کالا باغ ڈیم کی تعمیر کیسے ممکن ہے ؟ ریٹائرڈ ڈپٹی کمشنر نے فارمولا پیش کر دیا

لاہور (ویب ڈیسک) جنوں کی حکایاتِ خونچکاں لکھتے لکھتے مرزا کے ہاتھ قلم ہوگئے تھے۔ یہاں کالاباغ ڈیم کا قصہِ پُردرد کہتے کہتے قلم سسکنے لگا ہے۔ ہچکیاں لے رہا ہے کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جہاں اسکی اہمیت‘افادیت اور فوری تعمیر پر مدلّل بحث نہ کی گئی ہو۔ اگر سب تحریریں یکجا کریں تو کئی ضخیم کتابیں لکھی جاسکتی ہیں۔

نامور کالم نگار اور سابق سینیئر بیورو کریٹ شوکت علی شاہ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔واپڈا کے سابق چیئرمین ظفر محمود صاحب نے تو عملاً ایک کتاب ہی لکھ دی تھی۔ نتیجتاً انہیں بتایا گیا کہ اس قسم کا تخلیقی کام کسی گوشہ عافیت یا کنج تنہائی میں بیٹھ کر تو کیا جاسکتا ہے‘ واپڈا ہائوس موزوں جگہ نہیں ہے۔ شمس الملک کو بھی اسی ’’باوقار‘‘ انداز میں فارغ کیا گیا تھا۔یہ اپنے اقتدار کو چند دن طول دینے کیلئے ایسے سو کالاباغ قربان کرسکتے ہیں وہی بودی دلیلیں‘ وہی مدقوق منطق‘ وہی پٹے اور گھسے ہوئے جملے۔ ڈیم کی تعمیر کیلئے قومی اتفاق رائے ضروری ہے! آخر یہ National Consensus ہے کیا؟ اگر اس سے مراد اکثریت ہے تو پورے ملک کی بھاری اکثریت اسکے حق میں ہے۔ آپ برطانیہ کی طرز پر ریفرنڈم کروالیں۔ آپ کمپنی کی مشہوری کیلئے ہر وقت جمہوریت کا راگ الاپتے رہتے ہیں۔ جمہوریت میں ایک چیز General Will بھی ہوتی ہے جس کا ذکر فرنچ فلاسفر روسو نے کیا ہے۔ اس سے مراد ہر وہ کام کرگزرنا ہے جو وسیع تر قومی مفاد میں ہو۔ جو لوگ منیر نیازی کو نہیں جانتے وہ بھلا ’’جنرل وِل تھیوری‘‘ کو کیا سمجھ پائیں گے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ ’’آب حیات‘‘ کو ہوّا بنا دیا گیا ہے۔

اس کا نام سن کر چند مفاد پرست جن کی معاشی سانس کی ڈوریاں ہندوستان کی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ ہلاتی ہے۔ اس پر کسی کو بولنے نہیں دیتے بالکل اسی طرح جس طرح یہودی کسی کو “Holocaust” پر بولنے نہیں دیتے۔ اگر فرق ہے تو صرف اتنا کہ وہ ہالوکاسٹ کیخلاف لب کشائی کی اجازت نہیں دیتے یہ ڈیم کے حق میں بولنے والے کا ٹینٹوا دبانے پر تُل جاتے ہیں۔ اس کا تعلق قتل و غارت سے تھا یہ زندگی کی نوید دیتا ہے۔ پانی اور روشنی انسان کی بنیادی ضروریات ہیں۔ اس کی تکمیل سے ہر دو ضرورتیں کماحقہ‘ ہو پوری ہوسکتی ہیں۔ہندوستان ‘پاکستان اور چین قریباً ایک ہی وقت میں آزاد ہوئے۔ کیا ہندوستان اور چین مخصوص مخالف ٹولے کی آواز پرکان دھرتے نہیں؟ وہاں بے شمار ڈیم بنے ہیں اور زیر تعمیر ہیں۔ ایک ہی سوچ کار فرما ہوتی ہے ۔بینتھم کا سنہری اصول Maximum Good of the Maximum Number”۔ اول تو مخالف آواز اٹھتی ہی نہیں ہے۔ بالفرض اُٹھے بھی تو صدا باصحرا ثابت ہوتی ہے۔ پاکستان بدقسمتی سے Receiving End پر ہے۔ دریوزہ گیر آتش بیگانہ اسکے دریائوں کا منبع ہندوستان کے قبضے میں ہے جو ملک کشمیر پر اقوام متحدہ کے ریزرویشن کو خاطر میں نہیں لاتا وہ بھلا اس بین الاقوامی قانون کی کیا پروا کریگا؟ “Rivers Belong to the Course not to the Source”

سندھ طاس معاہدے کی رُو سے پاکستان کے حصے میں تین دریا آئے۔ سندھ‘ جہلم اور چناب‘ راوی جس کی جولانیاں کبھی اہل لاہور کے دلوں کو گرماتی اور روح کو برماتی تھیں‘ اب ضعیف کہلاتا ہے۔ لاٹھی کے سہارے ہانپتا کانپتا گزرتا ہے چاہئے تو یہ تھا کہ وہ جو مل گیا اُس کا پورا فائدہ اٹھاتے۔ اسکردو سے لیکر کالاباغ تک ڈیم سیڑھیوں کی طرح بنتے۔ 70 سال کا عرصہ کچھ کم نہیں ہوتا لیکن بوجوہ ایسا ہونہ سکا۔ خشت اول چوں نہد معمار کج‘ تاثر یامی رود دیوار کج پہلی اینٹ ہی ٹیڑھی رکھی گئی۔ ایوب خان اپنی کتاب میں لکھتا ہے تمام انجینئرز نے مشورہ دیا کہ ابتدا کالاباغ ڈیم سے کی جائے۔ سستا، دیرپا، قدرتی جھیل جس میں آدمی اپنا عکس تک دیکھ سکتا تھا۔ لیکن وہ نہ مانا۔ وجہ…؟ نواب اتب فرید محمد خان سے ذاتی دشمنی، اُسکی ساری ریاست کو وسیع جھیل بنا دیا۔ دوسرا پختون ہونے کے ناطے اپنے لوگوں کو خوش کرنا۔ بالفرض کالاباغ دوسری ترجیح ہوتی تو پہلے قدم سے بھی اتفاق کیا جاسکتا تھا کیونکہ تربیلا ڈیم نے تو بہرحال بننا تھا۔ اس وقت تک خانوادہ باچا خان اور قبلہ خورشید شاہ بھی متحرک نہ ہوئے تھے۔ خان پاکستان کے حق میں ریفرنڈم کے زخم چاٹ رہا تھا اور شاہ صاحب بجلی میٹروں کی رفتار گننے پر مامور تھے۔ ضیاء الحق بھی اس کارِ خیر کا آغاز نہ کرسکا۔ یہ کیسا مردِ مومن مردِ حق تھا جو فضلِ حق کی ایک دھمکی برداشت نہ کرسکا۔ ریت کی دیوار ثابت ہوا۔

اسکے بعد جو حکمران آئے انکی ترجیحات الگ تھیں۔ انہوں نے ڈیم تو نہ بنائے لیکن پہاڑ کھڑے کردئیے۔ دولت کے کوہسار سیم و زر کے گلزار سے دھرتی گلنار ہوگئی۔ڈیم کے حق میں تو بہت مواد ملتا ہے‘ نہ بنانے کی وجوہ نہیں بتائی گئیں عمومی تاثر یہ ہے کہ پنجاب مخالفت کی وجہ سے ایسا کیا گیا ہے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ جن لوگوں نے اسکے حق میں دلائل دئیے اُن میں اکثر پنجابی نہ تھے۔ جن پنجابیوں نے لکھا انکی اکثریت یا تو بے زمین تھی یا پانی کی حد تک فائدہ اٹھا نہ سکتی تھی۔ راقم الحروف کا تعلق ایک ایسے بارانی علاقے سے ہے جہاں تک دریائی پانی کی ایک بوند تک نہیں پہنچ سکتی۔ اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ ایک عظیم قومی منصوبے کے حق میں آواز نہ اٹھائی جائے۔ جب اس ملک کی تاریخ لکھی جائیگی‘ جب بھی اسکی معاشی تباہی اور مصائب کا ذکرہوگا تو انہی لوگوں کے چہرے پردہ ذہن پر ابھریں گے۔ یہ جس درخت پر بیٹھے ہوئے ہیں، صرف اس کی شاخ ہی نہیں کاٹ رہے بلکہ درخت کو جڑ سے اکھاڑنے کا تہیہ کئے ہوئے ہیں۔عقل حیراں ہے، سوچ پریشاں ہے، انہیں ہوکیا گیا ہے۔ بدقسمتی سے یہ وہی لیڈر ہیں جو لوڈشیڈنگ اور پانی کی کمی کا بڑھ چڑھ کر رونا روتے ہیں۔ حکومت کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں۔ صوبوں پر پانی کی چوری کا الزام لگاتے ہیں۔

ہندوستان سی پیک کی طرح کالاباغ ڈیم کا بھی از حد مخالف ہے۔ پہلے منصوبے کی تو کھل کر مخالفت کرتا ہے دوسرے کیلئے خفیہ ڈپلومسی سے کام لیا جارہا ہے۔ صوبائی عصبیت کو ہوا دی جارہی ہے۔ خزانوں کے منہ کھل گئے ہیں ایک کامیاب حکمت عملی ‘ خود لڑنے سے بہتر ہے کہ دشمن کی صفوں میں انتشار پھیلا دو۔ شکوک و شبہات کھڑے کرو۔ ایک بھائی کا ہاتھ دوسرے بھائی کے گریبان میں ڈلوادو …ع ۔۔زہر کیوں دیں اُسے جو مرے شِیر کے ساتھ۔۔بہت سوچ بچار اور غوروفکر کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ وہ ’’جُز قیسں اور کوئی نہ آیا بروئے کار‘‘۔ ملک ریاض ہی ایک ایسا شخص ہے جو انہونی کو ہونی کرسکتا ہے۔ یہ بیک وقت عامر، اکبر، انتھونی بھی ہے اور معاشی مسائل کا امرت دھارا بھی۔ اس میں وہ تمام خوبیاں ہیں جو ایک کامیاب تاجر، زیرک انسان اور شاطر سیاست دان میں ہوتی ہیں۔ اسکے مخالفین کہتے ہیں یہ کل کیا تھا اور آج کیا بن گیا ہے۔ وہ یہ نہیں سوچتے کہ کل اور آج میں جو کٹھن فاصلہ تھا وہ اس نے کس فہم و فراست سے طے کیا ہے۔ ہر بس کنڈکٹر سر انور پرویز نہیں بن سکتا۔ ہر انڈا فروش چودھری سرور نہیں کہلاتا۔ اسی طرح ہر محنت کش ملک ریاض کے مقام اور مرتبے تک نہیں پہنچ سکتا۔ ان مقامات تک پہنچنے کیلئے کوئی صراط مستقیم نہیں ہوتی۔ راستے میں ایک نہیں کئی کٹھن مقامات آتے ہیں۔ تھوڑی سی غفلت معمولی سے کجروی اور ذرا سی ذہنی اُپ ج قصر مذلت میں ہی لے جاسکتی ہے۔

ہوسکتا ہے کہ قارئین کو یہ تجویز مبنی بر مزاح نظر آئے یا اس میں طنز و تشنیع کا شائبہ لگے لیکن ہمارے خیال میں اسکو نہایت سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے اگر ملک صاحب کے کیرئیر پر نگاہ ڈالیں تو وہ کسی مقام پر بھی رُکتے نظر نہیں آئے۔ لیکن ناکام نہیں ہوئے بڑھتے ہوئے قدم کہیں تھمے نہیں۔ اُس وقت سے لیکر جب انہوں نے ہاتھوں میں کُدال پکڑ رکھی تھی آج تک‘ جب انکے پھندے میںشاہ اور زردار ہیں‘ متقی اور پرہیزگار ہیں کامیابی نے انکے قدم چومے ہیں۔ یہ اپنی ذات میں ایک انجمن ہیں۔ جیمز بانڈ کی طرح چومکھی لڑنے کے ماہر ہیں۔ جو شخص افتخار چودھری کو Back Foot پر لے آیا ہو‘ وہ کوئی عام شخص نہیں ہوسکتا۔ صبح ناشتہ زرداری کے ساتھ، دوپہر لنچ وزیراعظم کے ساتھ، شام کی چائے کے بہانے جاتی اُمرا میں میاں نوازشریف کو مفید مشورے دیتا ہو،اُسے آپ کیا کہیں گے! اُمرائ، وزرائ، حواری و درباری، منصف و جنگجو سب انکے دستر خوان پر بیٹھے نظر آتے ہیں۔ صلیبی جنگوں کے عیسائی ہیرو رچرڈز کو Richards The Lion Hearted کہا جاتا تھا۔ اُندلس کے اموی حکمران عبدالرحمن اول کو عباسی خلیفہ ابوجعفر منصور Crafty Fox of Quresh کہتا تھا۔ ملک صاحب کے اندر ہر دو حکمرانوں کی خصوصیات پائی جاتی ہیں۔بس ایک بار انہیں ڈیم بنانے کا موقع دیں۔ پھر دیکھیں! گنبد نیلوفری سے اُچھلتا ہے کیا! پیپلزپارٹی انکی ہاں میں ہاں ملائے گی۔ مسلم لیگیں دامنِ نیاز کی طرح بچھ جائیں گی۔ ایم کیو ایم کو معاشی افق پر ایک نیا سورج اُبھرتا نظر آئیگا۔ شاہ صاحب کی زبان پر ایک ہی مصرع رقص کناں ہوگا۔تو ہی ناداں چند کلیوں پر قناعت کرگیا۔۔ورنہ گلشن میں علاجِ تنگی داماں بھی تھا۔۔حضرت مولانا کو ادراک ہوگا کہ زندگی کی گاڑی ڈیزل کے بغیر بھی چلائی جاسکتی ہے۔ خان بابے جس نئی لذت اور ذائقے سے روشناس ہوئے ہیں‘ اس کو برقرار رکھا جائیگا۔تکمیل پر ڈیم کا افتتاح کرتے ہوئے جب وزیراعظم اسے اپنی حکومت کا عظیم کارنامہ قرار دیں گے تو تسبیح کے دانے رولتا ہوا‘ ایک کونے میں کھڑا ملک‘ زیرِ لب مسکرا رہا ہوگا۔