رمضان کریم کی آمد: قرآن پاک میں روزہ داروں کے لیے کیا احکامات ہیں اور حضور اکرم ؐ نے کون کون سی خوشخبریاں سنائی ہیں؟ پڑھیے ایک شاندار رپورٹ

لاہور (ویب ڈیسک) جو شخص پانی سے روزہ افطار کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کے جسم کے ہر بال کے عوض دس نیکیاں لکھنے کا حکم فرماتاہے، دس گناہ معاف فرماتا ہے، دس درجات بلند فرماتا ہے۔ جو شخص حلال روزی سے افطار کرتا ہے۔ ہر لقمے پر ایک روزے کا ثواب ملتا ہے۔

حدیثِ مبارکہ میں ہے، جو اپنے بیوی بچوں کے ساتھ روزہ افطار کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے ہر لُقمے پر ایک غلام آزاد کرنے کا ثواب دیتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتاہے:’’ اُن سب کے لیے مغفرت اور اَجرِ عظیم ہے، روزہ رکھنے والے مرد اور عورتوں کے لیے، اپنی جانوں کی حفاظت کرنے والے مرد اور عورتوں کے لیے،اللہ کوبہ کثرت یاد کرنے والے مرد اور عورتوں کے لیے۔‘‘ ان سب کے لیے اللہ تعالیٰ نے مغفرت واَجرِ عظیم تیار کررکھا ہے۔ حضورِ اکرمؐ کاارشادِ مبارکہ ہے:’’ تم روزہ رکھا کرو، اُس کے برابر کوئی عمل نہیں۔ روزہ اور قرآن پاک روزِ قیامت بندے کے لیے شفاعت کریں گے۔‘‘ حدیثِ مبارکہ میں آتا ہے :’’اگر لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ رمضان کا مہینا کتنا عظمت و ثواب والا ہے تو میری اُمّت یہ تمنا کرنے لگے کہ سارا سال ماہ ِرمضان بن جائے۔‘‘ قبیلہ خزاعہ کے ایک صحابیؓ نے عرض کی:’’ یا رسولؐ اللہ! اس کی وضاحت فرمائیں ۔‘‘آپؐ نے ارشاد فرمایا:’’ سال کے شروع سے اخیر تک جنّت ماہِ رمضان کے لیے مزیّن ہوتی رہتی ہے، جب پہلاروزہ ہوتا ہے تو عرش کے نیچے سے ایک ہَوا چلتی ہے اور اس سے جنّت کے درختوں کے پتّے حرکت میں آتے ہیں، حوریں اِن کی طرف دیکھ کر کہتی ہیں، یارَبّ العالمین! اس مبارک مہینے میں اپنے نیک بندوںمیں سے ہمارے لیے ایسے خاوند عطا فرما،جن سے ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور ہم سے اُن کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں۔‘‘

حضوراکرمؐ مزیدارشاد فرماتے ہیں:’’پس جو بندہ ماہِ رمضان کے روزے رکھتا ہے، اُس کی حوروں میں سے ایک کے ساتھ (خول دار بہت بڑے) موتی کے خیمے میںشادی کردی جاتی ہے، جیساکہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتاہے:’’حوریںہیں، خیموں میںرُکی رہنے والیاں۔ اُس کو ستّرا قسام کی ایسی خوش بوئیں عطا کی جائیں گی، جن میںسے کوئی خوش بُو دوسر ی سے ملتی جُلتی نہ ہوگی، اس حور کی خدمت گار ستّر ہزار لونڈیاںاور ستّر ہزار خُدام ہوں گے، ہر ایک کے پاس سونے کی بڑی بڑی طشتریاں ہوںگی۔ اُن میںالگ الگ قسم کا کھانا ہوگا۔جس کے آخری لقمے سے ایسی لذّت حاصل ہوگی جو اُسے ابتدا میں حاصل نہ ہوگی، یعنی کھانے کا لُطف بڑھتا جائے گا۔ ہر حورکے لیے یاقوت احمر کے ستّر تخت ہوں گے، ہر تخت پر ستّر پلنگ ہوں گے، جن کا اَستر موٹے ریشم کا ہوگا، ہر پلنگ پر ستّر حجلہ ہائے عروسی ہوں گے جب کہ اُس کے خاوند کو بھی اتنے ہی پلنگ دیے جائیں گے۔ جو یاقوتِ احمر سے بنائے گئے ہوںگے اور انہیں جواہر سے مُرصّع کیا گیا ہوگا۔ اس جنّتی دولہا کے ہاتھوںمیں سونے کے دو کنگن ہوں گے۔یہ انعام اُس کے ہر روزے کا ہوگا، جو اس نے ماہ رمضان میں رکھے تھے اور وہ اعمالِ صالحہ جو دوسرے اوقات میں کیے ہوںگے، اُن کے انعام علیحدہ ملیں گے۔‘‘(بخاری شریف)

جس شخص نے بھی اس مہینے میںکوئی نیک کام کرکے اللہ تعالیٰ کا قُرب حاصل کیا،اُس کے عمل کا یہ درجہ ہے کہ گویا کہ غیر رمضان میں اُس نے کوئی فرض عمل کیا ہو۔ یہ مہینا دوسروں پر مہربانی اور اُن کی مدد کرنے کا ہے۔ اسی مہینے میںمؤمن کے رزق میںاضافہ کردیاجاتاہے۔ یہ وہ مہینا ہے جس کا اوّل عشرہ رحمت،درمیانی عشرہ مغفرت اور آخری عشرہ دوزخ سے نجات کا ہے۔ جس نے رمضان المبارک میں اپنے مملوک اور نوکر چاکر سے خدمت لینے میں تخفیف کی، اللہ تعالیٰ اُس کی بخشش فرماکراُسے دوزخ سے آزاد کردے گا۔ اس مبارک مہینے میں چار کام اپنے ذمّے کرلینے چاہئیں۔ اُن میں دو کام ایسے ہیں، جن کے ساتھ تم اپنے رَبّ کو راضی کرسکتے ہو اور دو کام ایسے ہیں، جن سے تم بے نیاز نہیں ہو سکتے، پس وہ دو کام جن سے اپنے رَبّ کو راضی کرسکتے ہو، ایک تو اس بات کی گواہی دیا کرو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اوردوسرے یہ کہ اُس سے اپنے گناہوںکی بخشش مانگاکرو، جب کہ وہ دوکام جن سے تم کبھی بے نیاز نہیں ہوسکتے،ایک تویہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے جنّت طلب کیا کرو اور دوسرے یہ کہ جہنم سے اُس کی پناہ مانگا کرو۔ حدیثِ مبارکہ میں ہے کہ جس بندے نے روزے دار کوافطار میں پانی پلایا تواللہ تعالیٰ اُسے میرے حوض ِکوثرسے پانی پلائیں گے، کہ اُسے پھر پیاس نہ لگے گی حتیٰ کہ وہ جنّت میںداخل ہوجائے۔ (رحمت کے خزانے) حضورِاکرمؐ نے ارشاد فرمایا: ’’ماہِ رمضان کے ہر دن افطار کے وقت اللہ کی طرف سے ایسے ایک لاکھ بندوں کو دوزخ سے آزاد کیا جاتا ہے، جو دوزخ کے مستوجب ہوچکے ہوتے ہیں۔

جب ماہِ رمضان کا آخری دن ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اتنی مقدار میں لوگوںکو دوزخ سے آزاد کرتے ہیں، جتنے انہوںنے شروع مہینے سے لے کر اخیر تک آزاد کیے ہوتے ہیں۔ جب شبِ قدر آتی ہے تو اللہ تعالیٰ حضرت جبرائیل ؑ کو حکم فرماتے ہیں تو وہ فرشتوں کی ایک جماعت کے ساتھ زمین پر اُتر تے ہیں۔اُن کے پاس سبز جھنڈا ہوتا ہے۔ اس جھنڈے کے ایک سو پَر ہوتے ہیں۔ ان میں سے دو پَر ایسے ہیں، جنہیں حضرت جبرائیل ؑ اِ س شب کے سوا کبھی نہیں پھیلاتے ،یہ جھنڈا مشرق اور مغرب سے تجاوز کرجاتاہے۔پھر حضرت جبرائیل ؑ فرشتوں کوحکم دیتے ہیں، تو وہ ہر لمحہ، کھڑے ہوکر اور بیٹھ کر عبادت کرنے والے، نماز پڑھنے والے، ذکر کرنے والے کو سلام اور مصافحہ کرتے ہیں، اُن کی دُعا پر آمین کہتے ہیں۔ حتیٰ کہ فجر ہوجاتی ہے۔ جب سورج طلوع ہوتا تو حضرت جبرائیل ؑ فرشتوںسے فرماتے ہیں:’’ اے جماعتو! کُوچ کرو۔‘‘ وہ پوچھتے ہیں:’’ اے جبرائیل ؑ!حضرت محمدمصطفی ؐ کی اُمّت کے مؤمنوںکی حاجات سے متعلق پروردگار نے کیا کیا؟‘‘ وہ فرماتے ہیں: ’’اللہ تعالیٰ نے اُن کی طرف نظرِ رحمت فرمائی اور انہیں معاف کردیا مگر چار لوگوںکو معاف نہیں کیا۔‘‘ صحابہ کرامؓ نے عرض کی: ’’یارسول اللہؐ ا! وہ کون لوگ ہیں؟‘‘ (جن کو اللہ تعالیٰ اس رات میںمعاف نہیں کرتے) آپؐ نے ارشاد فرمایا:‘‘وہ آدمی جو ہمیشہ شراب پیتا ہو، جو اپنے والدین کا نافرمان ہو، رشتے داروں سے تعلقات ختم کرنے والااورمشاحن۔‘‘

صحابہ کرام ؓنے عرض کی:’’ یارسول اللہﷺ ! مشاحن کون ہے؟‘‘ فرمایا:’’ لوگوں سے اور رشتے داروں سے الگ رہنے والا، اُن سے بغض اور کینہ رکھنے والا۔‘‘ حضرت عمر وبن میمون اُودیؓ بیان کرتے ہیں کہ سیّدی محمدمصطفی ؐ کے اصحاب سب لوگوں سے دیر تک سحری کرتے اور جلدی افطار کرتے۔حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ نے فرماتے ہیں:’’اُس وقت روزہ افطار نہ کرو، جب ستارے ظاہر ہوجاتے ہیںکیوںکہ یہ یہود کا طریقہ ہے۔‘‘ حضرت علی بن ابی طالبؓ نے ابن النباح سے استفسار کیا:’’ کیا سورج غروب ہوگیا؟‘‘ انہوں نے کیا: ’’جلدی نہ کریں۔‘‘ آپؓ نے پھر پوچھا:’’ کیا سورج غروب ہوگیا؟‘‘ انہوںنے کہا:’’ جی،ہاں۔ اب افطار کرلیں۔‘‘ آپؓ سواری سے اُترے اور نماز پڑھی۔ (نعمتہ الباری) ایک روایت میں ہے: ’’جو حلال کمائی سے رمضان میں روزہ افطار کروائے۔ رمضان کی تمام راتوں میں فرشتے اُس پر درودبھیجتے ہیں اور شب قدر میں حضرت جبرائیل ؑ اُس سے مصافحہ کرتے ہیں ۔حضرت جبرائیل ؑمصافحے کی علامت یہ ہے کہ عبادت، تلاوت، ذکرِ اللہ یا نعت خوانی وغیرہ کے دوران بے اختیار رِقّت طاری ہوجاتی ہے اور آنکھوں سے آنسو جاری ہوجاتے ہیں۔‘‘(اسلامی خُطابات) جو شخص پانی سے روزہ افطار کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کے جسم کے ہر بال کے عوض دس نیکیاں لکھنے کا حکم فرماتاہے، دس گناہ معاف فرماتا ہے، دس درجات بلند فرماتا ہے۔ جو شخص حلال روزی سے افطار کرتا ہے۔

ہر لقمہ پر ایک روزے کا ثواب ملتا ہے۔ حدیثِ مبارکہ میں ہے، جو اپنے بیوی بچوںکے ساتھ روزہ افطار کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے ہر لُقمے پر ایک غلام آزاد کرنے کا ثواب دیتا ہے۔ حدیث ِمبارکہ میں ہے:’’ سحری کھایا کرو، کیوںکہ سحری کھانے میں ہر لُقمے کے بدلے ساٹھ (60) سال کی عبادت کا ثواب ملتا ہے۔‘‘ افطار میںجلدی اور سحری کھانے میں دیر کرنا سُنّت ہے۔ افطار کے وقت یہ دُعا پڑھنی چاہیے:’’اے کشادہ بخشش والے! میرے گناہوں کو بخش دے، کیوں کہ سوائے رَبّ عرش عظیم کے سوا کوئی نہیں بخشتا۔‘‘ (انیس الواعظین) روزہ کھولتے وقت یہ دُعا پڑھنا سُنّت ہے : ’’اللہ کے نام سے کھاتا ہوں ۔ اے اللہ! میں نے تیرے لیے روزہ رکھا اور میں نے تیرے رزق پہ افطار کیا۔‘‘ (ابو دائود،اسلامی خطابات) افطار کے بعد یہ دُعا پڑھیں :’’پیاس جاتی رہی اور رَگیں تَر ہو گئیںاور اِن شاء اللہ اَجر ثابت ہوگیا۔‘‘ (اسلامی خطبات) افطار پارٹیوںمیں نمازِ مغرب میں جماعت کی تکبیرا ولیٰ کا خیال رکھیں۔ حلال آمدنی سے روزہ افطار کریں۔ مسجد میں افطار کرتے وقت آداب کا خیال رکھیں۔ کھانے پینے کی اشیاء ضائع نہ کریں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو شریعت کے مطابق روزہ رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین) عبداللہ بن عمر وبن العاصؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا: ’’روزے دار کی دُعا، افطار کے وقت رَدنہیںکی جاتی۔‘‘

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کہ رسول اللہ ؐ فرماتے ہیں: ’’تین افرادکی دُعا رَد نہیں کی جاتی۔ روزے دار جس وقت افطار کرتا ہے، عادل بادشاد اور مظلوم۔ اللہ تعالیٰ انہیںاَبر سے بلند کرتا ہے۔اور ان کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:’’ مجھے اپنی عزّت و جلال کی قسم ضرور تیسری مدد کروں گا، اگرچہ تھوڑے زمانے میں۔ ‘‘ ابن حبان و بیہقی ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ نبیٔ کریم آنحضرت محمد مصطفی صلّی اللہ علیہ وآلہٖ وسلّم نے فرمایا:’’ جس نے رمضان کا روزہ رکھااور اس کی حدود کو پہچانا اور جس چیز سے بچنا چاہیے، اُس سے بچا تو جو پہلے کرچکا ہے اس کا کفارہ ہوگیا۔‘‘ (بہارِ شریعت) آفتاب کے غروب ہونے کا یقین ہوجانے کے بعد افطار میں تاخیر کرنا مکروہ ہے۔ افطار جلدی کرنے کا مطلب غلط نہ سمجھا جائے،رسول ؐ اللہ نے عام فہم انداز میں بتایا کہ جب رات آجائے، دن چلاجائے اور سورج غروب ہوجائے تو افطار کا وقت ہوگیا۔اس وقت روزہ خود بخود ختم ہوجاتا ہے۔ مغرب کی اذان ، نماز اور افطار کا مدارغروب ِآفتاب پر ہے۔ جو شخص رمضان المبارک کی ہر رات میں دو رکعت اس طرح ادا کرے کہ ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد تین مرتبہ سورۂ اخلاص پڑھے،

اللہ تعالیٰ ہر رکعت کے بدلے( 70 )ستّر لاکھ فرشتے بھیجتا ہے تاکہ وہ اس بندے کی نیکیاں لکھیں، برائیاں ختم کریں اور مدارج بلند کریں، جنّت میں اس کے لیے محل بنائیں۔ اس کے علاوہ ہر رکعت کے بدلے اللہ تعالیٰ اسے ایک مقبول حج کا ثواب عطافر ماتا ہے۔ حدیثِ مبارکہ میں ہے کہ رمضان کے ہر جمعے کو دس رکعتیں اس طرح پڑھیں کہ ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد گیارہ مرتبہ سورۂ اخلاص پڑھیں، حضوراکرمؐ کاارشادِ مبارکہ ہے:’’ اس نماز کے پڑھنے والے کے لیے دس ہزار شہیدوں اور دس ہزار غلام آزاد کرنے کا، سات سوسال کی عبادت کاثواب عطاکیاجائے گا۔‘‘ رمضان المبارک کی آخری رات میں دس رکعت نماز اس طرح پڑھے کہ سورۂ فاتحہ کے بعد سورۂ اخلاص دس مرتبہ پڑھے، اللہ تعالیٰ اس کے تمام مہینے کی عبادت قبول فرمائے گا اور تیس ہزار سال کی عبادت کا ثواب ملے گا۔ (س)