آج کاسب سے بڑا سیاسی دھماکہ : شہباز شریف منتیں کرتے رہ گئے ، نواز شریف کے انتہائی قریبی ساتھیوں نے بھی تحریک انصاف میں شمولیت کا فیصلہ کر لیا، کون کون سے بڑے نام شامل ہیں ؟ جانیے

لاہور(ویب ڈیسک )سابق وزیراعظم نواز شریف کے ممبئی حملہ سے متعلق متنازعہ بیان پرحکمران جماعت مسلم لیگ ن کے اندر بھی ہلچل پیدا ہوگئی ،کئی اہم رہنماؤں کو بھی ملکی مفاد کیخلاف بیان ناگوار گزرا اور انہوں نے پارٹی سے علیحدگی کا فیصلہ کرلیا، چھوٹے بھائی کی کوششوں پر بڑے بھائی کے

متنازعہ بیان نے پانی پھیر دیا ۔ مخدوم گیلانی،عاشق گوپانگ، سلطان ہنجرا سمیت دیگر ارکان کوشہباز نے راضی کر لیا تھا اراکین جلد عمران خاں سے ملاقات کرکے تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرینگے۔معلوم ہوا ہے کہ جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے مخدوم علی گیلانی،عاشق گوپانگ، سلطان محمود ہنجرا سمیت دیگر اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کے تحریک انصاف میں شمولیت کے فیصلہ کے بعد شہباز شریف نے ان رہنماؤں کو پارٹی نہ چھوڑنے پر راضی کر لیا تھا مگر نواز شریف کے ممبئی حملوں سے متعلق متنازعہ بیان کے بعد ان اراکین نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے حکمران جماعت ن لیگ چھوڑنے کا حتمی فیصلہ کرلیا ہے ۔ متنازعہ بیان کے بعداب یہ اراکین بہت جلد تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خاں سے ملاقات کرکے تحریک انصاف میں باقاعدہ شمولیت اختیار کریں گے ۔دوسری جانب سابق وزیراعظم نواز شریف نے ممبئی حملوں سے متعلق اپنے متنازع بیان کے معاملے پر گذشتہ روز قومی سلامتی کمیٹی کے ہنگامی اجلاس کے بعد جاری کیے گئے اعلامیے کو ‘غلط’ قرار دے کر مسترد کردیا۔احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو میں نواز شریف نے کہا کہ ‘قومی سلامتی کمیٹی کا اعلامیہ بڑا خوفناک اور بڑا تکلیف دہ ہے، میں اس اعلامیے کو مسترد کرتا ہوں’۔

ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اس معاملے کی چھان بین کے لیے ‘قومی کمیشن بننا چاہیے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے’۔سابق وزیراعظم نے سوال کیا کہ ‘کون ہیں وہ لوگ جنہوں نے پاکستان کو اس نہج تک پہنچایا ہے؟کون ہیں وہ لوگ جو پاکستان کے تحفظ کی بات کرتے رہے؟’ممبئی حملوں سے متعلق اپنے متنازع بیان پر غداری کا مقدمہ قائم کرنے کی باتیں کرنے والے سیاسی مخالفین پر تنقید کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نے کہا کہ ‘اب فیصلہ ہوجانا چاہیے کہ کون محب وطن ہے اور کون غدار ہے’۔نواز شریف نے مزید کہا کہ ‘میں صرف پاکستانی شہری نہیں، قوم نے مجھے وزیراعظم بھی بنایا، میں بہت کچھ جانتا ہوں’۔واضح رہے کہ حال ہی میں بھارتی میڈیا کی جانب سے سابق وزیراعظم نواز شریف کے ایک پاکستانی انگریزی اخبار کو دیئے گئے انٹرویو کو اچھالا گیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ‘کیا یہ اجازت دینی چاہیے کہ غیر ریاستی عناصر ممبئی جا کر 150 افراد کو ہلاک کردیں، بتایا جائے ہم ممبئی حملہ کیس کا ٹرائل مکمل کیوں نہیں کرسکے’؟سابق وزیراعظم کے اس متنازع بیان پر ملک کے سینئر دفاعی، سیاسی تجزیہ کاروں اور سیاست دانوں کا شدید ردعمل سامنے آیا، جس میں بیان کو غداری اور ملک دشمنی قرار دے دیا گیا