اسد عمر یا بابر اعوان ؟ عمران خان کے لیے نئی مشکل کھڑی ہوگئی، تمام کھلاڑیوں نے کپتان پر نظریں جمالیں

اسلام آباد(ویب ڈیسک ) اسلام آباد کے 3 حلقوں سے ٹکٹ کے حصول کیلئے تحریک انصاف کے 21 امیدوارمیدان میں آگئے ، این اے 52 میں راجہ خرم نواز ، چودھری الیاس مہربان، این اے 53 سے چودھری الیاس مہربان ،علی اعوان،بابر اعوان،عامر محمود کیانی جبکہ این اے 54 سے اسد عمر،سیف اﷲ نیازی ،

ڈاکٹر اسرار شاہ،عامر مغل ٹکٹ کے حصول کی دوڑ میں سب سے آگے ہیں،ذرائع کے مطابق ٹکٹ کے حصول کیلئے اسد عمر،بابر اعوان،الیاس مہربان ،سیف اﷲ نیازی ،عامر مغل ،ڈاکٹر اسرار شاہ فیورٹ ہیں ۔ تاہم ٹکٹ کا حتمی فیصلہ عمران خان پارلیمانی بورڈ کی سفارشات کے بعد کریں گے ۔تحریک انصاف کے ذرائع کے مطابق انتخابات 2018 میں اسلام آبادکے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 52 کیلئے تحریک انصاف کے 5 رہنمائوں نے ٹکٹ کے حصول کیلئے درخواستیں جمع کرائی ہیں جن میں راجہ خرم نواز ، الیاس مہربان ،ساجد رحمان ،عابدہ راجہ اور حسنین حیدرکاظمی شامل ہیں ۔ این اے 53 کیلئے 8رہنمائوں نے درخواستیں جمع کرائیں جن میں الیاس مہربان ،علی اعوان،ثقلین بھٹی ،بابر اعوان،راجہ محمود ہارون ،عامر محمود کیانی،نصرت جبیں اورعلی بخاری شامل ہیں۔این اے 54 کیلئے 8 رہنمائوں نے درخواستیں جمع کرائی ہیں جن میں اسد عمر، سیف اﷲ نیازی،عامر مغل ،ڈاکٹر اسرارشاہ ،سیمی ایزدی،طارق محمود نون ،افضل خان ،کامران گجر شامل ہیں ۔ دوسری طرف ایک خبر کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ نواز شریف اور شہباز شریف ن لیگ کے الگ الگ گروپس کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے میڈٰیا سے گفتگو کرتے

ہوئے کیا، انھوں نے کہا کہ ن لیگ نظریاتی دھڑوں میں بٹ چکی ہے، شہباز شریف اور چوہدری نثار کا الگ گروپ ہے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ موجودہ صورت حال میں ن لیگی کارکنان کنفیوژ ہوچکے ہیں کہ وہ کس کا ساتھ دیں، وقت آگیا ہے کہ ن لیگی کارکنان قومی یا نواز بیانیے میں سے ایک کو چن لیں۔ان کا کہنا تھا کہ اگر پارٹی کی واضح اکثریت نے نوازشریف کا ساتھ دیا تو ن لیگ کو بری طرح شکست ہوگی، نوازشریف نے ٹکراؤ کی کیفیت پیدا کی اب الیکشن سے پہلے ہی ن لیگ بکھر رہی ہے۔پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ ن لیگ کی پوزیشن مستحکم ہوتی تو لوگ چھوڑ کر نہیں جاتے، دوسری طرف شاہد خاقان عباسی کی بھی حکومت پر گرفت کم زور ہو رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ نوازشریف کا راستہ ملک اور جمہوریت کے لیے خطرناک ہے، وزیر اعظم بھی سمجھ رہے ہیں کہ نوازشریف کا بیانیہ خطرناک ہے مگر وہ خود کو اس سے الگ نہیں کر پا رہے ہیں۔شاہ محمود نے کہا کہ اداروں پرتنقید سے تناؤ میں اضافہ ہورہا ہے، چیئرمین نیب کی طلبی دراصل احتساب کے عمل میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش ہے، اسی لیے شاہد خاقان نے کمیٹی اعلامیہ مسترد کیا۔