’’ اگر بات جاوید تک پہنچ گئی ہے تو سمجھو میاں صاحب کی بادشاہت ختم ۔۔۔۔‘‘ ملتان جلسے میں مسلم لیگ (ن) میں دوبارہ شمولیت اختیار کرتے ہی جاوی

لااہور( مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان کے نامور کالم نگارمنیر احمد بلوچ اپنے تازہ ترین کالم میں لکھتے ہیں کہ ” گیارہ مئی کو ملتان قاسم باغ کے جلسہ عام میں میاں نواز شریف کی خصوصی درخواست پر بزرگ سیاسی لیڈرمخدوم جاوید ہاشمی نے ایک بار پھر نواز لیگ میں شمولیت کا اعلان کیا۔ واقفان حال کا کہنا ہے کہ خواجہ سعد رفیق اور ایک سینئر صحافی کی گزشتہ دو برسوں کی بار بار درخواستوں کے با وجود میاں نواز شریف جاوید ہاشمی کو دوبارہ مسلم لیگ نواز میں قبول کرنے کیلئے تیار نہیں ہو رہے تھے لیکن دوسری جانب عمران خان کی دن بدن بڑھتی ہوئی انتخابی طاقت نے ان کی راتوں کی نیندیں اڑا رکھی ہیں۔ جنوبی پنجاب محاذ اور رانا نذیر کی تحریک انصاف میں شمولیت اور وقاص اکرم شیخ کے کئے جانے والے مسلسل ٹویٹس سے پریشان بیٹھے ہوئے نواز شریف کو جاوید ہاشمی کو واپس لینے کیلئے کہا گیا تو ڈوبتے کو تنکے کا سہارا کے مصداق انہوں نے اس پر فوری رضامندی کا اظہار کرتے ہوئے جاوید ہاشمی کو پیغام بھیجا کہ عمران خان کی موجودہ طاقت اور اس کے بڑھتے ہوئے حملوں سے ان کی تین دہائیوں سے زیا دہ عرصہ کی بادشاہت لرزاں ہے۔ اب ایک تم ہی رہ گئے ہو جو

میری بادشاہت کو عمران خان سے محفوظ رکھنے کیلئے مجھے سہا را دے سکتے ہو اس لئے میں چاہتا ہوں کہ آپ میرے دستے میں شامل ہو جائیں۔ مخدوم جاوید ہاشمی نے اپنی کچھ مجبوریوں کی بنا پر پیش کش قبول تو کر لی ہے لیکن اپنے قریبی ساتھیوں سے بڑی رازداری سے کہہ رہے ہیں کہ”بات اگر جاوید ہاشی تک پہنچ گئی ہے تو سمجھو میاں صاحب کی بادشاہت گئی‘‘۔ ہاشمی صاحب کے اردگرد بیٹھے ہوئے پیروکاروں نے جب اس پر حیرانی کا مظاہرہ کیا تو اس پر مخدوم صاحب نے اپنے گرد بیٹھے ہوئے ساتھیوں کو خانیوال کی تابو مائی کا ایک قصہ سناتے ہوئے کہا جب دوسری جنگ عظیم اپنے زوروں پر تھی اور برطانوی سلطنت کے انگریز بادشاہ کو اپنی سالمیت اور زیر کنٹرول کالونیز کو جرمنی اور جاپانی فوجوںکی دسترس سے بچانے کیلئے اپنے زیر قبضہ علا قوں سے آگ اور بارود کے دریا میں جھونکنے کیلئے انسانی جسموں کی ڈھال چاہئے تھی جو اس کی بادشاہت بچانے کیلئے اس کے جگہ جگہ بکھرے ہوئے جنگی محاذوں پر کہیں جرمن تو کہیں جاپانی فوجوں کا مقابلہ کر سکیں تو اس سلسلے میں ہندوستان بھر میں جگہ جگہ فوجی بھرتی کے کیمپ قائم لگا دیئے گئے۔ اس کے علاوہ

ہندوستان کے ہر ضلع اور تحصیل کے با اثر لوگوں کو حکم دیا گیا کہ وہ اپنے اپنے علا قوں میں پڑھے لکھے اور ان پڑھ ہر قسم کے نوجوانوں کو فوج میں بھرتی کرائیں۔ پچاس اور اس سے زائد جوانوں کو فوج میں بھرتی کرانے کی شاہی خدمات انجام دینے والوں کو انگریز بادشاہ کی جانب سے وسیع زرعی اراضی انعام کے طور پر دی جاتی تھی آج کے بہت سے نواب اور جاگیردار اپنے علاقوں کے غریب لوگوں کو زبردستی فوج میں بھرتی کرانے کے عوض کئی کئی مربع زمینوں کے مالک بنے ہوئے ہیں۔انگریز حکومت کو ہندوستان کے ایسے علا قوں سے فوج میں بھرتی کیلئے جوانوں کی ضرورت تھی جو بزدلی سے دور اور لڑائی سے بھاگنے والوں میں سے نہیں تھے۔ دوسرے لفظوں میں جنہیں جنگی زبان میں مارشل قومیں کہا جاتا ہے اس سلسلے میں ملتان سے انگریز کی سی آئی ڈی والوں نے ڈپٹی کمشنر کو رپورٹ دی کہ خانیوال کی ایک تحصیل میں تابومائی نام کی ایک بہت ہی نیک دل اور مذہبی دعائوں سے فیض یاب کرنے والی ایک معمر خاتون ہے جس کا اپنے علا قے میں بہت زیا دہ عزت و احترام ہے اور دوردور علا قوں کے لوگ اور خواتین اس کی کسی بات

سے انکار نہیں کرتے اگر وہ کہے تو تمام نوجوان فوج میں بھرتی کیلئے دستیاب ہو سکتے ہیں کیونکہ تابو مائی کے حکم کے بعد اس علاقے کی عورتیں بھی اپنے مردوں اور بیٹوں کو انگریزی فوج میں بھرتی ہونے سے نہیں روکیں گی۔ یہ رپورٹ ملتے ہی شام کو ملتان کے ڈپٹی کمشنر کے بھیجے ہوئے سرکاری ہرکارے نے گائوں کے نمبردار کے ہمراہ تابومائی کے گھر کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہوئے اسے انگریز سرکار کا پیغام پہنچایا کہ اس اتوار کو علا قے کا بڑا مجسٹریٹ تم سے ملنے کیلئے آرہا ہے کیونکہ انہیں جرمنی اور جاپان کے حملوں سے اپنی بادشاہت بچانے کیلئے تمہاری مدد کی ضرورت پڑ گئی ہے۔۔۔تابو مائی بے چاری اس سے بے خبر تھی کی انگریز بادشاہ کی کسی سے لڑائی ہو رہی ہے وہ تو یہ جانتی تھی کہ انگریز ان کا بادشاہ ہے اور ہم سب ہندوستانی ا س کے غلام ہیں اور انگریز سے بڑی طاقت دنیا میں اور کوئی نہیں کیونکہ اس نے سن رکھا تھا کہ پوری دنیا پر انگریز ہی بادشاہ ہے۔خانیوال کی تابو مائی نے حیران ہو کر نمبر دار اور اپنے سامنے بیٹھے ہوئے ملتان کے ڈپٹی کمشنر کے بھیجے گئے سرکاری ہرکارے کی جانب دیکھ کرکہا” پتر اگر بات

یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ انگریز کو اپنی بادشاہت بچانے کیلئے تابو مائی جیسوں کی ضرورت پڑ نے لگی ہے تو میری یہ بات لکھ لو کہ اب انگریز کی بادشاہت ختم ہونے والی ہے” بھلا کہاں خانیوال کے اس چھوٹے سے گائوں کی بوڑھی اور غریب سی تابو مائی اور کہاں دنیا بھر کا انگریز بادشاہ‘‘۔ جس طرح تابو مائی انگریز بادشاہ کے احکامات بجا لا نے پر مجبور تھی اسی طرح اسلامی جمہوری اتحاد کے اہم کردار ہونے کی وجہ سے سرکاری اداروں سے مبینہ طور پر” مال و دولت بطور نذرانہ وصول کرنے کے الزامات پر سپریم کورٹ میں 6 برس قبل دیئے جانے والے فیصلے اور اب ایک بار پھر سپریم کورٹ میں اس کی باز گشت نے مخدوم جاوید ہاشمی کو نواز لیگ کا سہارا لینے پر مجبور کر دیا ہے اور وہ ایک جانب عمران خان کے خلاف گزشتہ تین برسوں سے لگائے جانے والے الزامات کو پالش کرکے نواز فیملی کی بادشاہت بچانے کیلئے جگہ جگہ پریس کانفرنس اور افطار پارٹیوں سے خطاب کرتے ہوئے اپنی روزی حلال کرنے کی کوشش کریں گے تو ساتھ ہی پاکستان کے ایک ایک انچ کی حفاظت کرنے والی ملکی افواج کے خلاف مہم چلانے کی کوشش کریں گے۔

۔شنید ہے کہ بلوچستان سے محمود خان اچکزئی سمیت پنجاب سے مخدوم جاوید ہاشمی کو یہ اہم ٹاسک سونپ دیا گیا ہے۔ اچکزئی کی قومی اسمبلی میں کی گئی تقریر اور منظور پشتین کے اسرائیل اور بھارت کے حق میں لگائے جانے والوں نعروں اور آزاد پختونستان کے نام سے ریلیا ںور اداروں کو دی جانے ولای ننگی گالیوں سے اس کا باقاعدہ آغاز کیا گیا ہے۔افغانیہ نام سے میانوالی اور اٹک کو شامل کرتے ہوئے ایک نئے آزاد ملک کا نعرہ اچکزئی کی پارلیمنٹ کے ایوان میں کی جانے والی تقریر ” نواز اچکزئی بھائی بھائی ‘‘ کی صورت میں کسی سے پوشیدہ نہیں رہا۔میرے استاد محترم گوگا دانشور پوچھتے ہیں کہ میاں نواز شریف اور مریم صفدر اپنی ہر میڈیا ٹاک اور جگہ جگہ کئے جانے والے جلسوں سے خطاب کے دوران جب عمران زرداری بھائی بھائی کے نعرے لگوا رہے ہیں تو تحریک انصاف اٹک اور میانوالی کو پاکستان سے توڑکر افغانیہ نام سے ایک نئی سلطنت کااسلام آباد میں نواز حکومت کے زیر سایہ بطور ایک سرکاری مشیر کھڑے ہو کر” افغانیہ‘‘ کی آواز بلند کرنے والے کیلئے” نواز اچکزئی بھائی بھائی‘‘ کا نعرہ کیوں نہیں لگواتی؟۔میرے پاس گوگا دانشور کی اس بات کا کوئی جواب دینے کیلئے نہ تو وقت ہے اور نہ ہی کوئی حق۔۔۔۔تحریک انصاف جانے ا ور نواز لیگ جانے۔۔!! ( منیر احمد بلوچ کا شمار پاکستان کے سینئر صحافیوں میں ہوتا ہے اور وہ روزنامہ دنیا میں کالم لکھتے ہیں )