وہ کون تھا جس سے استعفی لینا چاہتا تھا لیکن ناکامی ہوئی، نواز شریف نے نیا پنڈورا باکس کھول دیا

اسلام آباد(ویب ڈیسک) سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ مشاہد اللہ خان اور پرویز رشید کے علاوہ کسی اور سے بھی استعفی لینا چاہتا تھا مگر عملدرآمد نہیں ہو سکا۔ عمران خان اور طاہر القادری کے دھرنے کے ثانوی کردار ہیں بہت جلد دھرنے کے اصل کرداروں کو بے نقاب کروں گا۔ تحریک انصاف کسی نظریئے کے بغیر سیاسی جماعت ہے ۔

گندی ذہنیت کے لوگ تحریک انصاف میں ہیں ۔ یہ جھوٹ بولو پارٹی ہے ۔ ایمپائر کی انگلی کی طرف دیکھنے والی سیاسی جماعت ہے ۔ کے پی کے میں نیا پاکستان تو نہیں بن سکا حالات پرانے پاکستان سے بھی بدتر ہو گئے ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کمرہ عدالت میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دھرنے کے اصل کردار پردے پیچھے کے تھے ان کرداروں کو بے نقاب کرنے کا وقت آ گیا ہے ۔

عمران خان اور طاہر القادری تو مہرے تھے جو انگلیوں کے اشاروں پر ناچ رہے تھے ۔ قوم کو بتانا پڑے گا کہ اصل میں کون کردار ہیں جو ملک کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں انہوں نے یہ بھی کہا کہ اچھا ہوا کہ تحریک انصاف کو کے پی کے میں حکومت ملی مگر وہ ڈلیور نہیں کر سکے اور اب عوام انہیں مسترد کر دے گی۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ڈان لیکس کے بعد سینیٹر پرویز رشید سے جب استعفی لیا تو اس وقت کسی اور سے بھی استعفی لینا چاہتا تھا مگر عملدرآمد نہیں کر سکا ۔ سوچا ضرور تھا کہ طلب کر کے استعفی لوں مگر بوجہ ایسا نہیں کر سکا کاش یہ کام میرے ہاتھوں ہو جاتا تو سیاست میں ان طاقتوں کے راستے بند ہو جاتے ۔ ۔