت خوش تھا۔ آج اس کی ہسپتال سے پھٹی ہورہی تھی۔ ڈاکٹر نے اپنی رپورٹ میں لکھا۔ نا قابل یقین مگرمکمل صحت یابی‘ نوجوان گھر چلا گیا۔
ڈاکٹر کو معجزات پر یقین آ گیا۔یہ معجزہ کسی اور کا نہیں، صرف خیال کی قوت کا مرہون منت تھا۔ نوجوان نے اپنے اندر کی قوتوں کو سدا دی اور انہوں نے اسے موت کے بھنور سے باہرکھینچ لیا۔
اگر اس واقعہ کا تجزیہ کیے تو معلوم ہوگا کہ جب نوجوا ن کی صحت گرتی جارہی تھی۔ لیکن جوں ہی اس نے امید کا دامن تھاما اور ہمت باندھی۔ اس کی بیماری کامکمل خاتمہ ہوگیا۔ اخبارات میں اس واقعے کا بڑا چرچا ہوا تھا۔ کچھ اسے ڈاکٹری علاج کہتے تھے، پیچھے قوت ارادی، کچھ نے اسے تائید ایزدی جانا، جب کہ ماہرین نفسیات اسے، طے شدہ تصور کا جانفزاکیلیل کہتے ہیں

کیٹاگری میں : صحت