ایون فیلڈ ریفرنس: سوالنامے پر اعتراض، نواز شریف اور دیگر کا بیان قلمبند نہ ہوسکا

احتساب عدالت میں آج ایون فیلڈ پراپرٹیز ریفرنس کے سلسلے میں سابق وزیراعظم نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کے بیانات ریکارڈ نہ ہوسکے، جس کے بعد سماعت 21 مئی تک کے لیے ملتوی کردی گئی۔
واضح رہے کہ 16 مئی کو ہونے والی گزشتہ سماعت پر احتساب عدالت نے نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کے بیانات جمعہ (18 مئی) کو ریکارڈ کرنےکا فیصلہ سنایا تھا اور تینوں ملزمان کو 127 سوالات پر مشتمل سوالنامے دے دیئے گئے تھے۔
سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کے خاندان کے خلاف نیب ریفرنسز کی سماعت آج احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے کی۔
سماعت کے آغاز پر وکیل صفائی خواجہ حارث نے ملزمان کو دیئے گئے سوالنامے پر اعتراض کر دیا۔
خواجہ حارث نے کہا کہ ‘کچھ سوالات میں درستگی کرنی ہے، سمجھ نہیں آ رہا’۔
اس موقع پر ڈپٹی پراسیکیوٹر نیب سردار مظفر عباسی نے کہا کہ ‘وکیل صفائی خواجہ حارث عدالت کا وقت ضائع کر رہے ہیں’۔
ڈپٹی پراسیکیوٹر نیب کا مزید کہنا تھا کہ ‘ہم تعاون کر رہے ہیں لیکن وکیل صفائی ہمارے ساتھ تعاون نہیں کر رہے’۔
سردار مظفر عباسی نے کہا کہ ‘عدالت نے پچھلی سماعت پر بجلی نہ ہونے پر اےسی، پنکھے اور لائٹیں بند کرکے پورا دن لگا کر سوالنامہ بنایا، تاکہ کمپیوٹر چل جائے اور اب خواجہ حارث مزید وقت مانگ رہے ہیں’۔
ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب کا مزید کہنا تھا کہ ‘ہم تو سوالنامہ بھی دینے کو تیار نہ تھے، لیکن عدالت نے ان کی سہولت کے لیے سوالنامہ تک انہیں دے دیا’۔
جس پر جج محمد بشیر نے کہا کہ ‘آخری چانس ہے، پیر کو ملزمان کے بیانات قلمبند ہوں گے’۔
جس کے بعد نواز شریف اور دیگر کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت پیر (21 مئی) تک کے لیے ملتوی کردی گئی۔
یاد رہے کہ پاناما کیس کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس میں نیب کے گواہ تھے اور وہ اپنا بیان قلمبند کروا چکے ہیں۔
دوسری جانب سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں وکیل صفائی خواجہ حارث کی جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیاء پر جرح جاری ہے، جس کی آئندہ سماعت منگل 22 مئی کو ہوگی۔
کیس کا پس منظر
سپریم کورٹ کے پاناما کیس سے متعلق 28 جولائی 2017 کے فیصلے کی روشنی میں نیب نے شریف خاندان کے خلاف 3 ریفرنسز احتساب عدالت میں دائر کیے، جو ایون فیلڈ پراپرٹیز، العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ انویسمنٹ سے متعلق ہیں۔
نیب کی جانب سے ایون فیلڈ پراپرٹیز (لندن فلیٹس) ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف ان کے بچوں حسن اور حسین نواز، بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کو ملزم ٹھہرایا گیا۔
العزیزیہ اسٹیل ملز جدہ اور 15 آف شور کمپنیوں سے متعلق فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس میں نواز شریف اور ان کے دونوں بیٹوں حسن اور حسین نواز کو ملزم نامزد کیا گیا ہے۔
نواز شریف کے صاحبزادے حسن اور حسین نواز اب تک احتساب عدالت کے روبرو پیش نہیں ہوئے جس پر عدالت انہیں مفرور قرار دے کر ان کا کیس الگ کرچکی ہے۔
نیب کی جانب سے احتساب عدالت میں تین ضمنی ریفرنسز بھی دائر کیے گئے ہیں جن میں ایون فیلڈ پراپرٹیز ضمنی ریفرنس میں نواز شریف کو براہ راست ملزم قرار دیا گیا ہے۔
جب کہ العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ انویسٹمنٹ ضمنی ریفرنس میں نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر نامزد ہیں۔