نقیب کیس: راؤ انوارعدالت میں پیش

 انسداد دہشت گردی کی عدالت میں نقیب اللہ قتل کیس کی سماعت کے دوران سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار اور دیگر ملزمان کو پیش کیا گیا، جہاں مقدمے میں نامزد ملزم ڈی ایس پی قمر احمد نے ضمانت کی درخواست دائر کردی۔
انسداد دہشت گردی کی عدالت نے مقدمے کی سماعت بند کمرے میں کی۔
عدالت نے ڈی ایس پی قمر احمد کی درخواست ضمانت پر بحث کے لیے نوٹس جاری کردیئے، تاہم سرکاری وکلاء بیرو مل اور نواز کریم نے نوٹس وصول کرنے سے انکار کردیا۔
جس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ‘حیرت ہے سرکاری وکلاء نوٹس بھی وصول نہیں کررہے’۔
عدالت کا کہنا تھا کہ ‘ہائیکورٹ کو لکھا تھا کہ کیس بھیج رہے ہیں تو عملہ اور سرکاری وکیل بھی بھیجیں’۔
سماعت کے بعد عدالت نےپیش کردہ سی ڈی کی کاپیاں کروا کر پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے مقدمے کی سماعت 28 مئی تک کے لیے ملتوی کردی۔
کمرہ عدالت میں راؤ انوار کی گپ شپ اور شکوے
پیشی کے دوران کمرہ عدالت میں راؤ انوار، شریک ملزم پولیس افسران سے گپ شپ کرتے نظر آئے۔
راؤ انوار نے ساتھی ملزم پولیس افسران سے سوال کیا، ‘کیا چل رہا ہے؟’
جس پر ملزم پولیس افسران نے جواب دیا، ‘بس آج کل پیشاں بھگت رہے ہیں’۔
دوسری جانب کمرہ عدالت کے اے سی کی کولنگ کم ہونے پر بھی راؤ انوار نے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ ‘لگتا ہے عدالت کا اے سی کام ہی نہیں کر رہا؟’
انسداد دہشت گردی کی عدالت میں غیر رسمی گفتگو کے دوران ایک صحافی نے سوال کیا کہ ‘راؤ انوار صاحب سنا ہے کورٹ میں گرمی زیادہ ہے، لیکن آپ تو ہشاش بشاش لگ رہے ہیں’۔
جس پر سابق ایس ایس پی نے جواب دیا کہ ‘نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے’۔
راؤ انوار کو اورنج جیکٹ سے استثنا
جیل حکام نے راؤ انوار کو اورنج رنگ کی جیکٹ سے استثنا دے دیا اور سابق ایس ایس پی کو آج ہتھکڑی لگائے بغیر سادہ کپڑوں میں عدالت لایا گیا۔