پاکستان کی نقلی جمہوریت اور ملائیشیا کی اصلی جمہوریت میں بنیادی فرق کیا ہے ؟ نامور کالم نگار نے ملائیشیا میں مہاتیر محمد کی کامیابی کے اسباب بیان کرتے ہوئے اصلی جمہوریت کا مطلب بھی سمجھا دیا

لاہور(ویب ڈیسک)اب یہ تو صاف ظاہر ہو چکا ہے کہ نواز شریف نے زخم لگانے ہیں اور شہباز شریف نے مرہم رکھنا ہے۔اس کی سب سے بڑی مثال دو روز پہلے سامنے آئی،جب نواز شریف کے برعکس شہباز شریف نے خلائی مخلوق کے وجود سے انکار کیا۔ چھوٹا بھائی ہونے کی وجہ سے غالباً وہ نوازشریف

معروف کالم نگار نسیم شاہد اپنی تحریر میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔کو اس بیانیہ سے نہیں روک سکتے،تاہم خود کو انہوں نے ضرور اس سے دور کر لیا ہے۔کل ہی شہباز شریف نے جنوبی پنجاب کے ارکانِ اسمبلی سے ملاقات بھی کی اور ملتان میں نوازشریف کے جلسے سے اگلے روز، یعنی آج مظفر گڑھ اور کل خانیوال کا دورہ بھی کر رہے ہیں۔گویا وہ اِس بات پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں کہ اگر نوازشریف کے بیانیہ کی وجہ سے لیگی ارکان اسمبلی اِدھر اُدھر جانے کی سوچ رہے ہیں تو انہیں روکا جائے۔ خود نواز شریف اس بات کا الزام لگا چکے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) کے ارکان کو نیب کیسوں سے ڈرا کر پی ٹی آئی میں شامل کرایا جا رہا ہے۔گویا دوسرے لفظوں میں وہ یہ اقرار کررہے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) کے سبھی ارکان اسمبلی بدعنوانی میں ملوث رہے ہیں،اِس لئے نیب انہیں ڈرانے میں کامیاب ہو رہا ہے،جبکہ شہباز شریف یقیناًارکانِ اسمبلی کو یہ دلاسہ دے رہے ہیں کہ پارٹی مضبوط بنیادوں پر کھڑی ہے اور 2018ء کے انتخابات میں بھی ہم ہی جیتیں گے، اِس لئے فکر کی کوئی ضرورت نہیں۔نواز شریف بعض ایسی باتیں بھی کر رہے ہیں جو خود ان کے حق میں نقصان دہ ثابت ہو رہی ہیں۔۔۔ مثلاً ان کا یہ کہنا کہ جو لوگ تحریک انصاف میں شامل ہوئے ہیں،

ان میں سے اکثر کو تو وہ جانتے ہی نہیں، حالانکہ شامل ہونے والوں میں سب کے سب ارکانِ اسمبلی تھے۔گویا اس کا یہ مطلب ہے کہ نواز شریف کا اپنے ارکانِ اسمبلی سے بھی کوئی رابطہ نہیں تھا اور لوگ درست کہتے ہیں کہ انہوں نے ایک جمہوری حکمران کی بجائے بادشاہ کے طور پر حکمرانی کی۔ان کی اس بات سے یہ بھی ثابت ہو گیا کہ مسلم لیگی ارکان اسمبلی جو یہ شکوہ کرتے تھے کہ پوری مدت اقتدار کے دوران انہیں ایک بار بھی وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کا موقع نہیں ملا، تو ٹھیک ہی کہتے تھے۔نواز شریف نے خلائی مخلوق کی جو اصطلاح ایجاد کی ہے اور جس سے شہبازشریف نے لاعلمی کا اظہار کیا ہے،وہ انہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچا رہی،بلکہ اُلٹا اُن کے تمسخر کا باعث بن گئی ہے۔ٹی وی چینلوں پر خلائی مخلوق کے کارٹون چل رہے ہیں اور سوشل میڈیا پر میاں صاحب کے ماضی کو بنیاد بنا کر خلائی مخلوق کے ساتھ اُن کی گہری وابستگی کے چرچے کئے جا رہے ہیں۔اُن کی اس بات کو کسی سنجیدہ فکر رکھنے والے نے قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھا کہ خلائی مخلوق کا مقابلہ اب زمینی مخلوق کرے گی۔ اس کا مطلب یہ لیا جا رہا ہے کہ نواز شریف عوام کو اداروں سے لڑانا چاہتے ہیں،جو مُلک کے لئے خطرناک بات ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا میاں صاحب کو سمجھانے والا کوئی نہیں۔ کیا شہباز شریف کے لئے صرف یہی کافی ہے کہ وہ نواز شریف کی دی ہوئی لائن پر نہ چلیں یا انہیں یہ کوشش بھی کرنی چاہئے کہ نواز شریف کو تصادم کے بیانیہ سے ہٹا کر جمہوری طریقے سے اپنا کردار ادا کرنے کی طرف مائل کریں؟ چودھری نثار علی خان کو میاں صاحب نے بلیک لسٹ کر دیا ہے، شہباز شریف کو غالباً یہ ڈر بھی ہو گا اگر انہوں نے انہیں سمجھانے کی کوشش کی تو ان حالات میں جب وہ ہر قسم کی کشتیاں جلا کر میدان میں نکلے ہوئے ہیں، شہبازشریف کو بھی اپنے سے دور کردیں گے۔نواز شریف نے تازہ ترین جنگ چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کے خلاف چھیڑ دی ہے، نیب کی طرف سے جاری کی گئی ایک پریس ریلیز کو بنیاد بناکر انہوں نے چیئرمین سے معافی مانگنے اور مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔اُن کے اس مطالبے کو چیئرمین نیب نے پشاور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بالواسطہ طور پر رد کر دیا اور کہا کہ احتساب کا عمل کسی کے کہنے پر نہیں رُکے گا،یہ جاری رہے گا۔نیب سے یہ غلطی ضرور ہوئی کہ ایک کالم کی بنیاد پر پریس ریلیز جاری کر دی، تاہم پھر اس کی وضاحت بھی کر دی گئی۔ دونوں پریس ریلیزوں میں یہ نہیں کہا گیا تھا کہ بھارت کو اربوں ڈالر بھیجنے کے الزامات ثابت ہو گئے ہیں، بلکہ یہ کہا گیا کہ ان الزامات کی تحقیق کا فیصلہ کیا گیا ہے، تاہم اس کے باوجود وقت سے پہلے ایسا کوئی پریس ریلیز جاری نہیں کیا جانا چاہئے تھا، مگر سوال یہ ہے کہ کیا اسے اتنی بڑی غلطی یا جرم کہا جا سکتا ہے، جس کی وجہ سے چیئرمین نیب سے

استعفا طلب کیا جائے۔کیا اس کا پس پردہ مقصد یہی نظر نہیں آ رہا کہ نواز شریف اس ملنے والے موقع سے فائدہ اٹھاکر نیب پر دباؤ ڈالنا چاہتے ہیں؟ اگر دباؤ نہیں ڈالنا چاہتے تو کم از کم یہ ضرور چاہتے ہیں کہ نیب کی ساکھ تباہ کی جائے اور یہ تاثر پیدا کیا جائے کہ نیب ذاتی طور پر نواز شریف کو ہدف بنائے ہوئے ہے،جس کا مقصد انہیں سیاسی طور پر نقصان پہنچانا ہے۔نااہلی کے بعد سے اب تک نواز شریف کے بیانیہ پر غور کیا جائے تو صاف لگے گا کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر اپنا ہدف طے کرتے رہے ہیں۔ پہلے جے آئی ٹی کو نشانہ بناتے رہے، پھر ججوں کی طرف آئے۔بات نہ بنی تو خلائی مخلوق کا تصور لے آئے اور اب ایک پریس ریلیز کو جواز بناکر وہ چیئرمین نیب کو نشانے پر رکھ چکے ہیں۔ اُن کی سیاست ایک نئے فیز میں داخل ہوچکی ہے، وہ سیاست دانوں کو اپنا حریف نہیں سمجھتے،بلکہ کبھی ججوں، کبھی خلائی مخلوق اور کبھی نیب کو اپنا مخالف قرار دیتے ہیں۔ وہ بڑے بڑے جلسے کررہے ہیں، مگر ان کا ہر جلسہ کچھ نئے سوال اور کچھ نئے ابہام چھوڑ جاتا ہے۔خاص طور پر ان کے حامی بہت زیادہ کنفیوژ ہو جاتے ہیں۔ اتنا زور دار اور مخالفانہ بیانیہ خود مسلم لیگ (ن) کے لئے بہت بھاری ثابت ہورہا ہے۔ میاں صاحب کا خیال ہے کہ خلائی مخلوق مسلم لیگ (ن) کے بندے توڑ رہی ہے، حالانکہ اصل سبب یہ ہے

کہ میاں صاحب کے بیانیہ نے بہت سے ارکانِ اسمبلی کو سیاسی مستقبل کے حوالے سے خوفزدہ کردیا ہے۔پاکستان میں آمریت کے خلاف تحریکیں چلتی رہی ہیں، آمروں کی جیلیں بھی سیاست دانوں نے کاٹی ہیں اور کوڑے بھی کھائے ہیں، مگر وہ سب کچھ سامنے کی حقیقت ہوتی تھی۔ میاں صاحب کی طرح علامتی باتیں نہیں کی جاتی تھیں، خلائی مخلوق جیسی اصطلاحیں استعمال کرکے ابہام نہیں پھیلایا جاتا تھا۔میاں صاحب اگر ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ والے نعرے تک ہی محدود رہیں تو یہ اُن کی پارٹی اور خود اُن کے لئے ایک مفید بات ہوگی۔ یہ ایک سیاسی نعرہ ہے اور عوامی اکثریت سے اسے یقینی بنایا جاسکتا ہے، مگر جب وہ بغاوت کی بات کرتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ اب ہم رہیں گے یا وہ رہیں گے تو یہ اُن کا حق ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ قومی اداروں کو معتوب بھی قرار دیتے ہیں تو اس پر اُن کا ساتھ نہیں دیا جاسکتا۔میاں صاحب کو ہر بات کے پیچھے فوج کا ہاتھ نظر آ جاتا ہے، جسے وہ مختلف ناموں سے یاد کرتے ہیں،لیکن تین بار وزیراعظم رہنے کے باوجود اس حقیقت کو نظر انداز کر جاتے ہیں کہ پاکستان کے مخصوص جغرافیائی حالات میں فوج کا کردار عام کردار سے کہیں زیادہ ہے۔فوج مُلک کی بہت بڑی سٹیک ہولڈر ہے، اُس سے باہمی مشاورت زمینی حقائق کے پیشِ نظر بے حد ضروری ہے۔

میاں صاحب اس بات کو تو مانیں گے کہ وہ تینوں بار فوج سے اُلجھے ہیں۔ایک آئیڈیل جمہوریت کے بغیر سول بالا دستی کیسے ممکن ہے؟ آج ملائیشیا میں92 سالہ مہاتیر محمد دوبارہ وزیراعظم اِس لئے بنے ہیں کہ جو آئیڈیل جمہوریت انہوں نے دی تھی، اُن کے بعد آنے والے اُسے برقرار نہ رکھ سکے۔وہ اُسی کرپشن کا شکار ہوئے، جس کے خلاف مہاتیر نے اپنے بارہ سالہ دورِ اقتدار میں جنگ کی تھی۔جب کوئی جمہوری حکمران اپنے عوام کی بھلائی کا سوچتا ہے،اُن کے لئے کام کرتا ہے تو وہ اُس کی طاقت بن جاتے ہیں۔ خالی یہ کہہ دینے سے بات نہیں بنتی کہ ’’ووٹ کو عزت دو‘‘۔۔۔ اصل عزت عوام کو دینے سے بنتی ہے۔یہاں جمہوری حکومتوں نے عوام سے ووٹ تو لئے، مگر سب کچھ چند فیصد اقلیتی اشرافیہ نے اپنے پاس رکھا۔ آج بھی 22کروڑ عوام کی یہ قوم ایک پسماندہ، مقروض اور لاچار قوم کہلاتی ہے۔ہمارے سیاست دانوں کا مخمصہ یہ ہے کہ وہ آئیڈیل جمہوریت کے لئے مادر پدر آزادی مانگتے ہیں،یعنی کوئی ادارہ انہیں پوچھنے والا نہ ہو، نہ ہی انہیں کسی احتساب کا ڈر ہو، تب تو وہ جمہوریت لانے میں کامیاب رہیں گے، جبکہ دُنیا بھر میں جہاں جہاں جمہوریت آئیڈیل اور مضبوط ہوئی ہے، وہاں پہلے منتخب نمائندوں نے کام کر کے دکھایا ہے۔ طیب اردوان کے لئے ترکی کے عوام ٹینکوں کے آگے اِس لئے لیٹ گئے تھے کہ انہوں نے عوام کو حقیقی جمہوریت کے ثمرات سے بہرہ مند کیا تھا۔ آج مہاتیر محمد کو ملائیشیا کے عوام اِس لئے دوبارہ اقتدار میں لائے ہیں کہ انہوں نے ایک جوابدہ جمہوریت کو متعارف کرایا تھا۔ ایسی جمہوریت خود احتسابی سے آتی ہے جو ہماری جمہوریت میں سرے سے مفقود ہے۔