غداری کیا ہے اور غدار کون ہے ؟ نواز شریف کے ممبئی حملوں پر بیان کے بعد بی بی سی کا ایک پول کھول دینے والا تجزیہ ملاحظہ کیجیے

لاہور(ویب ڈیسک)پاکستان میں گزشتہ چند روز کے دوران سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کو ’غدار‘ قرار دینے کی باز گشت سنائی دیتی رہی جو ملک کی عدالتوں تک بھی جا پہنچی ہے۔حال ہی میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان تحریکِ انصاف کی درخواست سماعت کے لیے منظور کی جس میں نواز شریف کے

خلاف غداری کا مقدمہ چلانے کی استدعا کی گئی ہے۔دوسری جانب جمعرات کو لاہور ہائی کورٹ نے پاکستان تحریکِ انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کی جانب سے نواز شریف کے خلاف غداری کا مقدمہ چلانے کی دائر درخواستیں ناقابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کر دی ہیں۔درخواستوں میں استدعا کی گئی تھی کہ روزنامہ ڈان کو دیے گئے اپنے حالیہ انٹرویو میں ممبئی حملوں کے حوالے سے بیان دینے پر نواز شریف غداری کے مرتکب ٹھہرے ہیں۔ تاہم عدالت نے درخواست گزاروں کو متعلقہ حکومتی اداروں سے رجوع کرنے کی ہدایت کی ہے۔یہ متعلقہ ادارے کون سے ہیں اور ایسی عدالتی درخواستیں قابلِ سماعت کیوں نہیں تھیں؟ اس کو سمجھنے کے لیے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ آئینِ پاکستان کی نظر میں غداری کیا اور غدار کون ہوتا ہے۔غداری کا تعین کرنے اور غدار کے خلاف کارروائی کا آغاز کرنے کا حق آئین کس کو دیتا ہے؟ پھر یہ کارروائی کیسے ہوتی ہے؟ پاکستان میں اس کی مثالیں موجود ہیں۔کون غدار ہے؟آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 6 کہتا ہے کہ ’ہر وہ شخص غدار ہے جو طاقت کے استعمال یا کسی بھی غیر آئینی طریقے سے آئینِ پاکستان کو منسوخ، تحلیل، معطل یا عارضی طور پر بھی معطل کرتا ہے یا ایسا کرنے

کی کوشش بھی کرتا یا ایسا کرنے کی سازش میں شریک ہوتا ہے۔‘یہ آئینی تعریف کی وہ شکل ہے جو آئین میں اٹھارویں ترمیم کے بعد سامنے آتی ہے۔ماہرِ قانون ایس ایم ظفر کے مطابق ’غداری‘ کا لفظ پہلی مرتبہ سنہ 1973 کے آئین میں استعمال ہوا۔ تاہم اس وقت دیے جانے والے غداری کے تصور میں اٹھارویں ترمیم کے بعد تبدیلی آئی۔جو اضافہ کیا گیا وہ یہ تھا کہ ’آئین کو معطل یا عارضی طور پر بھی معطل کرنے والا شخص یا ایسے شخص کی امداد کرنے والا شخص غدار ہو گا۔‘بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ایس ایم ظفر کا کہنا تھا کہ ’ملکی مفاد کے خلاف کام کرنے والا شخص‘ آئین کے مطابق غداری کی تعریف کے اندر نہیں آتا۔ وہ ’قومی سلامتی‘ کے زمرے میں آتا ہے جس کی کئی ذیلی دفعات ہو سکتی ہیں۔ان میں ’فوج میں بغاوت کی ترغیب دینا، امن و عامہ کی صورتحال پیدا کرنا اور دشمن ملک کے ساتھ مل کر سازش کرنا‘ شامل ہیں۔اس پر آئین کا آرٹیکل 6 نہیں لگ سکتا، جب تک کہ یہ تمام چیزیں اس مقام تک نہ پہنچ جائیں کہ آئین کو منسوح کر رہی ہوں۔‘ماہرِ قانون بابر ستار اس بات سے اتفاق کرتے ہیں۔

بی بی سی سی بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ غداری کے آئینی تصور کا تعلق آئینی معطلی سے ہے۔یعنی اگر آئین کو معطل یا منسوخ کیا جائے۔ اس کی تاریخ بھی یہی ہے کہ اس سے قبل کیونکہ فوجی حکومتیں آتی رہی تھیں تو 1973 کے آئین میں غداری کا تصور شامل کیا گیا۔‘اس میں یہ شق بھی شامل کی گئی کہ کوئی عدالت غداری کے فعل کی تصدیق نہیں کرے گی۔غداری کا یہ آئینی تصور انتہائی احتیاط سے ترتیب دیا گیا ہے اس لیے ہمارا جو اکثر یہ خیال ہوتا ہے کہ اگر کسی ادارے کے خلاف کوئی بات کر دیں تو وہ غداری کے زمرے میں آ جائے گا، میرا نہیں خیال کہ یہ بات درست ہے۔‘غدار کون قرار دے گا؟دونوں ماہرین کا کہنا تھا کہ غداری کا تعین کرنا اور اس کے خلاف کارروائی کا آغاز کرنا صرف اور صرف وفاقی حکومت کا اختیار ہے۔ اس بات کی تحقیق کے بعد وفاقی حکومت شکایت کا آغاز کرتی ہے۔اسکی وضاحت کرتے ہوئے ایس ایم ظفر کا کہنا تھا کہ غداری کی کارروائی کا آغاز وزیرِ داخلہ کر سکتے ہیں تاہم اس کا حتمی فیصلہ وزیرِ اعظم اور ان کی وفاقی کابینہ کرتی ہے۔بابر ستار نے غداری کے

مقدمے کی کارروائی کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ سنہ 1973 کے آئین میں غداری کا تصور شامل کرنے کے بعد ایک قانون بنایا گیا جس میں یہ کہا گیا کہ وفاقی حکومت یہ فیصلہ کرے گی کہ کوئی غداری کا مرتکب ٹھہرا ہے یا نہیں۔اس کے بعد ایک خصوصی عدالت تشکیل دی جائے گی جو اس کے خلاف مقدمہ کی کارروائی کا آغاز کرے گی۔ان کے مطابق ’جیسا کہ ہم نے سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف مقدمہ میں دیکھا۔‘غدار کیسے ثابت ہو گا؟بابر ستار کہتے ہیں کہ یہ ایک فوجداری مقدمہ ہوتا ہے جس کی سزا موت یا عمر قید ہے تو اس میں اسی طرز کی شہادتیں اور گواہان درکار ہوتے ہیں۔ان کے مطابق ’اسی طرح بارِ ثبوت بھی الزام لگانے والے پر یعنی حکومت پر ہو گا۔‘ایس ایم ظفر کہتے ہیں کہ غداری کے آئینی تصور کی صورت میں ثبوت سامنے ہوتے ہیں۔اگر آنے والی حکومت نے جانے والی حکومت کا تختہ آئینی طریقے سے نہ الٹایا، اس کا مطلب ہے کہ آئین تحلیل ہوا۔ دوسرا یہ ہے کہ جب وہ حکومت میں آئے اور کہے کہ ہم نے آئین تحلیل کر دیا تو یہ دوسری شہادت ہوتی ہے۔آئین تحلیل کرنے والے کے خلاف اس کے

اعمال کی بنیاد پر بہت سی مثالیں موجود ہوتی ہیں جیسا کہ کبھی مارشل لا لگایا جاتا ہے تو کبھی ایمرجنسی لگائی جاتی ہے۔‘نواز شریف کے خلاف درخواستیں نواز شریف کے خلاف دائر درخواستوں کے بارے میں ایس ایم ظفر کا کہنا تھا کہ یہ زیادہ تر سیاسی نوعیت کی ہوتی ہیں، ان کا حقیقت سے تعلق نہیں ہوتا۔عوام زیادہ آئینی سمجھ بوجھ نہیں رکھتے تو وہ اس میں الجھ جاتے ہیں۔‘ان کا کہنا تھا کہ بعض اوقات جج صاحبان اپنا نام آگے بڑھانے کے لیے ایسی درخواستوں کو قابلِ سماعت بنا لیتے ہیں کہ سماعت تو کریں تو دیکھا جائے گا۔حالانکہ یہ بہت نازک معاملات ہوتے ہیں، جب تک پوری طرح تسلی نہ کی جائے اس کو قابلِ سماعت نہیں قرار دینا چاہیے۔‘