ڈبلن ٹیسٹ: پاکستان کے 6 وکٹوں کے نقصان پر 268 رنز

پاکستان اور آئر لینڈ کے درمیان تاریخی ٹیسٹ کے دوسرے روز کا کھیل خراب موسم کے باعث قبل از وقت ختم کر دیا گیا۔

آئرلینڈ کے خلاف واحد ٹیسٹ میں ابتدائی 6 بلے بازوں کے جلد آؤٹ ہونے کے بعد شاداب خان اور فہیم اشرف نے اپنی ٹیم کو سنبھالا۔

قومی ٹیم نے آئرلینڈ کے خلاف 76 اوورز میں 6 وکٹوں کے نقصان 268 رنز بنائے تھے کہ کم روشنی کے باعث میچ کو روک دیا گیا جو دوبارہ شروع نہ ہو سکا۔

دوسرے روز کا کھیل ختم ہوا تو فہیم اشرف 61 اور شاداب خان 52 رنز کے ساتھ وکٹ پر موجود تھے۔

دونوں کھلاڑیوں نے اپنی پہلی نصف سنچری اسکور کی اور دونوں کے درمیان 109 رنز کی شراکت قائم ہو چکی ہے۔

پاکستان کی جانب سے اظہر علی اور امام الحق نے اننگز کا آغاز کیا لیکن 13 کے مجموعی اسکور پر اظہر علی 4 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے۔

پہلا ٹیسٹ میچ کھیلنے والے امام الحق بھی ون ڈے ڈیبیو کی طرح بڑی اننگز کھیلنے میں ناکام رہے اور 13 ہی کے مجموعی اسکور پر 7 رنز بنا کر ایل بی ڈبلیو ہو گئے۔

دونوں ابتدائی بلے بازوں کے جلد آؤٹ ہونے کے بعد حارث سہیل اور اسد شفیق نے محتاط انداز سے ٹیم کا اسکور آگے بڑھایا لیکن کھانے کے وقفے کے بعد جلد ہی حارث سہیل 31 کے انفرادی اسکور پر ہمت ہار گئے۔

بابر اعظم بھی 14 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے جب کہ اسد شفیق اپنی 19 ویں نصف سنچری بنانے کے بعد 62 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔

قومی ٹیم کے کپتان سرفراز احمد بھی باہر جاتی گیند کو چھیڑنے کی کوشش میں سلپ میں کیچ آؤٹ ہو گئے، انہوں نے 20 رنز کی اننگز کھیلی۔

اس سے قبل ٹیسٹ کے دوسرے روز آئرلینڈ نے پاکستان کے خلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ کیا۔

اس موقع پر آئرلینڈ کے کپتان پورٹر فیلڈ کا کہنا تھا کہ ہمارے لیے آج بہت بڑا دن ہے۔

دوسری جانب قومی ٹیم کے کپتان سرفراز احمد کا کہنا تھا کہ تایخی ٹیسٹ کا حصہ بننا ہمارے لیے فخر کی بات ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان ٹیم پانچ بولرز کے ساتھ میدان میں اترے گی۔

واضح رہے کہ یہ ٹیسٹ امام الحق اور فہیم اشرف کے لیے بھی اس لحاظ سے اہم ہے کہ یہ دونوں ٹیسٹ ڈیبیو کرنے جارہے ہیں، جنہیں پی سی بی کے سربراہ نجم سیٹھی نے ٹیسٹ کیپ پہنائی۔

گذشتہ روز آئرلینڈ اور پاکستان کے درمیان تاریخی ٹیسٹ کا پہلا روز بارش کی نذر ہوگیا تھا اور ٹاس بھی نہیں ہوسکا تھا۔

یاد رہے کہ محکمہ موسمیات نے 11 مئی سے 14 مئی تک ڈبلن میں بارش کی پیشگوئی کی ہے، جس سے میچ کے متاثر ہونے اور آئرلینڈ کرکٹ بورڈ کو بھاری خسارے کا خدشہ ہے۔