شہلا رضا شدید برہم رکن اسمبلی کو باہر نکال دیا 

سندھ اسمبلی میں مسلم لیگ فنکشنل کی رکن نصرت سحر عباسی نے ڈپٹی اسپیکر شہلا رضا کو جوتا دکھا دیا جس پر وہ شدید برہم ہوگئیں اور انہیں ایوان سےباہر نکلوادیا۔
سندھ اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر شہلا رضا کی سربراہی میں ہوا جس میں ممتاز جاکھرانی بجٹ پر بحث کررہے تھے تو انہوں نےمسلم لیگ فنکشنل کی رکن نصرت سحر عباس کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئےکہا کہ نصرت سحر عباسی ایوان میں شور شرابا کرتی ہیں اور یہ نہیں بتاتیں کہ انہوں نے پیپلزپارٹی سےکتنے فائدے لیے۔
ممتاز جاکھرانی نےالزام لگایا کہ نصرت سحر نے گیان چاند سے باردانے کی بوریاں لیں، وہ پی پی کا کھاکر بھی الزام لگاتی ہیں۔
ممتاز جاکھرانی کے الزامات پر نصرت سحر عباسی شدید طیش میں آگئیں اور شور شرابا شروع کردیا، اس پر ڈپٹی اسپیکر شہلا رضا نےکہا کہ آپ ہماری قیادت پر اس طرح کے الفاظ استعمال کرتی ہیں لیکن اپنے اوپر کچھ برداشت نہیں کرتیں۔
شہلا رضا کے ٹوکنے پر نصرت سحر عباسی غصے میں آگئیں اور پاؤں اوپر کرکے ڈپٹی اسپیکر کو جوتا دکھایا جس پر شہلا رضا شدید برہم ہوگئیں اور ایوان میں موجود سارجنٹ کو نصرت سحر کو اسمبلی سے باہر نکالنےکا حکم دیا اس پر سارجنٹ نےانہیں ایوان سےباہر نکال دیا۔
شہلا رضا نے کہا کہ اگر نصرت سحر عباسی رہیں تو ایسے ایوان نہیں چلے گا، وہ آج کے دن اسمبلی سے باہر رہیں گی، ان کی پارٹی سے درخواست کروں گی کہ انہیں تمیز سکھائیں اور آئندہ انہیں ٹکٹ نہ دیں۔
ڈپٹی اسپیکر نے کہا کہ جوتا نکالنا غلطی نہیں جرم ہے، جنرل ضیا کے پالے ہوئے لوگ ہی ایوان میں جوتا دکھا سکتےہیں۔
اس دوران اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر خواجہ اظہار نے تقریر کی اور ڈپٹی اسپیکر کو ان کے نام سےمخاطب کیا اس پر شہلا رضا نے خواجہ اظہار الحسن کو بھی ڈانٹ دیا اور تنبیہ کرتےہوئے کہا کہ آپ میرا نام تمیز سے لیں شہلا شہلا نہ کریں۔
ڈپٹی اسپیکر نے کہا کہ اگر کسی نے جوتا چلایا تو کہوں گی کہ یہ اس ہاؤس کےقابل نہیں، پانچ دنوں میں انتہائی غلط زبان کا ایوان میں استعمال کیا گیا۔
اس دوران اسمبلی میں شدید شور شرابا ہوا اور ایوان مچھلی بازار کا منظر پیش کرنے لگا، ڈپٹی اسیپکر نے اراکین کو بار بار چپ رہنے کی تاکید کی لیکن اپوزیشن اراکین نے اسمبلی میں شورو غل کیا۔