اسحاق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات ریفرنس کی سماعت 24 مئی تک ملتوی

احتساب عدالت نے سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات ریفرنس کی سماعت پر استغاثہ کے گواہ محمد عظیم نے اسحاق ڈار کی طرف سے ہجویری فاؤنڈیشن کو جاری چیکوں کی تفصیل عدالت میں پیش کردی جبکہ کیس کی سماعت چوبیس مئی تک ملتوی کردی گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے کیس کی سماعت کی، ریفرنس میں نامزد تین ملزمان کمرہ عدالت میں پیش ہوئے، استغاثہ کے گواہ محمد عظیم پر وکیل صفائی قاضی مصباح نے جرح کی۔سماعت کے دوران اسحٰق ڈار کی جانب سے ہجویری فاؤنڈیشن کو جاری چیکوں کی تفصیلات پیش کی گئی جبکہ گواہ کا کہنا ہے کہ اسحٰق ڈار نے ہجویری فاؤنڈیشن کے نام پر چیک جاری کیے،15 اکتوبر 2005 کو ہجویری فاؤنڈیشن کے نام پر چیک جاری کیا گیا۔ 22 جنوری 2010 کو اسحٰق ڈار نے 4 لاکھ کا چیک جاری کیا۔گواہ کے مطابق یکم مارچ 2010 کو 7 لاکھ کا چیک ہجویری فاؤنڈیشن کے نام پر جاری کیا۔ اسحٰق ڈار نے کل 6 کروڑ 53 لاکھ کے چیک ہجویری فاؤنڈیشن کو جاری کیے۔
سماعت کے دوران نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ سعید احمد یہ نہ سمجھیں کہ ان پر کوئی الزام نہیں۔ سعید احمد نے اسحٰق ڈار کے نام پر7 اکاؤنٹ کھولے۔ انہوں نے بتانا ہے وہ اکاؤنٹ کس کے کہنے پر کھولے گئے۔پراسیکیوٹر نے کہا کہ کچھ اکاؤنٹ ان کے اپنے نام پر ہیں، ان کا استعمال اسحٰق ڈار کرتے ہیں۔ سعید احمد بتائیں اکاؤنٹ کون سے ہیں اور کتنی رقم موجود ہے، بعد ازاں کیس کی سماعت چوبیس مئی تک ملتوی کردی گئی،
گزشتہ سماعت پر گواہ نے اسحاق ڈار کے نجی بینک کی ٹرانزیکشن اور ریکارڈ عدالت میں پیش کیا تھا۔