فاٹا کے عوام پر غیر ملکی ایجنڈا مسلط کرنا درست نہیں، فضل الرحمان

جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ فاٹا کے عوام پر غیر ملکی ایجنڈا مسلط کرنا جمہوری اور اخلاقی طور پر درست نہیں ہے۔
قومی اسمبلی اجلاس کے دوران فاٹا کے انضمام کے حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان وفاقی حکومت پر برس پڑے۔
جے یو آئی ف کے سربراہ نے کہا کہ قوم کو تقسیم کرنے کی بات ہو رہی ہے، فاٹا کے لوگوں پر فیصلہ مسلط کرنا اخلاقی، جمہوری طور پر جائز نہیں۔
انہوں نے کہا کہ کیا امریکا اور بین الاقوامی دنیا دباؤ ڈالےگی تو قانون سازی ہو گی۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے اختلاف رائے کے باوجود حکومت کی ہر مرحلے پر مدد کی لیکن حکومت کو سوچنا ہو گا کہ وہ ملک اور ہمارے ساتھ کیا کر رہی ہے، فاٹا کے معاملے پر تاریخ حکومت کو معاف نہیں کرے گی۔
مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کے کہنے پر ایک متنازع بل لانے کی کوشش کی جا رہی ہے، حکومت فاٹا کے عوام اور پاکستان پر رحم کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی پالیسیاں امت مسلمہ کے لیے تباہ کن ہیں اور ان پالیسیوں کو امت مسلمہ مسترد کر چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کس حد تک ہماری برداشت کا امتحان لیا جائے گا، حکومت نے فاٹا سے متعلق جو وعدہ کیا اسے پورا کرے۔
جے یو آئی ف کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ہم انضمام کے خلاف نہیں لیکن کہتے ہیں کہ عوام کے پاس جائیں، جو باتیں طے ہوئی ہیں ان پر عمل کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ الیکشن میں جیتنا اہم نہیں بلکہ ملک بچانا اہم ہے۔
قومی اسمبلی اجلاس میں پاکستان تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی نے فاٹا کے انضمام کی حمایت کی۔