سعودی عرب میں ‘کریم’ کی پہلی خاتون کیپٹن

معاشرتی روایات میں تبدیلی کے عمل سے گزرتے سعودی عرب میں ایک اور تاریخ رقم ہوگئی، جہاں ایک نجی ٹیکسی کمپنی ‘کریم’ نے انعام غازی الاسود کو بحیثیت پہلی خاتون کیپٹن لائسنس جاری کردیا۔
عرب نیوز کے مطابق سعودی عرب میں کریم کی پہلی خاتون ڈرائیور بننے والی 43  سالہ انعام غازی نے بتایا کہ جب گزشتہ برس ستمبر میں سعودی عرب میں خواتین کو گاڑی چلانے کی اجازت ملی تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ ملک کی پہلی خاتون کیپٹن بنیں گی، جس کے بعد انہوں نے کریم سے رابطہ کیا۔
انعام کا کہنا تھا کہ ‘یہ سوچنا بھی بہت زبردست ہے کہ اب ہم آزادانہ ڈرائیونگ کرسکتے ہیں’۔
انہوں نے کہا کہ ‘وہ سعودی عرب کی ترقی اور ویژن 2030 میں برابر کا کردار ادا کرنا چاہتی ہیں’۔
انعام الغازی طلاق یافتہ ہیں، جنہوں نے اپنے آبائی ملک شام میں ڈرائیونگ سیکھی اور وہیں سے ڈرائیونگ لائسنس حاصل کیا۔
تاہم جب وہ نئے قوانین کے تحت 10 گھنٹوں کی ڈرائیونگ ٹیوشن مکمل کرلیں گی تو انہیں سعودی لائسنس فراہم کردیا جائے گا۔
انعام الغازی نے بتایا کہ ان کے پاس اپنی گاڑی موجود ہے جو انہوں نے 2013 میں خریدی تھی۔
واضح رہے کہ انعام الغازی کو کریم کی جانب سے بحیثیت کیپٹن کام کرنے کے ضروری تربیت دی جاچکی ہے۔
انعام الغازی جدہ میں کنگ عبدالعزیز یونیورسٹی سے منیجمنٹ سائنسز کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد سعودیہ عرب میں بحیثیت ایئر لائن فلائٹ اٹینڈنٹ بھی کام کرچکی ہیں۔
انہیں امید ہے کہ کریم کیپٹن کے طور پر وہ خود کو اور اپنے دونوں بیٹوں کو ایک بہتر زندگی فراہم کرسکیں گی۔