میں نہیں آرہا ۔۔۔۔پارلیمنٹ میں طلب کیے جانے پر چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے ایسا جواب دیا کہ ہر کسی کو چپ لگ گئی

لاہور (ویب ڈیسک )چیئرمین نیب کی طرف سے نواز شریف پر 4 ارب 90 کروڑ ڈالر کی منی لانڈرنگ کے الزام کے معاملے پر چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی میں آج پیشی سے معذرت کرلی۔ ذرائع کے مطابق چیئرمین نیب نے قومی اسمبلی کو جو جواب جمع کرایا ہے

اس میں کہا گیا ہے کہ کمیٹی میں پیش ہونے کا نوٹس مجھے آج صبح موصول ہوا،میری پہلے سے میٹنگز اور مصروفیات کا شیڈول طے تھا۔چیرمین نیب نے جواب میں یہ بھی کہا ہے کہ کمیٹی میں پیش ہونے کے لیے مناسب وقت دیا جائے۔ذرائع کے مطابق کمیٹی نے چیئرمین نیب کی معذرت قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے انہیں جواب دیا ہے کہ چیئرمین نیب اپنے فیصلے پر نظرثانی کریں۔ذرائع نے بتایا ہے کہ چیئرمین نیب کمیٹی میں پیشی سے متعلق کچھ دیرمیں قومی اسمبلی کو آگاہ کریں گے۔ادھر کمیٹی نے نیب آفس کے ساتھ خط و کتابت کا تمام ریکارڈ اسپیکر قومی اسمبلی کو بھجوا دیا ہے۔قائمہ کمیٹی قانون و انصاف کا اجلاس آج دوپہر ڈھائی بجے طلب کیا گیا تھا جس میں کمیٹی نے چیئرمین نیب کو ذاتی حیثیت میں طلب کر رکھا ہے۔ایک اور خبر کے مطابق جے آئی ٹی نے وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز اور دونوں بیٹوں حسین نواز، حسن نوازکو جولائی کے پہلے ہفتے میں پیش ہونے کے باضابطہ سمن جاری کردیئے،جبکہ وزیراعظم کے کزن طارق شفیع کو 2جولائی کو تیسری مرتبہ پیشی کے لئے سمن جاری کیا گیا ہے۔جے آئی ٹی نے مریم نواز کو پیشی پرلندن فلیٹس، بیرون ملک دیگر کاروبار کی تفصیلات اور دستاویزات ساتھ لانے کی ہدایت کی ہے۔ واضح رہے کہ جے آئی ٹی کو10جولائی کو پاناما پیپرز سے متعلق سپریم کورٹ میں حتمی رپورٹ پیش کرنی ہے۔