نواب آف کالا باغ کے دورحکومت کا ایک یادگار واقعہ: وہ وقت جب صرف ا یک اخبارمنگوانے کیلیے نواب صاحب نے خصو صی طیارہ میانوالی سے راولپنڈی بھیج دیا

لاہور(ویب ڈیسک)فیلڈ مارشل ایوب خان کا دور تھا، مغربی پاکستان(آج کے پورے پاکستان) کے گورنر تھے، نواب آف کالا باغ امیر محمد خان۔ ان کے مراسم چودھری ظہور الٰہی سے کچھ کچھاؤ کا شکار تھے۔ افواہیں اڑتی رہتی تھیں کہ چودھری صاحب کو گورنر مقرر کیا جا سکتا ہے۔

نامور کالم نگار مجیب الرحمان شامی اپنے کالم میں لکھتے ہیں۔۔۔ چودھری صاحب مرحوم اُس وقت پی پی ایل(پروگریسو پیپرز لمیٹڈ) کے سربراہ تھے، جو روزنامہ ’’پاکستان ٹائمز‘‘ اور ’’امروز‘‘ شائع کرتا تھا۔ یہ اخبارات میاں افتخار الدین مرحوم سے چودھری صاحب تک کیسے پہنچے یہ ایک الگ کہانی ہے، جس کا آج کے واقعے سے کوئی تعلق نہیں۔ ’’پاکستان ٹائمز‘‘ ان دِنوں بہت موقر انگریزی اخبار سمجھا جاتا تھا، ’’ڈان‘‘ صرف کراچی سے شائع ہوتا تھا۔ ’’پاکستان ٹائمز‘‘ لاہور اور راولپنڈی سے بیک وقت منصۂ شہود پر آتا تھا۔راولپنڈی ایڈیشن میں خبر چھپ گئی کہ نواب کالا باغ علاج کے لیے بیرون مُلک جا رہے ہیں، اس پر زلزلہ برپا ہو گیا۔ نواب صاحب ان دِنوں اپنے آبائی شہر میانوالی میں محوِ آرام تھے، ان کو اطلاع ملی تو لال بھبھوکا ہو گئے، خصوصی طیارے کے ذریعے اخبار راولپنڈی سے میانوالی منگوایا گیا، اور انہوں نے اسے اپنے خلاف سازش قرار دے دیا۔اس کے بعد چودھری ظہور الٰہی سے ان کی ٹھن گئی،اس کی تفصیلات بھی پاکستانی سیاست کے گہرے طالب علموں سے پوشیدہ نہیں ہیں۔ چودھری صاحب کی اَنا کو للکارنا، گویا شیر کے ہاتھ میں منہ ڈالنا تھا۔بہرحال جو کچھ ہونا تھا، سو ہوا۔ بعد میں تفصیلات معلوم کی گئیں تو پتہ چلا کہ چودھری صاحب کو لاہور آفس سے اس خبر کی اطلاع ملی تھی۔

انہوں نے اسے فوری طور پر رکوا دیا تھا۔ ان دِنوں موبائل فون، اور انٹرنیٹ تو کیا، براہِ راست ڈائلنگ کی سہولت بھی میسر نہیں تھی۔ کال بُک کرانا پڑتی تھی یا ٹیلیکس کے ذریعے پیغام بھیجا جا سکتا تھا، لاہور سے راولپنڈی ہدایت بروقت نہ پہنچی، اور وہاں خبر نے شائع ہو کر زلزلہ برپا کر دیا۔اس کا ذریعہ ڈھونڈا گیا تو معلوم ہوا کہ کراچی سے نمائندہ خصوصی اور مشہور ٹریڈ یونینسٹ اخبار نویس منہاج برنا نے اسے بھجوایا ہے۔انہوں نے جو کہانی بیان کی، وہ یہ تھی کہ وہ سٹیٹ بنک گئے، وہاں معلوم ہوا کہ گورنر ہاؤس سے زرمبادلہ کی منظوری کی درخواست آئی ہے، یہ بیرون مُلک سفر کے لیے درکار تھا۔انہوں نے اندازہ لگایا کہ گورنر صاحب چیک اَپ کے لیے بیرون مُلک جا رہے ہوں گے، تبھی تو یہ درخواست آئی ہے۔سرکاری دورے پر جاتے تو اس منظوری کی کیا ضرورت تھی،انہوں نے فوراً خبر بھجوا دی۔لیکن معاملہ الٹ تھا۔ گورنر صاحب کے گھوڑے علیل تھے، ان کے لیے زرمبادلہ درکار تھا۔ تاکہ انہیں علاج کے لئے بھجوایا جا سکے۔گورنر صاحب نے یہ خرچ خود اٹھانا تھا، لیکن اُن دِنوں زرمبادلہ (آج کل کی طرح) وافر مقدار میں دستیاب نہیں ہوتا تھا، اس لیے سٹیٹ بنک کی منظوری درکاری تھی۔

نوز، فار ’نیوز‘ کی اہمیت لیکن اپنی جگہ ہے، ایک اچھے اخبار نویس کی ناک سب کچھ ایسا سونگھ لیتی ہے،جو کسی دوسرے کی ناک کے بس میں نہیں ہوتا۔ جامی صاحب کی ’’نوز‘‘ اگر شیروانی کی بُو سونگھ کر وزارتِ عظمیٰ تک جا پہنچی ہے، تو اس کی داد دی جائے گی۔ بصورتِ دیگر، اسے تھوڑا سا اِدھر اُدھر کر لیں گے۔ نیچی ہونے سے تو یہ رہی کہ ’’اس طرح تو ہوتا ہے، اس طرح کے کاموں میں‘‘۔گذشتہ دِنوں وزیر داخلہ احسن اقبال پر قاتلانہ حملہ ہوا، جس میں وہ بال بال بچ گئے ان کی کہنی نے دیوار بن کر گولی کا راستہ روکا، تو اس کی شدت میں کمی آ گئی۔وہ جسم کے اندر توداخل ہوئی،لیکن ناقابلِ تلافی نقصان نہ پہنچا سکی۔ احسن اقبال پاکستان کے انتہائی باصلاحیت سیاست دان ہیں۔اللہ کا شکر ہے کہ ان کی جان بج گئی۔ مقتدر اداروں میں صلاحیت کا فقدان بڑے نقصانات کا موجب بن رہا ہے۔اردگرد برپا طوائف الملوکی میں اس کا ازالہ کون کرے گا ۔ان پر حملہ کرنے والا بظاہر ایک جنونی تھا،لیکن اس کے پیچھے کون ہے، اس کا پتہ ضرور لگانا لازم ہے، اُن ’’کارخانوں‘‘ کو مسمار کرنا ہو گا، جہاں اس طرح کے جنونی تیار کیے جاتے ہیں۔ خود کش حملہ آوروں سے یہ مخلوق کچھ مختلف نہیں ہے۔

سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کی سربلند بیٹی مریم جلسے سے خطاب کرنے ملتان پہنچے، تو مخدوم جاوید ہاشمی کو بھی لپیٹ میں لے لیا۔ بہت بڑے جلسے کو گواہ بنا کر جاوید ہاشمی واپس مسلم لیگ (ن) میں آ گئے۔ تحریک انصاف میں اُن کی شمولیت اور پھر بغاوت ہماری سیاسی تاریخ کے دلچسپ، لیکن المناک ابواب ہیں، ان کی تفصیل پھر کبھی بیان ہو گی، فی الحال جاوید ہاشمی اور مسلم لیگ(ن) کی خوشی میں شریک ہونے میں کوئی مضائقہ نہیں۔عزیزم فواد چودھری سے نظر بچا کر اس ملاپ پر دونوں کو مبارک باد۔نیشنل اکاؤنٹیبلٹی بیورو(NAB) نے ایک تصوراتی تجزیے کو بنیاد بنا کر سابق وزیراعظم نواز شریف پر4.9ارب ڈالر بھارت بھجوانے کا الزام لگا دیا۔اس پر مسلم لیگ(ن) کی طرف سے چیئرمین نیب سے استعفے کا مطالبہ کیا گیا ہے،لیکن وہ سینہ تان کر کہہ رہے ہیں کہ وہ آہنی ہاتھوں سے احتساب جاری رکھیں گے۔۔۔ ان کے آہنی ہاتھ سلامت رہیں، یہاں معاملہ ان کا نہیں، بلکہ ذہنی صلاحیت کا ہے۔مذکورہ الزام پر جاری پریس ریلیز سے پتہ چلتا ہے کہ نیب میں مالیاتی امور کو سمجھنے کی استعداد نہیں ہے، اسی لیے ایک افسانوی رپورٹ کو حقیقی سمجھ لیا گیا۔یہ ایک انتہائی تشویشناک صورتِ حال ہے۔ مقتدر اداروں میں صلاحیت کا فقدان بڑے نقصانات کا موجب بن رہا ہے۔اردگرد برپا طوائف الملوکی میں اس کا ازالہ کون کرے گا، یہ بتانے والا کوئی نہیں، اور قومی مستقبل کے لیے یہ بڑے خطرے کی گھنٹی ہے۔۔