ایک چرسی کا بھائی فوت ہو گیا ، سانحے کی اطلاع اس نشہ باز نے گھر میں موجود اپنی بھابی کو کیسے دی ؟ اس تحریر میں شامل لطیفہ پڑھ کر آپ کو ایک شاندار سبق ضرور حاصل ہو گا

لاہور (ویب ڈیسک) سید ابولاعلیٰ مودودی نے فرمایا تھا ’’ یہ قوم اسلام پر مرنے کے لیے تیار ہے لیکن اسلام پر جینے کے لیے تیار نہیں ہے‘‘۔۔۔ آپ قرآن کا مطالعہ کریں سورۃ البقرہ سے لے کر والناس تک چلے جائیں۔ آپ کو نماز ، روزہ ، حج ، زکوۃ میں سے کسی ایک فرض کی تفصیلات نہیں ملیں گی۔

نامور مضمون نگار علی عمران جونیئر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔آپ کو یہ تک نظر نہیں آئے گا کہ نماز کا طریقہ کیا ہے ؟ آپ کو ان عبادات کی تسبیحات تک نہیں پتا چل پائیں گی۔ لیکن نکاح ، طلاق ، خلع ، شادی ، ازدواجی معاملات ، میاں بیوی کے تعلقات ، گھریلو ناچاقی ، کم یا زیادہ اختلاف کی صورت میں کرنے کے کام۔آپ کو سارا کچھ اللہ تعالیٰ کی اس مقدس ترین کتاب میں مل جائے گا جس کو ہم اور آپ’’ چوم چوم‘‘ کر رکھتے ہیں۔۔۔یہ بھی اپنی جگہ حقیقت ہے کہ ، ہمارے معاشرے میں طلاق اور خلع کی سب سے بڑی وجہ عدم برداشت ہے۔ یاد رکھیں اچھا اور صحت مند گھرانہ کسی اچھے مرد سے نہیں بنتا ، بلکہ ایک اچھی عورت کی وجہ سے بنتا ہے۔حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں، جب دین گھر کے مرد میں آتا ہے تو گویا گھر کی دہلیز تک آتا ہے لیکن اگر گھر کی عورت میں دین آتا ہے تو اس کی سات نسلوں تک دین جاتا ہے۔ قربانی ، ایثار ، احسان ، درگزر ، معافی ، محبت اور عزت یہ اسلام اور قرآن کی ڈکشنری میں آتے ہیں۔ کمال تو یہ ہے کہ ان جوڑوں کی طلاق زیادہ جلدی ہوجاتی ہے جو ’’ جوائنٹ فیملی ’’ میں نہیں رہتے۔

مصر میں عبد الفتاح سیسی جیسا حکمران تک طلاقوں سے پریشان ہے۔ کیونکہ مصر میں 40 فیصد شادیاں اگلے پانچ سالوں میں طلاق کی نذر ہوجاتی ہیں۔سعودی عرب میں ہر ایک گھنٹے میں پانچ طلاقیں ہوتی ہیں، عرب نیوز کے مطابق 2016ء میں ڈیڑھ لاکھ سے زائد شادیوں میں سے چھیالیس ہزار کا انجام طلاق کی صورت ہوا۔۔۔ خواتین کی نہ ختم ہونے والی خواہشات نے بھی معاشرے کو جہنم میں تبدیل کردیا ہے۔ الیکٹرانک میڈیا نے گوٹھ، گاؤں اور کچی بستیوں میں رہنے والی لڑکیوں تک کے دل میں ’’ شاہ رخ خان ‘‘جیسا آئیڈیل پیدا کر دیا ہے۔ محبت کی شادیاں عام طور پر چند ’’ ڈیٹس‘‘، کچھ فلموں اور تھوڑے بہت تحفے تحائف کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ لڑکیاں اور لڑکے سمجھتے ہیں کہ ہماری باقی زندگی بھی ویسے ہی گزرے گی ،جیسا فلموں میں دکھاتے ہیں ، لیکن فلموں میں کبھی شادی کے بعد کی کہانی دکھائی ہی نہیں جاتی ۔ اس سے فلم فلاپ ہونے کا ڈر ہوتا ہے۔گھریلو زندگی کی تباہی میں سب سے بڑا عنصر ناشکری بھی ہے۔ کم ہو یا زیادہ ، ملے یا نہ ملے یا کبھی کم ملے پھر بھی ہر حال میں اپنے شوہر کی شکر گزار رہیں۔سب سے بڑی تباہی واٹس ایپ اور فیس بک کے ساتھ سوشل میڈیا نے مچائی ہے۔

پہلے لڑکیاں غصے میں ہوتی تھیں یا ناراض ہوتی تھیں تو ان کے پاس اماں ابا اور دیگر لوگوں تک رسائی کا کوئی ذریعہ نہیں ہوتا تھا۔شوہر شام میں گھر آتا ، بیوی کا ہاتھ تھام کر محبت کے چار جملے بولتا ، کبھی آئسکریم کھلانے لے جاتا اور کبھی ٹہلنے کے بہانے کچھ دیر کا ساتھ مل جاتا اور اس طرح دن بھر کا غصہ اور شکایات رفع ہوجایا کرتی تھیں۔ لیکن ابھی ادھر غصہ آیا نہیں اور ادھر واٹس ایپ پر سارے گھر والوں تک پہنچا نہیں۔ یہاں میڈم صاحبہ کا ’’ موڈ آف ’’ ہوا اور ادھر فیس بک پر سٹیٹس اپ لوڈ ہو گیا۔ اور اس کے بعد یہ سوشل میڈیا کا جادو وہ وہ گل کھلاتا ہے کہ پورے کا پورا خاندان تباہ و برباد ہوجاتا ہے یا نتیجہ خود کشیوں کی صورت میں نکلتا ہے۔ مائیں لڑکیوں کو سمجھائیں کہ، خدارا، اپنے شوہر کا مقابلہ اپنے باپوں سے نہ کریں۔ ہوسکتا ہے آپ کا شوہر آپ کو وہ سب نہ دے سکے جو آپ کو باپ کے گھر میں میسر تھا،لیکن یاد رکھیں آپ کے والد کی زندگی کے پچاس، ساٹھ سال اس دشت کی سیاحی میں گزر چکے ہیں اور آپ کے شوہر نے ابھی اس دشت میں قدم رکھا ہے۔

آپ کو سب ملے گا اور انشاء اللہ اپنی ماں سے زیادہ بہتر ملے گا۔ اگر نہ بھی ملے تو بھی شکر گزاری کی عادت ڈالیں ،سکون اور اطمینان ضرور ملے گا۔ بیویاں شوہروں کی اور شوہر بیویوں کی چھوٹی چھوٹی باتوں پر تعریف کرنا اور درگزر کرنا سیکھیں۔ ہمارے پیارے دوست کہتے ہیں، میاں بیوی ایک دوسرے کی تعریف ضرورکیاکریں اس سے محبت بڑھتی ہے لیکن خبردار تعریف کے دوران ہنسنے سے پرہیز کریں۔۔۔ایک صاحب اپنی بیوی کو طلاق دینے قاضی کے پاس گئے تو قاضی نے کہا، آپ اپنے اس فیصلے پر اچھی طرح غورکرلیں ، تمہارے طلاق دینے کے بعد نان و نفقہ کے طور پر تمہاری آدھی تنخواہ تمہاری بیوی کو چلی جایا کرے گی۔ اْن صاحب نے کہا، قاضی صاحب تو پھر آپ طلاق کو حتمی کرنے کے لئے جلدی سے بسم اللہ کریں ، پہلے تو میری پوری تنخواہ ہی چلی جایاکرتی تھی۔۔۔کسی چرسی کا بھائی مرگیا، اب اسے یہ ٹیشن ہوئی کہ بھابھی کو کس ’’سلیقے ‘‘ سے اطلاع دے کہ اسے کم سے کم صدمہ پہنچے،بھابھی سے جاکر بولا۔۔۔بھائی نے سارے پیسے جوئے میں ہاردیئے، وہ بولی، اللہ اس کی زندگی برباد کرے، چرسی کہنے لگا۔۔۔ بھائی نے اپنا گھر بھی بیچ ڈالا ۔۔۔وہ بولی ، اللہ اس کی عمر کو روگ لگائے۔۔۔

چرسی پھر کہنے لگا، بھائی نے ایک اور شادی کرلی ہے۔۔۔وہ بولی، اللہ کرے مرے ،میں اب اس کا مرا منہ بھی نہیں دیکھوں گی۔۔۔ چرسی نے باہر کے دروازے کی طرف منہ کیا اور زوردار آواز میں بولا۔۔۔بھائیو،اب میت اندر لے آؤ۔۔۔ زندگی میں معافی کو عادت بنالیں۔ خدا کے لیے باہر والوں سے زیادہ اپنے شوہر کے لیے تیار ہونے اور رہنے کی عادت ڈالیں۔ساری دنیا کو دکھانے کے لیے تو خوب ’’ میک اپ‘‘ لیکن شوہر کے لئے ’’ سر جھاڑ منہ پھاڑ‘‘ ایسا نہ کریں۔ خدا کو بھی محبت کے اظہار کے لیے پانچ دفعہ آپ کی توجہ درکار ہے۔ ہم تو پھر انسان ہیں جتنی دفعہ ممکن ہو محبت کا اظہار کریں، کبھی تحفے تحائف دے کر بھی کیا کریں۔ قیامت کے دن میزان میں پہلی چیز جو تولی جائیگی وہ شوہر سے بیوی کا اور بیوی سے شوہر کا سلوک ہوگا۔یاد رکھیں، مرد کی گھر میں وہی حیثیت ہے جو سربراہ حکومت کی ریاست میں ہوتی ہے۔ اگر آپ ریاست کی بہتری کی بجائے ہر وقت سربراہ سے بغاوت پر آمادہ رہیں گی تو ریاست کا قائم رہنا مشکل ہوجائے گا۔ جس کو اللہ نے جو عزت اور مقام دیا ہے اس کو وہی عزت اور مقام دینا سیکھیں، چاہے آپ مرد ہیں یا عورت۔ ایک مثالی گھر ایک مثالی خاندان تشکیل دیتا ہے اور ایک مثالی خاندان سے ایک صحتمند معاشرہ وجود میں آتا ہے۔ اوریہی اسلام کی منشا ہے۔