فیس بک انتظامیہ آمرانہ انداز میں کام کرتی ہے

ایک امریکی سرمایہ کار ادارے کی جانب سے فیس بک کے انتظامی طریقہ کار کو آمریت سے مشابہت دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ شیئر ہولڈرز کے درمیان ووٹنگ پاور کا رائج طریقہ کار ختم ہونا چاہیے، اس نظام سے فیس بک کے سی سی او مارک زکربرگ کو کمپنی پر غیر معمولی اختیارات حاصل ہیں جبکہ دیگر سرمایہ کاروں…
لندن سے نکلنے والے روزنامہ فنانشل ٹائمز میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں امریکا کے دوسرے بڑے پنشن فنڈ کے ایگزیکٹو نے لکھا کہ فیس بک جیسی کمپنیوں میں رائج دوہرے طبقاتی معیار کے اختتام کا وقت آگیا ہے، جس میں کلاس ’بی‘ کے شیئرز کو کلاس ’اے‘ کے مقابلے میں 10 گنا زیادہ ووٹنگ پاور حاصل ہے۔
واضح رہے کال ایس ٹی آر ایس نامی ادارہ امریکا کے دوسرے بڑے پینشن فنڈ کا انتظام سنبھالتا ہے اور 30 مارچ تک کی اطلاعات کے مطابق فیس بک کے 82 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے شیئر کا مالک ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق فیس بک کے حالیہ پروکسی فلنگ کے مطابق مارک زکربرگ فیس بک کے 89 فیصد ’بی‘ شیئرز کے مالک ہیں اور صرف ایک فیصد عام شیئر رکھتے ہیں، جس سے انہیں 60 فیصد سے زائد شیئرز کی ووٹنگ کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے مراد یہ ہے کہ مارک زکر برگ بورڈ الیکشن کے نتائج یا شیئر ہولڈرز کے معاہدوں کو کنٹرول کرنے کا اختیار رکھتے ہیں، علاوہ ازیں فیس بک کے 31 مئی کو متوقع اجلاس میں انویسٹرز ایک تجویز پر ووٹنگ کریں گے، جس کے تحت فیس بک کا ایک شیئر ایک ووٹ کے برابر گردانا جائے گا جبکہ اس سے قبل ہونے والے 4 سالانہ اجلاس میں بھی مذکورہ تجویز پیش کی جا چکی ہے جسے فیس بک انتظامیہ کی جانب سے رد کردیا گیا تھا۔
فنانشل ٹئمز کو رواں سال اپریل میں ریاست ایلانائے کی وزارت خزانہ کے عہدیدار نے ایک بیان دیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ مذکورہ صورتحال میں مارک زکربرگ کسی کو جواب دہ نہیں، نہ بورڈ کو نہ شیئر ہولڈرز کو، اس وقت زکر برگ خود اپنے ہی باس ہیں اور یہ ٹھیک نہیں ہے۔
اس سلسلے میں ایک معاشی ماہر نیل مائنو کا کہنا تھا کہ شیئرز کے دہرے میعار کا مطلب یہ ہے کہ کمپنیاں آپ کو بتاتی ہیں کہ وہ عوامی کمپنی کی طرح سرمائے تک رسائی چاہتی ہیں لیکن کمپنی کا کنٹرول کسی پرائیویٹ کمپنی کی طرح رکھنا چاہتی ہیں۔
اس پر ردعمل دیتے ہوئے فیس بک کی ترجمان کا کہنا تھا کہ ہمارے بورڈ آف ڈائریکٹرز کو یقین ہے کہ ہمارا سرمایہ دارانہ ڈھانچہ، ہمیں استحکام فراہم کرتا اور ہمارے بورڈ آف ڈائریکٹر اور انتظامیہ کو اچانک ملنے والے دباؤ سے محفوظ رکھتا ہے، ،جس سے وہ فیس بک کے مشن اور طویل بنیادوں کی کامیابیوں پر توجہ دے سکتے ہیں۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ مارک زکر برگ نے فیس بک کے شیئرز فلاحی مقاصد کے لیے عطیہ کرنے کے باوجود بھی اپنی ووٹنگ پاور محفوظ رکھنے کی کوشش کی، تاہم ایک شیئر ہولڈر کی جانب سے کیے گئے مقدمے کی وجہ سے انہیں پیچھے ہٹنا پڑا۔
اس ضمن میں ووکس کو انٹرویو دیتے ہوئے مارک زکربرگ کا کہنا تھا کہ میں فیس بک کا اس قسم کا انتظامی ڈھانچہ ہونے پر نہایت خوش قسمتی محسوس کرتا ہوں جس سے اس بات کی عکاسی ہوتی ہے کہ فیس بک کی برادری کے لوگ کیا چاہتے ہیں بجائے یہ کہ مختصر عرصے کے لیے شیئر لینے والے کیا چاہیں گے۔