میرا شریف خاندان کو اب ایک ہی مشورہ ہے کہ ۔۔۔۔۔چوہدری نثار نے برسوں کی رفاقت کا قرض بھی ادا کر دیا

اسلام آباد (ویب ڈیسک) مسلم لیگ (ن) کے رہنما چودھری نثار نے کہا ہے کہ غصہ اور تصادم کسی سیاسی کا حل نہیں ہوتا، مسلم لیگ (ن) کو بطور پارٹی موجودہ صورتحال پر ٹھنڈے دل سے سوچنا چاہئے۔ یہ امر تشویشناک ہے کہ پہلے ہماری حکومت میں ختم نبوتؐ کا مسئلہ بنا، اب ملک دشمنی کے الزامات لگ رہے ہیں۔

سیاستدان کا کام اپنے اصول پر رہ کر راستہ نکالنا ہے۔ محاذ آرائی کا سلسلہ جاری رہا تو صرف پارٹی ہی نہیں ملک کو بھی شدید نقصان کا اندیشہ ہے۔ لائحہ عمل صحیح نہ کیا گیا تو پارٹی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق سابق وزیراعظم میر ظفراللہ خان جمالی نے قومی اسمبلی کی رکنیت سے مستعفی ہونے کا اعلان کرتے ہوئے وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر سے بھی استعفے کا مطالبہ کر دیا۔ میر ظفراللہ خان جمالی نے کہا ہے کہ اگر نیب کے چیئرمین کی پیشی رکھتے ہیں تو جنہوں نے ان کو منتخب کیا ان کو بھی استعفی دینا چاہئے، اس کے گلے پڑتے ہیں اور خود دونوں بیٹھے ہوئے ہیں، جرات ہے تو جنہوں نے آئین توڑا ہے سب کو پھانسی لگائو۔ نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نیب کے چیئرمین کا تقرر اپوزیشن اور حکومت مل کر کرتی ہے۔ بلوچستان کو دیوار سے نہ لگائیں، پھر کہتے ہیں اوپر سے مخلوق آئی، فوج اور عدلیہ کو برا بھلا کہتے ہیں، پارلیمنٹ میں جھوٹ بولتے ہیں، سزا کسی کو نہیں دیتے، جنہوں نے آئین توڑا ہے ان کو سزا دیں آپ کی حکومت ہے۔ جو بجٹ پیش کر رہا ہے وہ میرے دوست کا داماد ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں اسمبلی سے استعفیٰ دے رہا ہوں۔ اگر پرویز مشرف دور میں وہ سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو سپریم کورٹ نہ پہنچاتے تو پتہ نہیں ان کا کیا حشر ہونا تھا۔ نواب اکبر بگٹی کو قتل کیا گیا۔