وزیراعظم نے اپنے استعفیٰ کس کے قدموں میں رکھ دیا؟ملکی سیاست کی سب سے بڑی خبر

اسلام آباد(ویب ڈیسک) وزیراعظم کی جانب سے قومی سلامتی کے اجلاس میں ممبئی حملوں کے بیان کو مسترد کرنے پر نوازشریف شاہد خاقان عباسی پر برہم ہوگئے ، سابق وزیراعظم طنزیہ انداز میں شاہد خاقان عباسی سے سوال کرتے ہوئے کہہ دیا کہ اجلاس میں میرے بیان کو مسترد کرکے کیا حاصل ہوا اور آپ مجھے بتائیں کہ میرے انٹرویو میں کونسی غلطی تھی جبکہ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آپ میرے لیڈر ہیں جو بھی احکامات دیں گے ان پرعمل کیا جائے ۔

ذرائع کے مطابق سوموار کو قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے بعد وزیراعظم شاہد خاقان عباسی میاں منیر کے گھر نوازشریف سے ملاقات کے لئے گئے تو میاں نوازشریف شدید غصے میں تھے اور انہوں نے شاہدخاقان عباسی سے آتے ہی طنزیہ انداز میں سوال کیا کہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں میرے بیان کو مسترد کرکے کیا حاصل ہوا اور آپ مجھے بتائیں کہ میرے انٹرویو میں کونسی غلطی تھی جس پر شاہد خاقان عباسی قدرے خاموش رہنے کے بعد بولے کہ آپ میرے لیڈر ہیں جو احکامات آپ دیں گے ان پر عمل کیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق نوازشریف نے کہا کہ آپ کی جانب سے میرے بیان کے توثیق ناگزیر ہے تاہم کچھ دیر بعد نامعلوم فون کال کے بعد نوازشریف نے وزیراعظم کو پنجاب ہائوس جانے کا مشورہ دیا ۔۔پنجاب ہائوس ذرائع کے مطابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی پنجاب ہائوس آئے تو وہاں ان کا ایک بیان ریکارڈ کیا گیا جس میں انہوں نے نوازشریف کے بیان کی نہ صرف توثیق کی بلکہ ذرائع کا کہنا ہے کہ اپنے استعفیٰ سمیت سب کچھ نوازشریف کے قدموں میں ڈال دیا اور اس موقع پر سرکاری ٹی وی سمیت تمام تر میڈیا کو بلیک آئوٹ کرکے تاثر دیا گیا کہ کچھ دیر بعد باقاعدہ پریس کانفرنس کی جائے گی تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کا ویڈیو بیان ریکارڈ ہونے کے بعد نااہل وزیراعظم نوازشریف کو ان کا بیان دکھایا گیا تو انہوں نے چند الفاظ کا چنائو کرکے میڈیا کو جاری کرنے کا کہا جبکہ چند اقتباسات کو استعمال کرنے کے لئے محفوظ کرلیا گیا۔

اس موقع پر میڈیا نمائندگان وزیراعظم کی میڈیا ونگ سے بار بار رابطے کرتے رہے تو وہاں جواب موصول ہوا کہ شاہد خاقان عباسی کی پریس کانفرنس کو وزارت انفارمیشن ڈائریکٹ دیکھ رہی ہے اس میں وزیراعظم ہائوس کے میڈیا ونگ کا کوئی کردار نہیں ہے ۔۔پنجاب ہائوس ذرائع کے مطابق وزارت اطلاعات نے تمام تر اقدامات مریم نوازشریف کے کہنے پر کیے اور ایک خصوصی انٹرویو وزیراعظم سے حاصل کرلیا گیا۔