پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنماء خورشید شاہ کے حوالے سے ایسی خبر آگئی کہ آصف زرداری بھی سر پکڑ کر بیٹھ گئے

لاہور ( الیکشن سیل ) سیاسی تبدیلیوں نے دیہی سندھ میں پی پی پی کے گڑھ کو بھی نہیں بخشا، خورشید شاہ سے متعلق عوام کی شکایات پر حریف متوجہ نئی حلقہ بندی سے بنے این اے 206میں فنکشنل لیگ، پی ٹی آئی اور جے یو آئی بھی متحرک، سیٹ نکالنا پی پی پی کیلئے آسان نہ ہوگا۔دیہی سندھ کو پیپلز پارٹی کا گڑھ سمجھا جاتا ہے لیکن چند برس کے دوران ملکی سیاست میں رونما ہونے والی تبدیلیوں نے سیاسی منظر نامہ بہت حد تک تبدیل کردیا ہے ۔ اس کے اثرات ملک کے دیگر علاقوں کی طرح سندھ کی سیاست پر بھی دیکھے جاسکتے ہیں۔

سکھر ڈویژن کے حلقے 199 کو نئی حلقہ بندیوں کے بعد 206 کا نام دیا گیا ہے ۔ قائد حزب اختلاف خورشید شاہ کا یہ آبائی حلقہ ہے مگر اس بار انہیں بھی سخت مزاحمت کا سامنا ہوسکتا ہے ۔ ٹیم ہیڈلائن نے اس حلقے کا دورہ کیا اور پارٹی کے کارکنان کے علاوہ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی رائے جاننے کی کوشش کی۔ عوام کی اکثریت نے پی پی پی کے حق میں بات کی اور خورشید شاہ کی حمایت کا تاثربھی ملتا تھا، تاہم حلقے میں کام نہ ہونے ، تعلیم و صحت کی سہولیات نہ ملنے اور حلقے کے بنیادی ڈھانچے کی زبوں حالی کی شکایت زبان زد عام تھی۔ اس حلقے میں مسلم لیگ فنکشنل، تحریک

انصاف اور جمعیت علمائے اسلام بھی متحرک ہیں۔ تحریک انصاف تیزی سے جگہ بناتی دکھائی دے رہی ہے ۔ حلقے میں فنکشنل لیگ اور جمعیت علمائے اسلام کا ووٹ بینک بھی ہے ۔ ان جماعتوں نے خورشید شاہ سے عوام کی بڑھتی ہوئی شکایات کو انتخابی مہم کا مرکزی نکتہ بنا لیا ہے ۔ پی ٹی آئی اور جے یو آئی کا ووٹ بینک ہوتے ہوئے اس حلقے سے سیٹ نکالنا اس بار پیپلزپارٹی کے لیے آسان نہ ہو گا۔ خورشید شاہ 1988 ء سے مسلسل جیت رہے ہیں۔ وہ 6 بار قومی اسمبلی اور 2 بار صوبائی اسمبلی کے لیے منتخب ہوچکے ہیں۔ 2013 ء کے عام انتخابات میں خور شید شاہ نے 85120 ووٹ لے کر فنکشنل لیگ کے عنایت اللہ کو شکست دی۔ عنایت اﷲ نے 52118 ووٹ حاصل کیے ۔ 2008 ء کے الیکشن میں خورشید شاہ نے 93394 ووٹ لے کر مسلم لیگ (ق) کے تاج محمد شیخ کو شکست دی، جنہوں نے 34204 ووٹ لیے ۔ اس علاقے میں قبائل کا اثر و رسوخ بہت اہم ہے اور کسی بھی امیدوار کی فتح میں اہم کردار ادا کرتا ہے ۔ ان قبائل میں سید، دھاریجو، شنبا نی، چاچڑ، سومرو، شیخ، ہندو، انڈھڑ، مہر، جاگیرانی، سولنگی، منگریو اور دیگر قبائل شامل ہیں