گوجرانولہ، سیالکوٹ، جہلم ، گجرات سمیت متعدد اضلاع سے (ن) لیگ کا صفایا۔۔۔۔۔۔ حکومتی جماعت کے 65 فیصد سیاستدانوں نے نواز شریف کا ساتھ چھوڑنے کا اعلان کر دیا

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سابق وزیراعظم نواز شریف کے متنازعہ بیان کے بعد مسلم لیگ ن کے کئی اراکین نے پارٹی چھوڑنے کا

فیصلہ کر لیا ہے ۔ قومی اخبار میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق جنوبی پنجاب سے 65 فیصد اراکین نے پارٹی کو خیرباد کہنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ نواز شریف کے ممبئی حملوں سے متعلق متنازعہ بیان پر ن لیگ میں پارٹی چھوڑنے والوں کا ایک بڑا گروپ بھی سامنے آ گیا ، جنوبی پنجاب میں 65 فیصد ن لیگ کے اراکین اسمبلی نے پارٹی چھوڑنے کا عندیہ دے دیا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ آئندہ انتخابات میں جنوبی پنجاب میں زیادہ نشستوں پر تحریک انصاف اور آزاد اُمیدواروں کے مابین مقابلہ ہو گا۔ ایک رپورٹ کے مطابق نواز شریف کے متنازعہ بیان کے بعد رواں ہفتے میں جنوبی پنجاب کے اندر بڑی تعداد میں ن لیگ کے اراکین اسمبلیپارٹٰ چھوڑ جائیں گے جبکہ پیپلز پارٹی کا بھی ایک بڑا بُرج جنوبی پنجاب سے آزاد حیثیت سے الیکشن لڑنے کا اعلان کرے گا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قصور سے تین نشستوں پر، اوکاڑہ سے دو نشستیں، پاکپتن سے ایک ، ساہیوال سے دو، خانیوال سے دو ، کبیر والا سے ایک ، ڈیرہ غازی خان سے تین ، ملتان سے دو، جھنگ سے دو ، بہاولپور سے ایک ، رحیم یار خان لوسھراں ، خانپور سے چار اور فیصل آباد ٹوبہ ٹیک سنگھ ، گوجرانوالہ

سیالکوٹ ، شکر گڑھ ، گجرات سے سات ، منڈی بہائوالدین لالہ موسٰی جہلم سے چار اراکین اسمبلی کسی بھی وقت پارٹی کو خیر باد کہہ سکتے ہیں۔لاہور سے بھی چار اراکین اسمبلی ٹکٹ کی یقین دہانی کے لیے پاکستان تحریک انصاف سے رابطے کر رہے ہیں۔ خیال رہے کہ سابق وزیرا عظم نواز شریف نے اپنے حالیہ انٹرویو میں ممبئی حملوں میں پاکستانی کردار سے متعلق متنازعہ بیان دیا تھا جس پر ملک کی سیاسی جماعتوں سمیت عوام نے بھی تشویش کا اظہار کیا۔ ایک طرف نواز شریف کے اس بیان کو بھارت نے پاکستان کے خلاف پراپیگنڈہ کرنے کے استعمال کیا تو دوسری جانب نواز شریف کے بیان کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے قومی سلامتی کونسل کا اجلاس طلب کیا گیا جس نے نوازشریف کے اس بیان کو غلط اور گمراہ کُن قرار دیا۔نواز شریف نے کل صبح احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اور کل شام بونیر میں جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے اپنے بیان کا دفاع کیا اور اس معاملے پر کمیشن بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ کمیشن اس معاملے کی تحقیقات کرے اور مجھ سمیت جو بھی غدار ثابت ہو اسے پھانسی پر لٹکا دیا جائے۔