امریکا غزہ میں فلسطینیوں کے قتل عام کی تحقیقات میں رکاوٹ بن گیا

غزہ میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں فلسطینیوں کے قتل عام کی سلامتی کونسل کی نگرانی میں تحقیقات کی درخواست امریکا نے روک دی۔
کویت کی جانب سے سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کی درخواست کو منظوری نہ مل سکی جس کے بعد سلامتی کونسل اجلاس جمعرات کو ہوگا۔
جنوبی افریقا نے تل ابیب اور ترکی نے اسرائیل اور امریکا سے سفیر واپس بلا لیے ہیں۔ ترک صدر نے امریکی سفارتخانے کی مقبوضہ بیت المقدس منتقلی کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اور اسرائیل انسانیت کے خلاف جرائم کے مرتکب ہورہےہیں۔
امریکا غزہ میں اسرائیلی فوجیوں کے ہاتھوں فلسطینیوں کے قتل عام کی اقوام متحدہ کی تحقیقات میں رکاوٹ بن گیا، غزہ میں فلسطینیوں کے قتل عام کی سلامتی کونسل کی تحقیقات کی درخواست امریکا نے بلاک کردی۔ سلامتی کونسل نے اسرائیل غزہ سرحد پر شہریوں کے قتل عام کی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔
غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کااجلاس بھی تاخیر کا شکار ہوگیا، کویت نے ہنگامی اجلاس بلانے کی درخواست دی تھی لیکن 60 فلسطینیوں کی شہادت کے باوجود سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس نہ بلایا جاسکا جو اب جمعرات کو ہوگا۔
ادھر ترک صدر رجب طیب اردگان نے کہا کہ اسرائیل غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی اور ریاستی دہشت گردی کررہا ہے، اسرائیل ایک دہشت گرد ملک ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مقبوضہ بیت المقدس کا مشرقی حصہ فلسطینیوں کا اٹوٹ انگ اور دارالحکومت ہے۔
اس کے علاوہ روس، مصر، ترکی، قطر اور اردن نے بھی امریکی سفارت خانے کی مقبوضہ بیت المقدس منتقلی کی سخت مذمت کی ہے۔
ان ملکوں کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے یہ فیصلہ کرکے امن عaمل کو تباہ کردیا۔ سعودی عرب کے علاوہ فرانس اور برطانیہ نے فلسطینیوں کی شہادت کی مذمت کی ہے۔
اقوام متحدہ کی انسانی حقوق تنظیم کا کہنا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی فائرنگ سے فلسطینیوں کے جانی نقصان کا عالمی برادری نوٹس لے اور ذمہ داروں کو انجام تک پہنچانا چاہیے۔