’بیت المقدس میں امریکی سفارتخانے کی تعمیر کے ساتھ ہی یہ ہزاروں سال پرانی پیشنگوئی پوری ہوگئی اور اب سب سے بڑی جنگ شروع ہونے والی ہے جس میں۔۔۔‘

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکہ کی طرف سے اپنا سفارتخانہ تل ابیب سے مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرنے پراسرائیلی جشن منا رہے ہیں اور فلسطینی سراپا احتجاج ہیں لیکن امریکی سفارتخانے کی اس منتقلی کے متعلق اب ایک ایسا تہلکہ خیز دعویٰ منظرعام پر آ گیاہے کہ دنیا میں کھلبلی مچ گئی۔ ایک یہودی عالم حلیل ویئس (Hillel Weiss)نے دعویٰ کیا ہے کہ ”امریکہ کے اپنا سفارتخانہ بیت المقدس منتقل کرنے سے ہزاروں سال پرانی پیش گوئی پوری ہو گئی ہے اور اب یہودی مسیحا کی واپسی اور دنیا کے خاتمے کے مراحل قریب آ چکے ہیں۔“

حلیل ویئس کا کہنا تھا کہ ”یہودیت کے پیغمبروں کی اس پیش گوئی کے درست ثابت ہونے کے بعداگلا مرحلہ اسرائیل اور ایران کے مابین جنگ کا ہے اور یہ اب تک کی سب سے بڑی جنگ ہو گی۔ اب دنیا اسرائیل میں تیسرے گرجا کی تعمیر کی طرف بڑھ رہی ہے اور اس کی بھی پیش گوئی موجود ہے۔“ حلیل ویئس کا مزید کہنا تھا کہ ” صدر ٹرمپ جو کچھ کر رہے ہیں وہ دنیا کو سیدھے راستے پر لیجا رہا ہے اور اس سے اچھائی اور برائی کا ازسرنو تعین ہو رہا ہے۔ یہ قیامت آنے کی ابتدائی نشانیوں میں سے ہے، جن کا آغاز یہودیوں کے یروشلم پر دوبارہ قبضے سے آغاز ہوتا ہے۔“