پاکستانیوں کے لئے سب سے خوفناک خبر آگئی، ایسا کام ہوگیا کہ جان کر نواز شریف بھی اب بات کرنے کے قابل نہ رہیں گے

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) ایک جانب حکومت کی مدت مکمل ہونے کو ہے اور نئے الیکشن کی آمد آمد ہے تو دوسری جانب معیشت کے خراب حالات کے بارے میں ایک سے بڑھ کر ایک تشویشناک انکشاف سامنے آنے لگا ہے۔ موجودہ حکومت نے اقتصادی ترقی کے دعوے تو بڑے بڑے کئے تھے لیکن تلخ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کابیرونی قرضہ تاریخ میں پہلی بار 91.8ارب ڈالر کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گیا ہے۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق گزشتہ چار سال اور 9 ماہ کے عرصے کے دوران پاکستان کے بیرونی قرضے میں 50 فیصد اضافہ ہوا ہے جس کا حجم تقریباً 31 ارب ڈالر بنتا ہے۔

اخبار ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ موجودہ حالات کے مطابق قرض میں اضافہ جاری رہا تو جلد ہی یہ 100 ارب ڈالر (تقریباً 100 کھرب روپے) کی حد کو چھولے گا۔ رواں مالی سال کے آخری کوارٹر یعنی اپریل سے جون کی مدت کے لئے سود کی ادائیگی بھی کرنا ہوگی جس کے باعث قرض کے بوجھ میں مزید اضافہ ہوگا۔

ماہرین کے مطابق قرض میں نمایاں اضافہ ساورن بانڈز کے اجراءاور مہنگے کمرشل قرضہ جات لینے سے ہوا ہے۔ جون 2013ءسے لے کر اب تک حکومت نے 42.6 ارب ڈالر کے بیرونی قرضہ جات لئے ہیں جس کے سود کی ادائیگی بھی معیشت پر بھاری بوجھ ثابت ہورہی ہے۔ اب تو یہ خدشات بھی ظاہر کیئے جارہے ہیں کہ یہ صورتحال زیادہ عرصے تک جوں کی توں نہیں چل سکتی اور بالآخر پاکستان کو آئی ایم ایف کا درازہ کھٹکھٹانا پڑے گا۔ اس صورتحال میں یہ امر بھی باعث تشویش ہے کہ اگر ہمیں آئی ایم ایف سے ایمرجنسی مدد کی ضرورت ہوئی تو حکومت کے پاس تاحال کو ئی ایسا منصوبہ تیا رنہیں جسے آئی ایم ایف کے سامنے رکھا جاسکے۔