وزیراعظم اور شہبازشریف کی نوازشریف سے ملاقات، سابق وزیراعظم نے محاذ آرائی سے گریز کا مشورہ مسترد کر دیا

اسلام آباد (ویب ڈیسک) مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف نے وزیراعظم عباسی، پارٹی صدر شہباز شریف کی طرف سے جارحانہ طرز عمل ترک کرنے، اداروں کیخلاف محاذ آرائی سے گریز کا مشورہ مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی مصلحت کا شکار نہیں ہوں گا، کوئی غلط کام کیا ہے اور نہ انٹرویو میں ایسی کوئی بات کی ہے جو خلاف حقیقت ہو، اس بنیاد پر اگر کوئی سیاسی نقصان ہوتا ہے تو وہ تیار ہیں لیکن وہ پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم عباسی اور شہباز شریف نے پارٹی قائد نواز شریف کو صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے مشورہ دیا کہ ہمیں اداروں کیخلاف بیان بازی بالخصوص فوج جیسے ادارے کیخلاف محاذ آرائی سے گریز کرنا چاہئے، سرل المیڈا کو دیئے گئے انٹرویو سے پارٹی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے اور رائے عامہ بھی نواز شریف، مسلم لیگ ن کیخلاف گئی ہے، اس انٹرویو کے اثرات الیکشن نتائج پر مرتب ہوسکتے ہیں، فوج کیخلاف کھلے عام لڑائی کو بہانہ بنا کر ارکان اسمبلی ہمیں چھوڑنے کے لئے تیار بیٹھے ہیں، وزیراعظم عباسی اور شہباز شریف نے پارٹی قائد کو باور کرانے کی کوشش کی، موجودہ بیانیہ کے ساتھ ہماری لئے مشکلات میں اضافہ ہوگا۔

نواز شریف نے وزیراعظم عباسی اور شہباز شریف پر واضح کیا ہے کہ وہ اپنے بیانیہ پر قائم ہیں، اسی کو لے کر آگے جائیں گے اور یہ نعرہ ہی الیکشن میں ہماری طاقت ثابت ہوگا

ذرائع کے مطابق نواز شریف نے تمام دلائل مسترد کر دیئے اور مؤقف اختیار کیا کہ وہ کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کریں گے خواہ کوئی بھی نقصان اٹھانا پڑے۔ نواز شریف نے کہا کہ پارلیمنٹ کی بالادستی چاہتا ہوں، دیگر اداروں کو پارلیمان کا احترام کرنا چاہئے، اس میں کیا غلط ہے، نواز شریف نے کہا کہ معلوم ہے کہ کچھ لوگوں پر دباؤ ہے، کچھ ہمیں چھوڑنے کے لئے بہانے تلاش کر رہے ہیں، اگر کوئی ساتھ رہنا چاہتا ہے تو اس کی مہربانی، جو میرے ساتھ کھڑا نہیں ہوسکتا، اسے میں نہیں روکوں گا۔