نوازشریف کا ہدف۔آئی ایس آئی کیوں؟…(1)

آج سے 22 سال قبل ٹیکساس کے دارالحکومت آسٹن کے شہر میں موجود ٹیکساس یونیورسٹی کے اسکول آف پبلک پالیسی میں ایک ایسی بریفننگ میں شریک ہوا جو وہاں کے انسانی حقوق پر کام کرنے والے پروفیسروں اور ریسرچ سکالرز نے دی تھی۔ یہ بریفننگ سزائے موت کے خلاف تھی اور اس دوران ایک قیدی کی فون پر گفتگو بھی براہ راست سنائی گئی تھی جو وہاں جیل کے ڈیتھ سیل میں موت کا انتظار کر رہا تھا۔ چونکہ پورا وفد پاکستان کے افراد پر مشتمل تھا تو ایسے میں پاکستان میں جمہوریت، فوج، آئی ایس آئی وغیرہ کا ذکر آنا تو ایک معمول کی بات تھی۔ یونیورسٹی کے پروفیسروں کی پاکستان میں غیرمعمولی دلچسپی اور بے پناہ علم نے مجھے حیرت میں ڈال دیا۔میں اس وقت پاکستان کے ایک اہم ضلع میں ڈپٹی کمشنر تھا لیکن ان گنت ایسے معاملات تھے جن کے بارے میں ان کا علم مجھ سے بہت زیادہ تھا۔ اس دوران جو سوال پوچھے جارہے تھے وہ افغانستان میں طالبان کے اچانک عروج کے متعلق تھے۔ انہیں جب اس بات کا علم ہوا کہ میں 88-1987 میں پاکستان کے سرحدی شہر چمن میں اسسٹنٹ کمشنر رہا ہوں اور یہ وہی زمانہ تھا جب نوجوان ملامحمدعمر وہاں ایک مدرسے میں پڑھاتا تھا اور افغان جہاد میں سرگرم عمل تھا تو ان کا تجسس بہت بڑھ گیا۔

لاتعداد ایسے سوالات پوچھے گئے جن سے وہ یہ مطلب نکلوانا چاہتے تھے کہ ملا محمد عمر اور اس کے طالبان کو آئی ایس آئی نے بنایا ہے۔ ان کے لیے یہ ناقابل یقین بات تھی کہ افغان جنگ میں ان کی سی آئی آئے، برطانیہ کی ایم آئی اور دیگر چھ ایجنسیوں نے مل کر آئی ایس آئی کو مضبوط کیا اور پھر افغان جہادی گروہوں کو اس کے ذریعے ہر طرح کی مدد فراہم کی، پھر وہ جیسا لڑتا اور خونریزی میں ڈوبا ہوا افغانستان چھوڑ کے جانا چاہتے تھے ویسا ہی وہ 1988 میں سے روس کے انخلا کے بعد چھوڑ گئے۔ ایک گروہ دوسرے گروہ سے لڑ رہا تھا اور افغانستان کھنڈر ہو رہا تھا۔ انہیں یہ شک تھا کہ پاکستان کی آئی ایس آئی نے طالبان کو منظم کیا ہے تاکہ افغانستان میں ایک پرامن حکومت قائم ہو سکے۔ یوں آئی ایس آئی نے پہلی دفعہ امریکی سرکردگی سے اپنے آپ کو علیحدہ کیا۔ وہ میرے اس جواب سے مطمئن نہ ہوئے کہ قندھار بلکہ اس سے کئی سو مربع کلومیٹر پر قبضہ حاصل کرنے تک آئی ایس آئی والے خود سوال کرتے پھرتے تھے کہ یہ طالبان کون ہیں اور کہاں سے نکل آئے ہیں۔ ہوسکتا ہے یہ خاتون ان نوجوانوں ریسرچ فیلوز میں موجود ہوں یا پھر اسے پاکستان کے بارے میں امریکی نقطہ نظر کے تعصب سے رنگین معلومات اس یونیورسٹی میں آنے کے بعد پہلے ملی ہوں۔ ڈیانا بول سنگر “Diana Bolsinger”اس وقت اس یونیورسٹی کے لندن بی جانسن سکول آف پبلک پالیسی میں پی ایچ ڈی کر رہی ہے اور اس کا موضوع ہے “امریکی خارجہ پالیسی اور مسلم دنیا کی مذہبی اور نظریاتی تحریکوں کا ردعمل”۔ لیکن یہ خاتون ہماری طرح براہ راست پی ایچ ڈی کرنے نہیں چلی گئی۔ وہ امریکہ کے دفتر خارجہ میں بہت سی پالیسی ساز ذمہ داریوں پر فائز رہی، اسلام آباد، سراٹیگو، بوسنیا اور شمالی کوریا کے سفارت خانوں میں کام کیا۔ اس سے پہلے اس نے جارج ٹاؤن یونیورسٹی، نیو میکسیکو یونیورسٹی اور میری مونٹ یونیورسٹی سے تین مختلف مضامین، انٹرنیشنل افیئرز، اور حکومت و سیاست میں ایم اے کیے۔ ڈیانا نے کچھ عرصہ پہلے امریکہ کے ایک انتہائی معتبر رسالے “فارن پالیسی جنرل” میں پاکستان کی آئی ایس آئی کے بارے میں چھپنے والی دو کتابوں پر انتہائی بسیط تبصرہ کرتے ہوئے اس کے کردار پر گفتگو کی ہے۔

اس کے مضمون کا عنوان ہے “Pakistan’s ISI and it’s war for National survival “’’پاکستان کی آئی ایس آئی اور قوم کو بچانے کی جدوجہد‘‘۔ اس عنوان میں سب سے پہلے ان کتب کا ذکر کیا ہے جو آئی ایس آئی کے کردار کو بدنام کرنے کے لئے لکھی گئی جن میں اس کا دہشت گرد گروپوں سے رابطے اور سی آئی سے تعلق کو منفی انداز سے پیش کیا گیا ہے اور ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ یہ ملکی اور عالمی امن کے لیے خطرہ ہے۔ ان میں پہلی کتاب سٹیو کول نے لکھی “Ghost Wars”(خفیہ جنگیں) دوسری کتاب احمد رشید نے تحریر کی “Descent into chaos”(ابتری کا سفر) اور تیسری کتاب حسین حقانی کی ہے Pakistan Between Mosque and military (پاکستان مسجد اور فوج کے مابین)۔ اس کے نزدیک یہ تینوں کتابیں بنیادی طور پر کسی مقصد کے تحت لکھی گئی ہیں اور اس میں آئی ایس آئی کو بحیثیت ایک ادارہ اور ایجنسی کے طور پر نہیں دیکھا گیا۔ اس طرح متعصب کتابوں کے علاوہ گزشتہ تاریخ میں آئی ایس آئی پر کسی نے کوئی سنجیدہ کام نہیں کیا۔ ڈیانا کے لیے یہ حیرت کا سبب ہے کہ گزشتہ ایک سال میں ہی وہ انتہائی سنجیدہ کتابیں مارکیٹ میں آئی ہیں جنہوں نے آئی ایس آئی کا ایک خفیہ ایجنسی کے طور پر تفصیلی جائزہ لیا۔

ان میں پہلی کتاب “Hein G. kiessling” جی کسلنگ کی ہے جس کا نام Faith, Unity and Discipline: The ISI of Pakistan”یقین محکم اتحاد, تنظیم: پاکستان کی آئی ایس آئی”۔ اس کتاب میں ایک طویل اور جانگسل تحقیق ہے۔ کسلنگ تقریبا بیس سال پاکستان میں رہتا رہا ہے اور اس کا پاکستان کے اہم ترین جرنیلوں اور سیاستدانوں سے مسلسل رابطہ رہا ہے۔ میرا خیال تھا کہ جنرل محمود نے صرف مجھے ہی انٹرویو دیا ہے لیکن میری حیرت کی انتہا تھی کہ جب کسلنگ بھی جنرل محمود سے انٹرویو لینے میں کامیاب ہو گیا۔ یہ کتاب آئی ایس آئی کی ایک بہتر تصویر کو اجاگر کرتی ہے۔ وہ اس ایجنسی کے اس کردار کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے کہ یہ اپنے ملک میں خفیہ طور پر تحریکیں چلواتی ہے اور حکمرانوں کو معزول کرواتی ہے۔ اس نے لکھا ہے کہ آئی ایس آئی کا سیاسی قیادت کے ساتھ اختلاف بھی بہت حد تک اصولی ہوتا ہے۔

کسلنگ تو اپنی اس کتاب میں اس حد تک گیا ہے کہ اس نے بلوچستان کے لاپتہ افراد کی طویل فہرست کا جائزہ لیتے ہوئے لکھا ہے کہ ان میں سے اکثر ان لوگوں کے نام شامل ہیں (1) جو وجود ہی نہیں رکھتے (2) جو مارے گئے اور ساتھیوں نے ان کی لاشوں کو چھپا دیا (3) ایسے لوگ جو افغانستان، ایران اور بھارت چلے گئے، بلکہ یہاں تک کہ ان ذہنی مریضوں کے نام بھی اس فہرست میں شامل کر دیئے جو گھر چھوڑ کر بھاگے اور اب تک لاپتہ ہیں۔ لیکن ڈیانا کہ نزدیک دوسری کتاب زیادہ مضبوط ہے۔ یہ کتاب Owen L.sirrsنے تحریر کی ہے۔ یہ شخص بنیادی طور پر امریکی خفیہ سروس میں نوکری کرتا رہا ہے اور اس کی صلاحیتیں مشرق وسطیٰ کے بارے میں بہت زیادہ ہیں۔ اس کی پہلی دونوں کتابیں مصر کے بارے میں ہیں۔ یہ بھی ڈیانا کی طرح جارج ٹاؤن یونیورسٹی کا پڑھا ہوا ہے لیکن اس نے امریکہ کے نیشنل ڈیفنس انٹیلیجنس کالج سے ایم ایس اور نیول وار کالج سے ایم اے کیا ہوا ہے۔ اس کی کتاب کا نام ہے Pakistan’s interservice intelligence directorate: corect action and internal operations.” پاکستانی آئی ایس آئی، خفیہ مہمات”۔ یہ واحد کتاب ہے جو آئی ایس آئی کی نظریاتی اساس کو 1947 میں تخلیق پاکستان سے شروع کرتی ہے اور پھر بنگلہ دیش کی تخلیق سے ایک نئے رول میں جنم لیتے ہوئے طالبان کے ظہور پر بحث کرتی ہے۔ اس کتاب میں ان تمام وجوہات کا ذکر کیا گیا ہے کہ کیسے سیاسی قیادت سے اختلاف پیدا ہوتا ہے اور کیا آئی ایس آئی واقعی ایک آزاد و خودمختار ادارہ ہے؟ (جاری ہے)